سیاست

افغانستان کی تعمیر نو کے اضافی مشن کو نیٹو پورا نہ کر سکا۔ سیکرٹری جنرل

نیٹو کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ لیٹویا میں افغان مشن سے سیکھنے والے نتائج پر مرتب رپورٹ پر بحث کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ نیٹو عسکری اتحاد 18 سال تک افغانستان میں موجود رہا۔

میٹنگ سے قبل نیٹو کے سیکرٹری جنرل ڑینس اسٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ نیٹو افغانستان میں مشن کریپ یا اپنے اصل اہداف سے ہٹ جانے کا شکار ہوا اور عسکری اتحاد کو افغانستان کی تعمیر نو میں دھکیل دیا گیا تھا۔

سٹولٹن برگ کے مطابق نیٹو افغانستان میں اس لیے گیا تھا تاکہ افغانستان کے دہشت گردوں کو ہم پر حملے کرنے سے روکا جا سکے لیکن اس کامیابی کو حاصل کرنے کے باوجود بین الاقوامی کمیونٹی نے ہمارے اصل ہدف کے علاوہ ہم پر ایک اور ذمہ داری ڈال دی تھی۔

نیٹو کے سربراہ کے مطابق یہ ذمہ داری دہشتگردوں کو شکست دینے کے علاوہ ایک اضافی ذمہ داری تھی جو کہ ہم پوری نہ کر سکے۔

نیٹو نے سن 2003 میں انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس نے افغانستان میں ذمہ داری سنبھالی تھی۔ سن 2001 میں امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے کا مقصد القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پناہ فراہم کرنے والے طالبان کو شکست دینا تھی۔

نیٹو مشن کا ایک اہم مقصد افغان آرمی کو منظم اور اس قابل بنانا تھا کہ وہ طالبان کے خلاف ملک کی سکیورٹی سنبھال سکیں۔ نیٹو نے تین لاکھ فوجیوں پر مشتمل افغان فوج کو عسکری تربیت دی لیکن یہ فورس مالی بدعنوانیوں کا شکار رہی۔ یہی وجہ ہے کہ افغان فوج میں اہلکاروں کی اصل تعداد کا تعین کرنا آسان نہیں تھا۔

 

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button