لائف سٹائل

”آوارہ کتوں سے بہتر سیکورٹی گارڈ کوئی نہیں بن سکتا”

باسط خان

فوج کی ملازمت چھوڑ کر آوارہ کتوں کے محافظ بننے والے ڈاکٹر اویس غنی سب کے لئے مثال، جنہوں نے آوارہ کتوں کو پالنے اور ان کے علاج معالجے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ ڈاکٹر اویس غنی نے کئی آوارہ کتوں کا علاج معالجہ کر کے انہیں واپس اپنی جگہوں پر چھوڑ دیا ہے جو ابھی اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں گھوم پھر رہے ہیں۔

اسلام اباد کے رہائشی، ریٹائرڈ فوجی ڈاکٹر غنی اکرام جنہوں نے سڑکوں پر نظر آنے والے آوارہ کتوں کی خاطر اپنی نوکری ہی چھوڑ دی اور اپنی زندگی فالتو سمجھے جانے والے جانوروں کے لئے وقف کر دی ہے۔ ڈاکٹر غنی نے ان جانوروں کے لئے اسلام اباد کے علاقے ای الیون فور میں ایک سینٹر بھی قائم رکھا ہے کیونکہ وہ ان جانوروں کو معاشرے کے لئے ایک محافظ کے طور پر مانتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کو انسانی فریضہ سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر غنی آوارہ کتوں کو کیوں اور کب سے پال رہے ہیں؟

ٹی این این سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر غنی اکرام نے بتایا کہ معاشرے میں لوگ ان آوارہ کتوں کو حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور ان پر تشدد کر کے مارتے بھی ہیں، ”میرا مقصد لوگوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ یہ فالتو جانور بے مقصد نہیں بلکہ ان کو اللہ تعالی نے انسانوں کی حفاظت کے لئے پیدا کیا ہے۔”

ڈاکٹر غنی نے بتایا کہ انہیں ان جانوروں سے لگاؤ تب شروع ہوا تھا جب وہ فوج میں ملازمت کر رہے تھے، ”تب سے مجھے محسوس ہوا کہ کیوں نا ان جانوروں کی فلاح بہبود کے لئے کام شروع کیا جائے کیونکہ پاکستان میں کوئی ادارہ تک موجود نہیں جو جانوروں کی دیکھ بھال کا کام کرے، تو پانچ سال قبل میں نے اس سنٹر کا قیام عمل میں لانے کا کام شروع کیا اور تقریباً 12 لاکھ روپے جو مجھے اپنی نوکری کی پنشن سے ملے تھے اس سے میں نے اس کام کا آغاز کیا۔”

ڈاکٹر اویس غنی پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر بھی ہیں جنہوں نے جانوروں کے تحٖفظ کے لئے ایف 7 میں کلینک بھی کھول رکھا ہے۔

سنٹر میں کتنے اور  کس قسم کے جانوروں کو رکھا جاتا ہے؟

ڈاکٹر غنی نے اس سنٹر کے حوالے سے بتایا، ”میں گلی محلے سے ایسے کتوں کو اپنے سنٹر میں لاتا ہوں جو کسی حادثے میں معذور یا مفلوج اور چلنے پھرنے سے قاصر ہوں۔”

ان کتوں کے لئے انہوں نے سنٹر میں دو خانے بنائے ہیں، ایک خانے میں بیمار کتوں کو رکھا جاتا ہے جبکہ دوسرے خانے میں ان کتوں کو رکھا جاتا ہے جو مفلوج اور معذور اور چلنے پھرنے سے قاصر ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ سنٹر میں ان کے پاس دو سو سے زائد جانوروں کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ ان کے پاس ابھی 100 سے زائد کتے سنٹر میں موجود ہیں جن میں 13 معذور کتے بھی شامل ہیں جن کا علاج معالجہ ابھی جاری ہے۔

ان جانوروں کی خوراک اور علاج معالجہ کیسے ہوتا ہے؟

ڈاکٹر غنی نے بتایا کہ ان جانوروں کو ناشتے میں “ڈاگ فوڈ”، دوپہر میں چکن جبکہ شام کے وقت گوشت کی بوٹیاں دی جاتی ہیں اور کھانے کے کچھ ہی دیر بعد ان جانوروں کو ان کی ادویات اور انجکشن لگائے جاتے ہیں۔

