صحتلائف سٹائل

خیبر پختونخوا میں ایک سال کے دوران 16765 خواتین نے خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کیا

 

سلمیٰ جہانگیر

“ایک ورکنگ وومن کے لیے خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرنا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ ایک ملازمت پیشہ خاتون کو حمل اور بچے کی ولادت کی وجہ سے ملازمت میں کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ اب مجھے ہے” پشاور سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ شبانہ نے بتایا۔

شبانہ نے بتایا کہ آج سے پانچ سال پہلے اسکا پہلا بیٹا آپریشن سے پیدا ہوا اور پیدائش کے بعد وہ وفات پا گیا۔ شبانہ کے مطابق اس نے دو سال کا وقفہ کیا۔اسکے بعد ڈیڑھ برس کے اندر شبانہ کے دو بیٹے یکے بعد دیگرے پیدا ہوئے اور دونوں بچے سرجری سے پیدا ہوۓ تھے۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں میں وقفہ کم ہونے کی وجہ سے وہ خاندانی منصوبہ بندی کی طرف چلی گئی اور کیپسول امپلانٹ کا طریقہ اختیار کیا۔

خیبر پختونخوا کے معلومات تک رسائی قانون 2013 سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے رورل ہیلتھ سپورٹ ٹریننگ سینٹر کے سالانہ رپورٹ سے لیے گئے ڈیٹا میں جولائی 2021 سے جون 2022 تک کنڈوم کے طریقہ کار کو سب سے زیادہ یعنی 14204 خواتین نے اپنایا جبکہ 1265 خواتین نے امپلانٹ کروایا جن میں 457 خواتین نے مزید بچے پیدا کرنے کے لیے ایمپلائمنٹ کے ذریعے رکھے ہوئے کیپسولز کوریمو کروایا۔ 761 خواتین نے مانع حمل کے لئے استعمال ہونے والی گولیوں کا استعمال کیا, 431 خواتین نے مانع حمل سرجری،215 خواتین نے منصوبہ بندی کے عارضی طریقہ کارIUCD ,جبکہ 346 خواتین نے خاندانی منصوبہ بندی کے ٹیکے لگوائے۔

گائناکالوجسٹ ڈاکٹر ایاز اشرف نے خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے بتایا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے کچھ طریقے پرانے زمانے سے چلے آ رہے ہیں سائنس کی ترقی کے ساتھ اس میں بھی جدت آگئی ہے اور اب مانع حمل کے لئے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شادی کے بعد آبادی اور سوشل بیلنس کو برابر کرنے کے لیے منصوبہ بندی کو اپنانا بہت ضروری ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ باربار حاملہ ہونے کی وجہ سے عورت کافی کمزورہو جاتی ہے اور بہت سارے کیسز میں مائیں اور نومولود بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اسی لیے ضروری ہے کہ بچوں کی پیدائش میں تین سال کا وقفہ رکھیں۔وقفہ کرنے کے بہت سے طریقے ہیں جن میں اکثر طریقے بہت زیادہ محفوظ ہیں اس میں ایک طریقہ جو پرانے زمانے سے چلا آرہا ہے وہ ہے قدرتی طریقہ۔۔ دوسرا کنڈوم کا استعمال ہے، تیسرا طریقہ مانع حمل کے ٹیکے لگوانا ہے ان ٹیکوں میں کچھ ایک مہینے کے لیے ہوتے ہیں کچھ دو اور کچھ تین مہینوں کے لیے۔۔۔اسکے علاوہ ایک اور طریقہ جسکو کوپرٹی کہا جاتا ہے ایک اور طریقہ جس میں کیپسول کو زیر جلد رکھا جاتا ہے بہت موثر طریقہ ہے۔ پانچواں طریقہ سرجری کا طریقہ کارہے۔

خاندانی منصوبہ بندی کو اپنانے کے حوالے سے شبانہ نے بتایا کہ اسکی سب سے بڑی وجہ میرا ملازم پیشہ ہونا ہے کیوں کہ ہمارے معاشرے میں اب تک کوئی ایسا قانونِ نہیں ہے جو کہ ان جیسی ملازمت پیشہ خواتینِ کے بچوں کی دیکھ بھال کرنے میں انکو مدد فراہم کر سکے۔

دو چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال بہت مشکل کام تھا بہ نسبت ایک گھریلو خاتون کے جو کہ گھر میں رہتے ہوئے با آسانی کر سکتی ہے۔

