لائف سٹائل

سوات: صحافی فیاض ظفر کو کیوں گرفتار کیا گیا تھا؟

سلمان یوسفزئی

‘رات گئے کام ختم کر کے دفتر سے نکلا تو نیچے پہنچ کر کیا دیکھا کہ پولیس کی گاڑیاں کھڑی ہیں۔ انہوں نے بغیر کچھ پوچھے کہے مجھے گرفتار کر کے گاڑی میں ڈال دیا۔ میں نے گرفتاری کی وجہ پوچھی تو مجھے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔’

یہ کہنا تھا خیبر پختونخوا کے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے صحافی فیاض ظفر کا جنہیں 30 اگست کو ڈپٹی کمشنر سوات کی ہدایت پر سوات پولیس نے تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا تھا۔

سوات میں وائس آف امریکا ( ڈیوہ) کے نامہ نگار فیاض ظفر نے مزید بتایا: ‘میں نے پولیس سے گرفتاری کی وجہ پوچھی لیکن انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ لیکن جب ہم ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات شفیق اللہ گنڈا پور کے گھر کے قریب پہنچے تو وہاں پولیس نے مجھے وارنٹ دکھا کر کہا کہ ہم آپ کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کر رہے ہیں۔’

ان کے بقول وہ کافی عرصے سے علیل اور چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔ ان کی گاڑی ڈی پی او کے گھر کے باہر رہ گئی اور انہوں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا اور پولیس انہیں سوات جیل لے گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری کے بعد ان کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔

30 اگست کو ڈپٹی کمشنر سوات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا: ‘فیاض ظفر کو سوشل میڈیا اور نیوز چینلز پر جھوٹ پھیلانے، عوام کو حکومت کے خلاف اکسانے اور چند لوگوں کو بدنام کرنے کے الزام میں تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔’ تاہم صحافی فیاض ظفر نے ڈپٹی کمشنر سوات کی جانب سے جاری بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر کوئی بھی ایسی پوسٹ نہیں کی ہے جو جھوٹ پر مبنی ہو، اس میں عوام کو حکومت کے خلاف اکسایا یا کسی کو بدنام کیا گیا ہو۔ ان کے بقول انہوں نے روزنامہ مشرق کے لیے ایک خبر فائل کی تھی جس میں ذکر کیا گیا تھا کہ ‘تاجکستان سے پولیس ہیڈ کانسٹیبلز کے لیے جو سامان آیا تھا وہ سامان ڈپٹی کمشنر یا ان کے عملے نے بازار میں ساڑھے 7 کروڑ روپے میں بیچ دیا ہے۔ خبر میں متعقلہ ڈپٹی کمشنر کا مؤقف بھی شامل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے مجھے پولیس کے ذریعے تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کر لیا تھا۔’

خیال رہے کہ فیاض ظفر نے سوشل میڈیا پر اپنی گرفتاری کی اطلاع دی تھی کہ انہیں ڈپی کمشنر سوات اور ڈی پی او نے گرفتار کر لیا ہے۔

اس حوالے سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر سیاستدانوں، انسانی حقوق کے حامیوں اور صحافیوں نے ان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کے حق میں آواز اٹھائی جس کی بدولت ڈپٹی کمشنر نے تھری ایم پی او کا نوٹفیکیشن معطل کر کے ایک روز بعد ان کو رہا کر دیا۔ یاد رہے کہ اس واقعے کے حوالے سے ڈپی او سوات شفیق اللہ گنڈا پور نے موقف دینے سے انکار کیا تھا۔ اس سلسلے میں سوات پولیس سے رابطہ کیا گیا تاہم کوئی جواب تاحال موصول نہیں ہوا۔

‘بیٹیوں نے رو رو کر برا حال کر دیا تھا’

فیاض ظفر نے بتایا کہ جب وہ گرفتار ہوئے تو انہیں والدہ اور دو بیٹیوں کی فکر تھی۔ ان کی والدہ چونکہ دل کے عارضے میں مبتلا ہے اس وجہ سے ان کی گرفتاری کی اطلاع سے ان کی طبعیت مزید خراب ہونے کا خدشہ تھا۔ جبکہ بیٹیاں کم عمر ہیں اس لیے والد کی گرفتاری کی خبر ان کیلئے بھی ناقابل برداشت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بیٹیوں کو ان کی گرفتاری کا علم ہوا تو وہ رات گیارہ بجے سے ان کی رہائی تک مسلسل زارو قطار رو رہی تھیں۔ جب وہ گھر پہنچے تو انہیں علم ہوا کہ بچیاں پریشانی کے باعث سکول بھی نہیں گئی تھیں۔ فیاض نے الزام عائد کیا کہ اس واقعے کے بعد بھی انہیں مخلتف طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان پر ایک اور ایف آئی آر درج کرنے کی بھی اطلاعات تھیں لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر ان پر دوبارہ ایف آئی آر درج نہ ہو سکی۔

‘فیاض ظفر۔۔ ایک غیرجانبدار اور منجھے ہوئے صحافی’

سوات پریس کلب کے صدر رفیع اللہ خان نے بتایا کہ فیاض ظفر گزشتہ کئی سالوں سے وہیل چیئر پر بیٹھ کر صحافت کر رہے ہیں: "ان کی گرفتاری اور ان پر ہونے والا تشدد ایک شرمناک فعل تھا کیونکہ فیاض ظفر ایک غیرجانبدار اور منجھے ہوئے صحافی ہیں اور انہوں نے آج تک ایسا کوئی کام نہیں کیا کہ انہیں گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔”

