سیاست

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی سیاسی تاریخ پر ایک نظر

آفتاب مہمند

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا تعلق بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ مسلم باغ سے ہے۔ وہ مسلم باغ میں 1971 کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق علاقہ کان مہترزئی اور پشتونوں کے معروف قبیلے کاکڑ سے ہے۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ کے ایک نجی سکول سے حاصل کی۔ زمانہ طالبعلمی میں کیڈٹ کالج کوہاٹ میں بھی حصہ لیا تھا جہاں سے انہوں انٹر تک پڑھا۔ تاہم والد کے انتقال کے باعث واپس اپنے آبائی علاقے میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے گئے۔ انوار الحق کاکڑ نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے پولیٹیکل سائنس میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ کوئٹہ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور سوشیالوجی میں دو ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔

انوار الحق کاکڑ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی سکیورٹی ورکشاپس کا بھی حصہ رہے ہیں۔ انہیں مادری زبان پشتو کے علاوہ انگلش، فارسی، بلوچی، اردو اور براہوی زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ انوار الحق بلوچستان کو درپیش مسائل پر گہری بصیرت رکھتے ہیں جبکہ ان کی دانشورانہ سوچ اور بصیرت کے باعث ملکی اعلی یونیورسٹیز اور غیر ملکی یونیورسٹیز، جن میں ہارورڈ اور برسلز جیسے تعلیمی ادارے شامل ہیں، کے مثبت اور گہری سوچ کے متعرف ہیں۔

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی سیاسی تاریخ پر ایک نظر

‏بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے انوار الحق کاکڑ 2018 میں سینیٹر منتخب ہوئے اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سمندر پار پاکستانی و پارلیمانی ریسوس کے چئیرمین رہیں۔ اسی طرح سنیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع، خارجہ، پارلیمانی امور کے فعال ممبر رہے۔

انوار الحق کاکڑ بلوچستان کی سیاست میں پہلی بار 2008 میں منظر عام پر آئے تھے۔ اس سے قبل انوار الحق کاکڑ بطور اورسیز پاکستانی برطانیہ میں مقیم تھے تاہم 2008 میں بلوچستان کی سیاست میں انٹری کے بعد انہوں نے پہلی بار 2008 میں مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پر کوئٹہ سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا جو کہ ہار گئے تھے اور دوسری پوزیشن پر رہے۔ اس کے بعد انوار الحق نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا اور ن لیگ میں متحرک رہے۔

انوار الحق سال 2015 سے 2017 تک سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری کے ترجمان تھے۔

سال 2018 کے آغاز میں بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت کے خاتمے کیلئے اٹھنے والی بغاوت میں انوار الحق کاکڑ بھی سرفہرست تھے اور نواب زہری کیخلاف عدم اعتماد میں پیش پیش رہے۔ بعد میں وہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے ساتھ تھے۔ سال 2018 میں قدوس بزنجو کی آشیر باد سے انوار الحق آزاد حیثیت سے سینیٹر منتخب ہوئے۔

سال 2018 سے وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی ترجمان بنے۔ انوار الحق کا شمار بلوچستان عوامی پارٹی کے بانی رہنماوں میں ہوتا ہے۔ تاہم انور الحق کاکڑ اس وقت جام کمال کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں اور آخری سیاسی ملاقات انوار الحق کاکڑ نے گزشتہ ماہ سینئر نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز سے جام کمال کے ہمراہ ملاقات کی۔

انوار الحق نہ صرف بلوچستان کی سیاست میں انتہائی متحرک رہے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ملکی و بین الاقوامی سطح پر بھی بلوچستان کے حوالے سے ایک توانا آواز سمجھے جاتے ہیں۔ انوار الحق کاکڑ کی سفارتی کوششوں کے باعث بین الاقوامی میدان میں ریاست کے مثبت اور معاون نقطہ نظر کو پیش کرنے کے لیے مضبوط تحریک پیدا کرنے میں مدد ملی اور بیرون ملک ریاست مخالف عناصر کی جانب سے کیے جانے والا منفی اور جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ہوا اور ان کے ہنر مندانہ خطاب کے نتیجے میں عالمی برادری اور بلوچستان حکومت کے حق میں پالیسی میں کئی مثبت تبدیلیاں آئیں۔ انہوں نے امریکہ، برطانیہ، روس، آسٹریلیا سمیت کئی ممالک کے دورے کئے ہیں۔

پاکستان میں نگران وزرائے اعظم کی مختصر تاریخ

اگست 1990 میں غلام مصطفی جتوئی ملکی تاریخ کے پہلے وزیر اعظم بنے۔ اپریل 1993 میں بلخ شیر مزاری دوسرے جبکہ جولائی 1993 کو معین الدین احمد قریشی تیسرے نگران وزیر اعظم بنے تھے۔ اسی طرح نومبر 1996 کو ملک معراج خالد چوتھے، نومبر 2007 کو میاں محمد سومرو پانچواں، مارچ 2013 کو میر ہزار خان کھوسو چھٹے جبکہ جسٹس ناصر المک مئی 2018 میں ملکی نگران وزیر اعظم بنے تھے۔

اب انوار الحق کاکڑ ملک کے آٹھویں اور اگر بلوچستان کی بات کیجائے تو وہاں سے دوسرے نگران وزیر اعظم ہیں جیسا کہ ملکی دوسرے نگران وزیراعظم بلخ شیر مزاری کا تعلق بھی صوبہ بلوچستان سے تھا۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button