ریٹائرڈ فوجی کے مطابق ان کی خوراک اور علاج معالج پر ماہانہ تقریباً 6 سے 7 لاکھ روپے خرچ ہوتا ہے جس میں سے 50 فیصد میں اپنی جیب سے جبکہ باقی کا خرچ میرے کچھ دوست اور مختلف فلاحی تنظیموں کے لوگوں کے عطیات سے پورا ہوتا ہے، ”اس سنٹر میں ہمارے ساتھ یونیورسٹی کے چار سے پانچ طلباء بھی رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں جبکہ سنٹر میں ان کی دیکھ بھال کے لئے دو بندے ہر وقت موجود رہتے ہیں جو ان کے کھانے پینے اور ادویات کا خیال رکھتے ہیں۔”

آوارہ کتوں کو سبنھالنا مشکل ترین کام لیکن یہ جانور بے مقصد نہیں

اویس غنی نے بتایا، ”میں مانتا ہوں کہ ان جانوروں کو سنبھالنا کافی مشکل کام ہے کیونکہ جانور ناسمجھ ہوتے ہیں اور ان میں احساس اور شعور نہیں ہوتا لیکن اگر فالتو جانوروں پر محنت کی جائے تو انہیں معاشرے اور انسانیت کے لئے کارآمد بنایا جا سکتا ہے کیونکہ ان کی کسی قسم کی تربیت نہیں ہوتی جس طرح گھروں میں پالنے والے اعلی قسم کے  جانوروں کی ہوتی ہے، لیکن وقت کے ساتھ یہ فالتو جانور بھی پیار و محبت کی زبان سمجھ جاتے ہیں، کافی لوگوں کا یہی ماننا ہے کہ یہ جانور معاشرے کے لئے خطرناک ہیں اور یہ انسانوں کے لئے نقصان دہ ہیں ان کو مارنا چاہئے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے، میں چاہتا ہوں کہ میں لوگوں کو بھی سمجھاؤں جو ان جانوروں کو بری نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان پر تشدد کرتے ہیں یا انہیں مارتے ہیں۔

لوگ تنقید بھی کرتے ہیں لیکن مشن پھر بھی جاری ہے

ڈاکٹر اویس نے بتایا کہ جب انہوں نے آوارہ کتوں کی بحالی کا کام شروع کیا تو دوست احباب سب ان کو تنقید کا نشانہ بھی بناتے اور کہتے تھے کہ ان جانوروں کی خاطر اپنا پروفیشن خراب کرنے سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں لیکن میرا یہ ماننا ہے کہ میں یہ کام خدمت خلق کے جذبے سے کر رہا ہوں نا کہ کسی فائدے کے لئے کیونکہ میں نے ان جانوروں کی خاطر اپنی نوکری تک کی ہی پرواہ نہیں کی اور چھوڑ دی ہے۔

”اب بھی لوگ تنقید کرتے ہیں اور ہر طرح کی باتیں بھی کرتے ہیں، لیکن میں اس معاملے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا ہوں، اس کام میں صرف میرے بیوی نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے۔” اویس غنی نے بتایا۔

یہ کتے کسی سیکورٹی گارڈ سے کم نہیں

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے دنیا میں کسی بھی چیز کو بے معنی ہیدا نہیں کیا اور اسی طرح یہ جانور بھی ہیں، ان کا بھی معاشرے میں ایک بہت بڑا مقصد ہے، اگر گلیوں میں دو چار کتے پھر رہے ہیں تو یہ گلی محلے کو ایک قسم کی سیکورٹی فراہم کر رہے ہیں اور میری نظر میں ان سب سے بہتر سیکورٹی گارڈ کوئی نہیں بن سکتا ہے، ان سے پیار محبت سے پیش آنا چاہئے، ”میرے ساتھ خود ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں، اگر یہ آوارہ کتے میرے گھر کے باہر نہ ہوتے تو شائد بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا۔

اویس غنی نے کہا کہ مستقبل میں بھی ان کا یہ مشن جاری رہے گا اور اس کے بعد وہ مزدوری کے دوران کمزور ہونے والے گدھے اور گھوڑوں کو بھی اپنے ساتھ رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ اس کارخیر کو مزید پھیلا کر اس پیغام کو دوسرے لوگوں کو بھی پہنچا سکیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button