سیاست

خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلیوں پر انتخابات میں تاخیر، سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے باوجود پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں پر انتخابات میں غیرضروری تاخیر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے انتخابات 8 اکتوبر کو کرانے کے اعلان پر سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی ہے جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان، گورنرخیبرپختونخوا، وفاقی حکومت،چیف سیکرٹری پنجاب اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

بیرسٹر گوہر علی خان کی وساطت سے آئینی درخواست سابق سپیکر پنجاب اسمبلی محمد سبطین خان، سابق سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی ،سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی اسد عمر سمیت دیگر نے دائر کی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے یکم مارچ 2023 کو صدر مملکت اور گورنر خیبرپختونخوا کو احکامات جاری کئے تھے کہ وہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان کریں او ریہ کہ آئین کی رو سے ان اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات 90روز کے اندر اندر ہونے چاہیے۔

درخواست کے مطابق پنجاب اسمبلی 14 جنوری 2023 جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی 18جنوری کو تحلیل کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے بھی اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ 90 روز گزرنے کے بعد یہ متوقع ہے کہ الیکشن میں تاخیر کے لئے بہانے بنائے جائیں تاہم سپریم کورٹ نے تمام وفاقی اور نگران حکومتوں اور انتظامی اتھارٹیز کو انتخابات کے انعقاد کے لئے فنڈز، سیکیورٹی اور دیگرانتظامات کرنے کے بھی احکامات جاری کئے تھے جبکہ یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری تھی کہ وہ مقررہ تاریخ پر الیکشن کا انعقاد کرتے۔

درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کے ساتھ مشاورت کے بعد 30 اپریل کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کا اعلان کیا تاہم گورنرخیبرپختونخوا سپریم کورٹ کے فیصلہ کی تعمیل نہیں کی جس پر ان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ اس دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی اپنے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں رد و بدل کرتے ہوئے الیکشن کی نئی تاریخ دیدی اور قرار دیا گیا کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات 8 اکتوبر کو منعقد کئے جائیں گے جو نہ صرف آئین بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 22 مارچ 2023 کو الیکشن کمیشن نے انتخابات کیلئے نئی تاریخ دیکر تین مرتبہ آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں جس نے اسمبلی تحلیل کے بعد الیکشن کیلئے 90 روز کی مدت کی بجائے یہ مدت بڑھا کر 267 روز کردی ہے جو ایک طرح سے آئین میں ترمیم کے مترادف ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے پاس یہ اختیار موجود نہیں ہے۔ اس طرح سپریم کورٹ کے یکم مارچ کے فیصلے کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ ایک آئینی اور عوامی مفاد کا مسئلہ ہے جس سے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں کے بنیادی وآئینی حقوق سلف ہونے کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ ایک جمہوری ملک میں لوگوں کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔

اس موقع پر سپریم کورٹ کی مداخلت اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ انتخابات میں تاخیر کی جارہی ہے جبکہ اس ضمن میں غیر ضروری قانون سازی بھی ہونے کا اندیشہ ہے۔ درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو غیرآئینی قراردیکر کالعدم قراردیا جائے اور الیکشن کمیشن کو احکامات جاری کئے جائیں کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مقررہ وقت پر الیکشن منعقد کرائے ۔ درخواست پر سماعت جلد متوقع ہے ۔

Show More

Salman

سلمان یوسفزئی ایک ملٹی میڈیا جرنلسٹ ہے اور گزشتہ سات سالوں سے پشاور میں قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ مختلف موضوعات پر کام کررہے ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

Back to top button