شبانہ نے مزید کہا” ادارہ اپکو تو قبول کرتا ہے لیکن آپکے بچے کو کوئی قبول نہیں کرتا۔دفتری ماحول میں عورت کا حاملہ ہونا کسی کو پسند نہیں ہوتا تو یہیں وجوہات تھیں جنکی بنا پر میں نے اور میرے شوہر نے فیصلہ کیا کہ اب ہمارا کنبہ مکمل ہو چکا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد کے ریسرچر ڈاکٹر ماجد کےمطابق مختلف ادوار میں آبادی میں اضافہ کے اعتبار سے نظریہ بھی مختلف ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کے لیے منصوبہ بندی ،روک تھام وغیرہ کے الفاظ قابل اعتراض ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ماجد نے بتایا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر مستقل بنیاد پر آپریشن کرکے بچہ دانی نکلوانا یا نس بندی کروانا یا کوئی ایسا طریقہ اپنانا جس سے بچہ پیدا کرنےکی صلاحیت بالکل ختم ہوجائے اور اسے ایک اجتماعی مسئلہ یا تحریک بنا لینا درست نہیں، بلکہ یہ شرعی مزاج کے مخالف ہے۔

اگر عورت کی صحت پر منفی اثر پڑ رہا ہویا بچوں کی مناسب تربیت وپرورش کے پیش نظر خاندانی منصوبہ بندی کے عارضی تدابیر اختیار کرکے بچوں کے درمیان مناسب وقفہ کرنا، شرعاً اس کی گنجائش ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر حمل کی وجہ سے پہلے بچے کو دودھ پلانا متاثر ہورہا ہو یا ماں اور بچے کی صحت یا بچوں کی تربیت متاثر ہو رہی ہو تو ان حالات میں کوئی ایسا طریقہ کرنا جس میں بے پردگی نا ہو اور نا ہی مکمل طور پر تولید ختم ہونے کا ڈر ہو تو پھر جائز ہے، اور اس میں کوئی کراہت نہیں۔

چھ مہینے پہلے شبانہ نے 5 سال کے لیے امپلانٹ کروایا۔ منفی اثرات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ امپلانٹ کرنے کے بعد اسکا وزن بڑھ رہا ہے اور انکے ماہواری میں بھی فرق آیا ہے انہوں نے کہا “اب مجھےٹھیک طرح سے ماہواری نہیں ہوتی۔”

خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امپلانٹ کا طریقہ کار پوری دنیا میں ہوتا ہے اور اسکا دورانیہ پانچ برس کا ہوتا ہے۔ اگر پانچ سال سے پہلے کوئی ماں بننا چاہے تو اسکو ہٹا کر بچہ پیدا کر سکتی ہے۔

منفی اثرات کے حوالے سے ڈاکٹر محمد ایاز اشرف( پی ایچ ڈی ہولڈر) ماہر امراض نسواں نے بتایا کہ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ مانع حمل کے طریقۂ کار اپنانے سے ماہواری متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ چند کیسز میں ایسا ہوتا ہے تمام کیسز میں نہیں ۔اسکا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ کسی مستند بہبودی آبادی کے مراکز سے مطلوبہ علاج کروایا جاۓ۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت خیبرپختونخواہ میں 682 فلاحی مراکز،41 موبائل سروسز یونٹ اور 35 تولیدی مراکز صحت موجود ہیں۔ اسکے ہر قسم اثرات کے لیے لوگ پہلے سے ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس کیپسول امپلانٹ سے بانجھ پن (انفرٹیلٹی) نہیں ہوتی کیونکہ کچھ لوگوں کا یہی خیال ہے کہ اس علاج کے بعد عورت دوبارہ ماں نہیں بن سکتی حالانکہ یہ سائنسی طورپر ثابت نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر افواہیں یا غلط تصور ہوتے ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی کرو گے تو آپ کو بیماری ہو جائے گی، کینسر ہو جائے گا یا دوبارہ بچہ نہیں ہو گا۔ اسی طرح اگر پانچ سال کے وقفے کے لیے کیپسول رکھوائیں گی تو بازو سن ہو جائے گا۔

2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 20 کروڑ ہےجن میں سالانہ 2.9 فیصد اضافہ ہو رہا ہے(ویکیپیڈیا )

2018 میں پاکستان ڈیمو گرافک سروے کے مطابق پاکستان میں صرف 34 فیصد خواتین خاندانی منصوبہ بندی کے مختلف طریقۂ کار کا استعمال کرتی ہیں۔ ،2017 کی مردم شماری کے مطابق پشاور کی کل آبادی تقریباً 10 لاکھ ہے جن میں خواتین کی تعداد5 لاکھ سے اوپر ہے جو کہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

محکمہ بہبود آبادی خیبرپختونخوا کے مطابق صوبے میں آبادی کی شرح میں اضافے کے باوجود مانع حمل ادویات کے استعمال میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے جن کو2030 تک 49 فیصد تک بڑھایاجائے گا۔

پشاور کے نواحی گاؤں بڈھ بیر سے تعلق رکھنے والا مسافر خان 6 بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے. مسافر خان کی عمر 41 برس ہے اور ریڑھی لگا کر سبزی بھیجتا ہے ۔مسافر خان نے بتایا کہ چونکہ وہ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے تو اسکی شادی 16 برس کی عمر میں 13 سالہ لڑکی سے کروا دی گئی ۔۔شادی کے پہلے سال ہی اللہ نے اسے بیٹی سے نوازا۔

