لائف سٹائل

ڈی جی انفارمیشن کی تقرری کے خلاف ضم اضلاع میں پانچ ریڈیو سٹیشنز کی نشریات معطل

 

ڈی جی انفارمیشن کی تقرری کے خلاف خیبرپختونخوا ڈائریکٹوریٹ جنرل انفارمیشن ملازمین اور صحافیوں کا احتجاج جاری ہے اور اس ضمن میں ضم شدہ اضلاع میں قائم پختونخوا ریڈیو نیٹ ورک کے پانچ ریڈیو سٹیشنز کی نشریات بھی معطل کر دی گئیں ہیں جبکہ اگلے مرحلے میں بندوبستی اضلاع میں قائم ریڈیو کی تمام خدمات معطل کی جائے گی۔ دوسری جانب عالمی متحدہ علماء و مشائخ خیبرپختونخوا نے ڈائریکٹوریٹ جنرل انفارمیشن ملازمین کی حمایت کا اعلان کر دیا. ڈائریکٹوریٹ جنرل انفارمیشن نے پہلے مرحلے میں پبلک ریلیشنز، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، اشتہارات اور دیگر خدمات کی فراہمی بھی مسلسل معطل کر دی ہیں. احتجاج میں صحافی برادری سمیت دیگر متعلقہ ملازمین ایسوسی ایشنز کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

احتجاج میں، پشاور اور ڈیرہ پریس کلب، خیبر یونین آف جرنلسٹس، پختونخوا یونین آف جرنلسٹس، ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس اور دیگر یونین و پریس کلبوں کے صحافی بھی حصہ لے رہے ہیں.

ہڑتالی ملازمین کا موقف ہے کہ امپورٹڈ ڈی جی کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے جبکہ ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن کے سینیئر ترین ڈی جی کی تعیناتی تک احتجاج جاری رہے گا.

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: ڈی جی انفارمیشن کی تقرری کے خلاف قلم چھوڑ ہڑتال شروع

احتجاج میں اورکزئی پریس کلب، کوہاٹ پریس کلب اور نوشہرہ پریس کلب کے وفود سمیت دیگر صحافی برادری کے افراد شریک ہوئے. صحافیوں نے احتجاجی کیمپ سے اپنے خطاب میں کہا کہ انفارمیشن ڈائریکٹوریٹ ملازمین کا احتجاج ہمارا احتجاج ہے، حکومت ہوش کے ناخن لیں، فیصلہ واپس نہ لیا تو احتجاج سڑکوں پر لا رہے ہیں. مختلف وفود نے اپنے تاثرات شریک کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت حالیہ ڈی جی کی اعلامیہ واپس لے کر ڈائریکٹوریٹ سے تقرری کریں کیونکہ ڈی جی انفارمیشن کی تقرری غیر اصولی ہے، واپس لی جائے.

نور محمد بنگش صدر کوہاٹ پریس کلب نے کہا کہ صوبائی حکومت غیرقانونی ڈی جی انفارمیشن کی تعیناتی کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے، ہم ہڑتالی ملازمین کے شانہ شانہ کھڑے ہیں. اورکزئی پریس کلب کے ممبر فرحان اورکزئی نے کہا کہ نگران صوبائی حکومت کا فیصلہ تعصب اور بدنیتی پر مبنی ہے اورکزئی پریس کلب کے تمام صحافی ہڑتالی ملازمین کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہیں.

ظفر وزیر سینیئر نائب صدر وانا پریس کلب نے احتجاجی کیمپ سے خطاب میں کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن واحد محکمہ ہے جو صحیح معنوں میں پورے صوبے میں خدمات سر انجام دے رہا ہے. ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن کے ملازمین کے حقوق کی حق تلفی ناقابلِ قبول ہے. انہوں نے کہا کہ وزیرستان کے تمام پریس کلبوں کے صحافی اس احتجاج میں ہڑتالی ملازمین کے ساتھ احتجاج پر ہیں، ہم نے تمام حکومتی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کردیا ہے.

دوسری جانب، عالمی متحدہ علماء و مشائخ خیبرپختونخوا نے ڈائریکٹوریٹ جنرل انفارمیشن ملازمین کی حمایت کا اعلان کر دیا. سربراہ عالمی متحدہ علماء مشائخ خیبرپختونخوا مولانا شعیب کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے حالیہ تقرری غیر اصولی ہے، واپس لی جائے.  انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی انفارمیشن کی تقرری ڈائریکٹوریٹ جنرل انفارمیشن سے کی جائے جبکہ ڈائریکٹوریٹ ملازمین جب بھی سڑکوں پر آنے کا اشارہ دیں، ہم حاضر ہوں گے.

یہ قابل ذکر ہے کہ ال پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن نے بھی حالیہ ڈی جی انفارمیشن خیبرپختونخوا کی حالیہ تعیناتی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا عندیہ دے دیا. ایپکا اعلامیہ کے مطابق ایک ہفتے میں ڈی جی انفارمیشن خیبرپختونخوا کی حالیہ تعیناتی واپس نہ لی گئی تو ملک گیر احتجاج شروع کریں گے.

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button