لائف سٹائل

طورخم کے راستے مزید 577 خاندان افغانستان واپس چلے گئے

 

غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد دسویں روز 577 خاندان طورخم کے راستے واپس افغانستان چلے گئے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق رات گئے تک طورخم بارڈر کے راستے 577 خاندان جن میں 3605 افراد شامل تھے افغانستان واپس چلے گئے۔

گزشتہ دن اور رات گئے ضلع خیبر لنڈیکوتل انٹری ہولڈنگ پوائنٹ کیمپ میں نادرا موبائل وین میں ڈیٹا رجسٹرڈ کرنے والے 261 خاندان جبکہ سپیشل اجازت نامے پر 316 خاندان واپس چلے گئے۔ 206 افغان شہریوں کو ڈیپورٹ کر دیا گیا۔

ضلع خیبر لنڈی کوتل حمزہ بابا مزار کے ساتھ قائم افغانستان جانے والے افغان خاندانوں کے لئے ہولڈنگ پوائنٹ کیمپ میں افغان شہریوں کو الخدمت فاونڈیشن اور دیگر مخیر حضرات کی طرف سے کھانا، کمبل، ادویات، جوتے، چادریں اور دیگر سامان فراہم کیا جاتا ہے۔ بعد میں تمام افغان خاندانوں کو فلائنگ کوچز کے ذریعے لنڈی کوتل کے مقامی پولیس کے جوانوں کی خصوصی سیکورٹی میں طورخم بارڈر کے راستے افغانستان بھیجا جاتا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یکم اکتوبر سے لیکر 10 نومبر یعنی 40 دنوں کے دوران طورخم بارڈر کے راستے 2لاکھ افراد جن میں مرد خواتین اور بچے شامل ہیں افغانستان واپس جاچکے ہیں۔

خیال رہے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف پیر کے روز سے آپریشن شروع کیا جاچکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر رہائش پذیر، غیر ملکیوں کی شناخت پہلے ہی کی جاچکی ہے۔ غیر ملکیوں کو پکڑ کر پہلے ہولڈنگ پوائنٹ منتقل کیا جائے گا، اس کے بعد انہیں ڈی پورٹ کیا جائے گا۔

غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو پاکستان چھوڑنے کے لیے دی گئی مہلت یکم نومبر کو ختم ہوچکی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغان شہریوں کو ضلع خیبر لنڈیکوتل انٹری پوائنٹ کیمپ میں رجسٹرڈ ہونے کے بعد طورخم بارڈر کے راستے افغانستان جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button