لائف سٹائل

سمجھ نہیں آتی کہ بجلی کا بل جمع کروں یا بچوں کو کھانا کھلاؤں؟

 

حدیبیہ افتخار

 

"مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے میری موت مہنگائی کی وجہ سے دل کا دورہِ پڑھنے سے واقع ہو جائے گی۔ اس مہینے جو بجلی کا بل آیا ہے اس نے تو اس ڈر کو مزید بڑھا دیا ہے” یہ کہنا ہے نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی نگینہ خان کا جو ہاؤس وائف ہیں اور بمشکل ہی گھر کا خرچ پورا کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں اضافہ جیسے خبریں پاکستانی عوام کے لئے اب عام سی بات ہے، ہر 15 دن بعد پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی بریکنگ نیوز سننے کو ملتے ہیں, مگر ایسا نہیں کہ عوام کو اس سے دھچکا نہیں لگتا۔

خیال رہے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف ایک ہفتے سے ملک گیر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے مظاہرین بجلی بل میں کمی کا مطالبہ کررہے ہیں اور ساتھ ہی بل جلا رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ جب تک بلوں سے اضافی ٹیکس ختم نہیں ہونگے تب تک بجلی بل ادا نہیں کرے گے۔

بجلی بلوں میں اضافہ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ آزاد کشمیر سے شروع ہوا۔ مظاہرے کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تو اس کے بعد ملک بھر میں بجلی بلوں میں اضافہ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

نگینہ خان کہتی ہے کہ پہلے گھر کا خرچ چلانے کے لئے شوہر سے جو پیسے ملتے تھے ان سے وہ گھر کا راشن اور بچوں کی فیس جمع کروانے کے ساتھ ساتھ کچھ رقم بچا لیا کرتی تھی مگر حالیہ مہنگائی سے اب گھر کا خرچ چلانا مشکل ہوگیا ہے اوپر سے اس مہینے بجلی کا بل توبہ۔۔۔

مہنگائی کی حالیہ لہر نے غریب کے ساتھ مڈل کلاس کو بھی متاثر کیا ہے لیکن مڈل کلاس فیملیز پھر بھی لے دیکر گزارہ کرلیتی ہیں تاہم وہ غریب جو روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور بمشکل 5 سے 6 سو روپے کماتے ہیں انکے لیے زندگی مزید اجیرن ہوگئی ہے۔

عزیز گل کاکا مالی ہے اور ماہانہ 20,000 کماتے ہیں اور گھر کے 6 افراد کی کفالت ان کے ذمہ ہے۔ عزیز گل کے گھر میں دو بلب اور ایک پنکھا چلتا ہے جسے بھی بوقت ضرورت استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا بجلی کا بل جو پہلے 1000 سے 1500 تک آتا تھا اس مہینے 8 ہزار آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سمجھ نہیں آتی کہ بجلی کا بل جمع کروں یا بچوں کو کھانا کھلاؤں۔ بل ادا نہ کرنے پر واپڈا والے میٹر لے جانے کی دھمکیاں دیتے ہیں اور بل ادا کروں تو پھر پورا مہینے کھانے کا انتظام کیسے ہوگا۔

عزیز گل حکمرانوں سے سوال کررہے ہیں کہ کیا مفت بجلی استعمال کرنے والے افسران بہت لاڈلے ہیں جن کے لاڈ پورے کرنے کے لئے غریب کے منہ سے نوالا چھین کر انہیں دے دیا جاتا ہے۔

نمرہ خالد بھی بجلی کے بلوں میں اضافے سے پریشان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے ان کے گھر کا بل 8 سے 9 ہزار کے درمیان آتا تھا، اس مہینے بھی تنخواہ سے مخصوص رقم بجلی کے بل کی ادائیگی کے لئے سائیڈ پر کر دی تھی مگر جب بجلی بل دیکھا تو ان کے پیروں تلے تو جیسے زمین نکل گئی۔

نمرہ خالد نوشہرہ کے ایک پرائیویٹ کالج میں کنٹرولر ایگزامینیشن کی جاب کرتی ہے۔ ان کی تنخواہ چالیس ہزار ہے اور والدین بیمار ہیں جس کی وجہ سے گھر کی ذمہ داری ان کے سر پر ہے۔ نمرہ نے بتایا کہ اس مہینے بجلی کا بل ادا کرنے کے لئے کسی سے قرض لینا پڑا۔ جو بل آیا ہے اس کو ادا کرتے تو پھر گھر کا خرچ اور والدین کی ادویات کے لئے ان کے پاس رقم نہیں بچ جاتی اسلئے قرض لیکر بل ادا کرنا پڑا۔ اگلے مہینے بھی اتنا بل آیا تو پھر بھرنے سے قاصر ہونگے کیونکہ اس مہینے کے بل کا قرض بھی دینا ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غریب پر تھوڑا رحم کرے اتنا مجبور نہ کریں کہ پھر ہم بل نہ دے سکے۔۔

پاکستان میں آئے روز عوام کو اس طرح کے دھچکے لگنا اب کوئی نئی بات نہیں ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی 300روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے جس سے اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔ مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لاکھوں میں کمانے والے بھی مطمئن زندگی نہیں گزار رہے۔

شفیع الدین سیمنٹ فیکٹری میں کام کرتے ہیں اور ماہانہ دو لاکھ تک کماتے ہیں لیکن وہ بھی بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان ہے۔ کہتے ہیں کہ کاروبار اچھا ہے اور مہینے میں دو لاکھ تک منافع مل جاتا ہے لیکن ہر چیز اتنی مہنگی ہوگئی ہے کہ اب گزازہ مشکل ہورہا ہے۔

شفیع الدین کہتے ہیں کہ گزشتہ ماہ گرمی میں شدت کی وجہ سے انھوں نے گھر میں پانچ سے چھ گھنٹے تک اے سی چلایا جس کی وجہ سے اس مہینے بل ایک لاکھ آیا ہے۔ ساری کمائی بلوں کی ادائیگی میں نکل جائیگی تو باقی کے اخراجات کہاں سے پورے کرینگے۔

شفیع الدین حکومتی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بجلی بلوں میں اضافی ٹیکسوں پر نظرثانی کریں اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کرکے ان کو باعزت طریقے سے جینے کا حق دیا جائے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button