اسکے بعد اللہ نے اسے 5 اور بیٹیاں دیں۔والدین کی شدید خواہش تھی کہ اب ایک بیٹا بھی ہو اور بیٹے کی خواہش نے میرا آنگن 9 بیٹیوں سے بھر دیا۔میری بیوی کی صحت دن بدن خراب ہوتی گئی اور شادی کے دسویں سال میری بیوی بیماریوں کا شکار ہو گئی۔ مسافر نے بتایا کہ مالی حالات ٹھیک نا ہونے کی وجہ سے نا بچوں کی پرورش ٹھیک سے ہو رہی تھی اور نا ہی میری بیوی کی۔ ایک طرف غریبی اور 9 بچوں کا بوجھ جبکہ دوسری طرف ماں کی جانب سے بیٹے کی خواہش نے مجھے پریشانیوں میں گرا دیا۔

ڈاکٹر غلام ماجد نے کہا کہ آبادی کو معیشت یا رزق کے ساتھ جوڑنا ممانعت ہے کیونکہ رزق کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے لی ہےاسکو آبادی کے ساتھ منسوب نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ” ہمارے ہاں مینجمنٹ کی کمی ہے اس وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اگر اس پر مناسب طریقے سے عمل کیا جائے تویہ مسئلہ پیدا نہیں ہوتا، مثال کےطور پر ماں بچے کی صحت کے تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے کہ اگر زیادہ بچے پیدا ہو اور ماں کی صحت خراب ہو رہی ہو اور اس پر برا اثر پڑ رہا ہو تو ان مسائل سے بچنے کے لیے دو بچوں کے درمیان وقفہ ضروری ہے کیونکہ بچے کا حق ہوتا ہے کہ وہ ماں کا دودھ دو سال تک پئیں لیکن اگر بچے کی پیدائش کو آبادی سے جوڑا جائے گا تو یہ جائز نہیں اور علماء کو اس پر اعتراضات ہیں۔

خاندانی منصوبہ بندی کے بارے جاننے کے باوجود مسافر خان نے کبھی کوشش نہیں کی کہ بیوی کو علاج کروا سکے کیونکہ گاؤں کے لوگ کہتے تھے کہ اس سے کینسر ہوتا ہے۔ مسافر خان نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ اپنی بیوی کو دیہی مرکز صحت لیکر گیا وہاں کے عملے نے انکو ڈرایا کہ کیا آپکو معلوم ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا اگر کچھ ہوا تو ان میں سے کوئی ذمہ دار نا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ “میں نے اس بات میں غنیمت سمجھی کہ سب کچھ اللہ پر چھوڑ دوں اور گھر والی کو واپس گھر لے آیا”

فقیر آباد پشاور سے تعلق رکھنے والی نعیمہ (فرضی نام) نے بتایا کہ آج سے ڈھائی سال پہلے جب اسکی بیٹی پیدا ہوئی تو اسکی حالت بہت خراب تھی کیونکہ بیٹی سے 10 مہینے بڑا اسکا ایک بیٹا بھی تھا۔تو اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرے گی۔ نعیمہ ایک سرکاری سکول میں بطور استانی اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔انکے مطابق دو چھوٹے بچوں کے ساتھ ملازمت کو وقت دینا ایک عورت کے لیے بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ نعیمہ کے لیے خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرنا مشکل ہو گیا کیونکہ شوہر نے انکار کیا کہ وہ اس فیصلے میں نعیمہ کا ساتھ نہیں دے سکتا۔

نعیمہ نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ “شوہر کی اجازت کے بغیر میں ہسپتال گئی اور خاندانی منصوبہ بندی کے ملٹی لوڈ طریقے کو اپناتے ہوئے 10 سال کے لیے وقفہ کیا”

نعیمہ نے بتایا کہ ڈھائی سال کے وقفہ کے دوران ہی اسکو اپنی جسمات میں کافی تبدیلیاں رونما ہوتی نظر آرہی ہیں۔اسکا وزن بہت تیزی سے بڑھنے لگا ہے اور ماہواری بھی متاثر ہوئی ہے۔

ڈاکٹر محمد ایاز اشرف نے بتایا کہ وسائل اور آبادی میں توازن کے لیے بچوں کی پیدائش میں کم از کم 3 سال کا وقفہ بہت ضروری ہے۔ بچوں کی پیدائش میں وقفے کے لیے موثر طریقوں کے بارے معلومات حکومت کی طرف سے قائم شدہ فلاحی مراکز یا بہبود آبادی کے مراکز سے لیے جاتے ہیں، تعمیری معاشرے کےلئے ماں اور بچے کا صحت مند ہونا بہت ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کے آبادی کے بارے میں پروگرام یو این ایف پی اے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سالانہ 22 لاکھ اسقاط حمل ہوتے ہیں جس کی وجہ مانع حمل کے طریقۂ کار تک رسائی کا نہ ہونا ہے۔(اوپن سورس)

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button