لائف سٹائل

گلگت کی تاریخ میں پہلی بار یونین آف جرنلسٹ کے انتخابات میں خاتون صحافی صدارتی امیدوار

 

ناصرزادہ

گلگت کی تاریخ میں پہلی بار یونین آف جرنلسٹ کے انتخابات میں خاتون صحافی کرن قاسم میدان میں آگئی۔ گلگت میں یونین اف جرنلسٹ کے انتخابات سات سال بعد ہورہے ہے۔ کرن قاسم کے مطابق صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے یونین کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ٹی این این کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کرن قاسم نے بتایا کہ ان کا تعلق گلگت شہر ہے۔ انہوں نے 2010 کے اخر میں صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شروع شروع میں گھروں والوں کے ساتھ علاقے کے لوگوں کا پریشر بھی برداشت کرنا پڑا۔

لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے تھے کہ صحافت مردوں کا کام ہے اس میں خاتون صحافی کا کیا کام کیا اب خاتون مردوں کا انٹرویو کریں گی۔ کرن قاسم نے مزید کہا کہ صحافت ان کا پسندیدہ پروفیشن ہے ان کے رشتہ دار ان کو کہتے تھے کہ صحافت کو چھوڑ دو استانی بن جاؤ لیکن انہوں نے صحافت کو جاری رکھا۔

گلگت یونین اف جرنلسٹ کی صدارتی امیدوار کرن قاسم نے کہا کہ ان کے صحافت میں انے کے بعد اب گلگت میں پانچ اور خواتین صحافی مختلف اداروں کے ساتھ کام کرتی یں۔ اپنی صحافتی زندگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انہوں نے خواتین کے مسائل اور ان کے کام کو میڈیا پر ہائی لائٹ کیا۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کیا جس کی وجہ سے گلگت کے عوام اب ان کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہے۔

کرن قاسم نے بتایا کہ یونین اف جرنلسٹ کے انتخابات میں حصہ لینے میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں تھی تاہم ینگ جرنلسٹ اور ان کے ساتھی مرد صحافیوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان کو قائل کیا کہ وہ یونین اف جرنلسٹ میں صدارتی امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیں۔

گلگت یونین اف جرنلسٹ کے انتخابات کل پانچ اکتوبر کو ہونگے جس کے لیے دو پینل مد مقابل ہے۔ کرن قاسم نے اپنے پینل کی طرف سے صدارت کے لیے کاغذات جمع کیے ہے۔ ان کے پینل میں ایک اور خاتون ینگ صحافی نائب صدارت کی امیدوار ہے۔

کرن قاسم نے بتایا کہ اگر وہ یونین کا صدارتی الیکشن جینے میں کامیاب ہوئی تو صحافیوں کے فلاح و بہبود کے لیے کام کریگی۔ گلگت میں صحافیوں کو بہت سے مشکلات درپیش ہے ان کے حل کے لیے کوشش کریگی اور اس فیلڈ میں خواتین صحافیوں کو لانے کے لیے اقدامات کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ جس طرح نیشنل اور مقامی میڈیا نے  حوصلہ افزائی کی ہے اور ہر موقع پر ان کا ساتھ دیا اس سے ان کا جذبہ اور بھی بڑھا ہے اور صحافت میں مزید دلچسپی پیدا ہوئی ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button