رفیع اللہ نے مزید بتایا کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے آئی جی پولیس خیبر پختونخوا سے رابط کیا، انہیں اس معاملے سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ فیاض ظفر کو رہا کیا جائے۔ اگلی صبح سارے ممبران کو بلوا کر ایک لائحہ عمل طے کیا اور ایک جرگہ کے ذریعے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او سوات کو پیغام دیا کہ وہ صلح کر کے فیاض ظفر کو رہا کر دیں جس کے بعد ان کی رہائی ممکن ہوئی۔

رفیع اللہ خان کے مطابق پاکستان اور خصوصی طور خیبر پختونخوا میں صحافت کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اس سے قبل بھی صحافیوں کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا گیا، انہیں دھمکایا گیا، اغوا کیا گیا جبکہ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں صحافت کے لیے جو ماحول بنایا گیا ہے اس میں ساری ذمہ داری ایک صحافی پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اس قسم کے واقعات میں میڈیا ادارے اور مالکان بھی صحافی کا ساتھ نہیں دیتے اس لیے زیادہ تر صحافی رسک نہیں لیتے۔ تاہم فیاض ظفر ان سب خطرات کے باوجود اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ اس واقعے میں ان کے ادارے نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم واقعات سے متعلق پہلے بھی، اور آج بھی، صحافیوں میں تشوتش پائی جاتی ہے کیوںکہ ان کو معلوم ہے کہ اگر وہ غیرجانبداری کے ساتھ سچ بولتے اور لکھتے ہیں تو انہیں اس طرح اٹھایا جائے گا: "اگر ہم پاکستان میں صحافیوں کی حالت زار پر نظر ڈالیں تو انہیں سب سے پہلے معاشی طور پر کمزور رکھا گیا ہے اس لیے وہ آزادی اظہارِ رائے کا استعمال نہیں کر سکتے۔”

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر صحافتی تنظمیں اس قسم واقعات کی روک تھام کے لیےحقیقی معنوں میں اقدامات اٹھائیں تو ممکن ہے کہ کل کو کسی بھی صحافی پر اس قسم کا تشدد نہیں کیا جائے گا اور وہ بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔

تھری ایم پی او کا قانون پولیس کو کیا اختیارات دیتا ہے؟

اس قانون کا نام ‘مینٹیننس آف پبلک آرڈر’ ہے اور مختصراً اِسے تھری ایم پی او یا امنِ عامہ کی بحالی کا قانون کہا جاتا ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں کو نقصِ امنِ عامہ کے پیش نظر حراست میں لیا گیا ہے تو اس سے مراد یہی قانون ہوتا ہے۔

یہ قانون تقسیمِ ہند سے قبل انگریزوں کے دورِ سے چلا آ رہا ہے۔ پاکستان میں اس قانون کو معمولی ترامیم کے ساتھ جاری رکھا گیا ہے۔ اس قانون کی شق تین کے مطابق اگر حکومت کسی شخص کے بارے میں یہ سمجھتی ہے کہ وہ امنِ عامہ میں کسی بھی حوالے سے خلل کا باعث بن سکتا ہے تو وہ اس کو گرفتار کرنے یا حراست میں لینے کا حکم جاری کر سکتی ہے۔

اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ گرفتار شخص بعد میں بھی امنِ عامہ کے لئے خطرہ بن سکتا ہے تو وہ اس کی حراست کے دورانیے میں اضافہ بھی کر سکتی ہے لیکن ایسے شخص کو ایک وقت میں چھ ماہ سے زیادہ قید نہیں رکھا جا سکتا۔

قانون کے مطابق نقصِ امنِ عامہ کے خدشے کے پیش نظر اگر کسی شخص کی گرفتاری کا حکم جاری ہو تو پولیس کا سب انسپکٹر یا اس سے اوپر کی رینک کا کوئی افسر اس شخص کو وارنٹ دکھائے بغیر گرفتار کر سکتا ہے۔ اگر کسی شخص کو تین ماہ سے زائد عرصہ کیلئے قید رکھنا مطلوب ہو تو ہائی کورٹ ایک بورڈ تشکیل دے گی جو ان وجوہات کا جائزہ لے گا جن کی بنیاد پر گرفتار شخص کی حراست کا دورانیہ بڑھانا ناگزیر ہو سکتا ہے۔

اسی قانون کی شق 16 کے تحت افواہ سازی وغیرہ پر روک لگانے کے لیے کارروائی کی جا سکتی ہے۔

نقصِ امنِ عامہ کے قانون کی اس شق کو عرفِ عام میں ’16 ایم پی او’ بھی کہا جاتا ہے۔ اِس شق کے تحت اگر کوئی شخص ایسی تقریر کرے یا تحریراً کوئی ایسی بات کرے جو حکومت کی نظر میں افواہ پھیلانے کے مترادف ہو تو اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اس کے تحت آڈیوز وغیرہ بھی آتی ہیں۔

اگر ایسی تقریر، تحریر یا آواز عوام یا عوام کے کسی بھی گروہ کے لیے خطرے کا باعث بن رہی ہو یا اِس کا خدشہ ہو یا پھر وہ امنِ عامہ کے لیے خطرے کا باعث بن رہی ہو تو ایسے شخص کو تین برس تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

نوٹ: یہ سٹوری پاکستان پریس فاؤنڈیشن( پی پی ایف) کی تحقیقاتی فیلو شپ کا حصہ ہے۔

Show More

Salman

سلمان یوسفزئی ایک ملٹی میڈیا جرنلسٹ ہے اور گزشتہ سات سالوں سے پشاور میں قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ مختلف موضوعات پر کام کررہے ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

Back to top button