لائف سٹائل

بونیر میں گندم کی فصل کو ‘رسٹ’ بیماری لاحق، پیداوار میں کمی کا خدشہ

انور خان

بونیر کے مخلتف علاقوں میں گندم کی فصل کو رسٹ بیماری لاحق ہوئی ہے جس کے باعث بعض کھیت پیلے پڑ گئے اور بعض مکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ کسان فصل کو کاٹ کر تلف کر رہے ہیں کیونکہ ان کے مطابق یہ فصل اب جانوروں کو چارہ کے طور پر بھی نہیں دیا جاسکتا۔

گندم کو لاحق اس بیماری کو انگریزی میں یلو لیف رسٹ یا ویٹ رسٹ، اردو میں کنگی یا رتی جبکہ مقامی زبان پشتو میں سرخے کہتے ہیں۔

بونیر کے کسان اس بیماری کو ختم کرنے اور گندم کی فصل کو پچانے کے لئے فنجی سائیڈ یا پھپھوندی کش زہریلے سپر کر رہے ہیں تاہم بعضص علاقوں میں یہ بیماری کنٹرول سے باہر ہے۔

ڈگر سے تعلق رکھنے والے عبدالہادی کے مطابق انہوں نے چند روز پہلے اپنے کھیت میں گندم کے پیلے پتے دیکھ لیں اور انہیں کاٹ کر زرعی سٹور پر ایک دوست کو دیکھائے تب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے گندم کو خطرناک بیماری لاحق ہوئی ہے۔

ہادی کے مطابق بیماری سے بچاؤ کے لئے جب زرعی سٹور سے دوائی خریدی تو پریشر پمپ کے لئے دو تین دن انتطار کرنا پڑا جس کے باعث بیماری اس پاس کے تمام کھیتوں میں پھیل گئی اور انہیں مزید کیمیکل خریدنا پڑا جبکہ ان کے بقول آج کل دوائی سے زیادہ پریشر پمپس پیدا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

دوسری جانب ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت بونیر عدالت خان کا کہنا ہے کہ یہ بیماری بونیر کے چنگلئ اور طوطالئ علاقوں میں زیادہ پھیل گئی تھی تاہم اب اس پر قابو پا لیا گیا ہے جبکہ رسٹ بیماری نے بونیر سمیت صوابی اور مردان سے ملحقہ علاقوں میں بھی گندم کی فصل کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

عدالت خان نے بتایا کہ موجود وقت میں فنجی سائیڈ اس بیماری کو روکھنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے اور جتنا جلدی ہوسکے کسان گندم کی فصل پر یہ سپرے کرے تاکہ ان کی فصل مزید خراب ہونے سے بچ جائے جبکہ یہ دوائی بونیر کے تمام زرعی سٹورز میں تین سو روپے میں مل رہی ہے۔

رسٹ کی بیماری اور اس کا تداراک 

زراعت پر کام کرنے والے ایک ویب سائٹ پلانٹکس کے مطابق رسٹ بیماری پوسینا نامی فنگس کی وجہ سے گندم کو لاحق ہوتی ہے اور 12 سے 22 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں زیادہ پھیلتی ہے، ہوا میں نمی کا تناسب 52 سے 64 کے درمیان ہو تو زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

اس حوالے سے زرعی یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلر بخت جہان کے مطابق پاکستان کو دو تین سال سے گندم کی کمی کا سامنا ہے جبکہ گزشتہ سال بھی ملک میں گندم کی پیداوار میں کمی آئی تھی۔ ان کے کے مطابق گندم کو تقریبا 50 بیماریاں لگ سکتی ہیں، سرخے یا یلو ویٹ رسٹ ان میں سے ایک ہے، یہ زیادہ نقصان دہ بیماری ہے، ہوا کے ساتھ پھیل جاتی ہے، اس سے گندم کی فصل کی پیداوار 25 فیصد کم ہوسکتی ہے۔

پروفیسر بخت جہان کے مطابق ایسی بیماریوں سے بچنے کیلئے کسانوں کو چاہئے کہ گندم کی فصل بونے کیلئے بہتر وقت اور اچھے بیج کا انتخاب کریں تاہم ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ کسان گندم کی بیج تبدیل نہیں کرتے اور ہر سال وہی ایک بیج استعمال کرتے ہیں جو کئی سالوں سے کر رہے ہیں۔

ان کے بقول پرانے بیچ میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے اس لئے یہ بیماری کا مقابلہ نہیں کرسکتی جبکہ نائیٹروجن کی زیادہ استعمال سے بھی گندم کو یلو رسٹ کی بیماری لگ سکتی ہے۔

بخت جہان کہتے ہیں کہ یلو رسٹ پودے کے پتوں کو متاثر کرتا ہے چونکہ پتوں سے ہی گندم کے خوشے اور دانے کو خوراک ملتی ہے اور جب پتے متاثر ہوتے ہیں تو گندم کے دانے کو درکار خوراک ملنا بند ہوجاتا ہے اور یوں پیداوار میں کمی آجاتی ہے۔

مقامی زرعی سٹور میں کام کرنے والا فضل دیان کے مطابق موسم ابر الود نہ ہو تو دوائی سپرے کرنے کے بعد ایک ہفتے میں گندم کے پیلے پتھے واپس سبز ہوجاتے ہیں لیکن گزشتہ چند دنوں سے علاقے میں بادل چھائے ہوئے ہیں اور وقتا فوقتا بارش بھی ہورہی ہیں اس لئے کسانوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

Show More

Salman

سلمان یوسفزئی ایک ملٹی میڈیا جرنلسٹ ہے اور گزشتہ سات سالوں سے پشاور میں قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ مختلف موضوعات پر کام کررہے ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

Back to top button