لائف سٹائل

بلوچستان کے 70 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار

عبدالکریم

رحمت اللہ اپنے روتے ہوئے بچے کو گود میں اٹھائے اسے چپ کروا رہے، وہ ہنہ اوڑک میں حکومت بلوچستان کی جانب سے قائم غذائی قلت کے شکار بچوں کو مطلوب غذائی خوراک فراہم کرنے کے ایک موبائل کمپ آئے ہوئے ہیں تاکہ وہ اپنے بچے کا چیک اپ کروانے کے ساتھ ساتھ اپنے بچے کو درکار غذائی مواد بھی حاصل کر سکیں۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں رحمت اللہ نے بتایا کہ وہ کوئٹہ کے سیاحتی مقام ہنہ اوڑک کے رہائشی ہیں، ان کے مطابق جب سیلاب آیا تو وہ کئی طرح کی مشکلات کا شکار ہوئے، ان کے گھر سیلاب میں بہہ گئے اس لیے وہ بے گھر ہوئے۔

رحمت اللہ کے مطابق سیلاب نے نہ صرف ان کے گھروں کو متاثر کیا بلکہ سیلاب سے ان کے بچے بھی بہت متاثر ہوئے، بچے ڈاکٹروں کے مطابق غذائی قلت کا شکار ہیں۔

حکومت بلوچستان کے غذائی قلت پرواگرام کی موبائل ٹیم میں کام کرنے والے حاجی سردار نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ بچوں کو مطلوبہ خوراک نہیں ملی اس لیے زیادہ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور غذائی قلت کے شکار بچے مختلف بیماریوں کے شکار ہو جاتے ہیں۔

حاجی سردار کے بقول غذائی قلت کے شکار بچوں کا وزن نہیں بڑھتا، ”ہمارے پاس بہت کم وزن والے بچے آتے ہیں ہم ان بچوں کو مطلوبہ غذا فراہم کرتے ہیں۔”

بلوچستان غذائی قلت پروگرام کے ضلعی آفیسر رسول بخش نے بتایا کہ بلوچستان کا گرین بیلٹ جعفرآباد، نصیرآباد، صبحت پور اور جھل مگسی سیلاب سے زیادہ متاثرہ اضلاع ہیں، ان اضلاع میں بڑی تعداد میں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

بلوچستان غذائی قلت پروگرام کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق سیلاب سے پہلے بلوچستان کے 13 اضلاع میں غذائی قلت پروگرام یونیسف کی مدد سے کام کر رہا تھا لیکن سیلاب کے بعد سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو بھی مذکورہ پروگرام کا حصہ بنایا گیا، اب بلوچستان کے 21 اضلاع میں بلوچستان حکومت کا غذائی قلت کا پروگرام چل رہا ہے۔

بلوچستان حکومت کے غذائی پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ 50 ہزار کے قریب سیلاب سے متاثرہ بچوں کی اسکریننگ ہو چکی ہے اور یہ اعداد و شمار اگست سے اکتوبر 2022 تک کے ہیں۔

مذکورہ سکریننگ شدہ بچوں میں اعداد و شمار کے مطابق شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کی تعداد بیس ہزار تک ہے، اس کے ساتھ ستر ہزار کے قریب حاملہ خواتین کو غذائیت پورے کرنے کی اداویات فراہم کی گئیں تاکہ پیدا ہونے والے بچے غذائیت کی کمی کے شکار نہ ہوں۔

مذکورہ اعداد و شمار کے مطابق ایک فیصد بچے جو غذائی قلت کے شکار تھے، وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

رسول بخش نے بتایا کہ سیلاب سے پہلے بلوچستان کے 54 فیصد بچے غذائی قلت کے شکار تھے لیکن سیلاب کے بعد یہ شرح 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے رسول بخش کا کہنا تھا کہ ایک تو پہلے سے بلوچستان میں بیروزگاری کی شرح زیادہ تھی، سیلاب نے اس شرح میں مزید اضافہ کر دیا اس وجہ سے اکثر غریب ماؤں کو درکار خوراک نہیں ملتی تو اس کی وجہ سے ان کے بچے بھی غذائی قلت کا شکار ہو جاتے ہیں، ان ماؤں کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ دودھ اور دیگر مطلوبہ خوراک بازار سے لے سکیں۔

رسول بخش کے مطابق حکومت بلوچستان کوشش کر رہی ہے کہ وہ کم دستیاب وسائل میں غذائی قلت کے شکار ہر بچے تک پہنچ جائے، اس کیلئے حکومت نے متاثرہ علاقوں میں محترک ٹیمیں بنائی ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button