برلن: ترک نژاد امام کی رہنمائی میں 90 غیر مسلم افراد نے اسلام قبول کر لیا
برلن میں ترک امام کی رہنمائی سے غیر مسلموں کا اسلام میں داخل ہونے میں اضافہ، نئی نسل کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنے کا عمل جاری

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں مقیم ترک نژاد امام امرے شاہین کی رہنمائی اور خلوص پر مبنی دعوت اسلام کے نتیجے میں گزشتہ ساڑھے تین برسوں کے دوران 90 غیر مسلم افراد دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔
33 سالہ امام امرے شاہین، جو برلن میں پیدا ہوئے اور دینی تعلیم کے لیے ترکی اور اردن کا سفر کیا، اس وقت شہر کے تاریخی اور علامتی حیثیت رکھنے والے "میولانا مسجد” میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف ترک اور جرمن بلکہ عربی زبان میں بھی مہارت رکھتے ہیں اور ہر جمعے کو تین زبانوں میں خطبہ دیتے ہیں۔
امام امرے شاہین کا کہنا ہے کہ ان کی ترجیح صرف مذہبی معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ انسانی سطح پر رابطہ قائم کرکے، سوالات کے جوابات دے کر، اور جذباتی و روحانی پہلوؤں کو سمجھ کر افراد کی رہنمائی کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اکثر غیر مسلموں کو مسجد کا دورہ کراتے ہیں، ان کے سوالات سنتے ہیں اور ذاتی طور پر گفتگو کے ذریعے انہیں اسلام کی اصل روح سے روشناس کراتے ہیں۔
"میری کوشش ہوتی ہے کہ میں انہیں ایک استاد کی طرح رہنمائی دوں، تاکہ وہ صرف معلومات حاصل نہ کریں بلکہ سچائی کو دل سے محسوس کریں،” امام امرے نے بتایا۔
ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان میں سے 80 فیصد وہ تھے جنہوں نے کئی ماہ یا برسوں تک اسلام پر تحقیق کی۔ “وہ مکمل طور پر ذہنی طور پر تیار ہو کر آتے ہیں اور کہتے ہیں: ’اب ہم تیار ہیں، ہمیں صرف صحیح رہنمائی چاہیئے۔‘”
امام امرے شاہین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نو مسلم افراد کو صرف کلمہ پڑھوا دینا کافی نہیں بلکہ ان کی دینی تربیت، نفسیاتی حمایت اور سماجی معاونت بھی ضروری ہے، تاکہ وہ دین پر قائم رہیں اور شیطان کے وسوسوں سے بچ سکیں۔
انہوں نے ایک واقعہ بیان کیا جس میں ایک 53 سالہ جرمن خاتون نے رمضان کے دوران ایک دن کے لیے روزہ رکھا، اور اسی تجربے نے انہیں اسلام کی طرف مائل کیا۔ "رمضان کے آخر میں انہیں لگا جیسے کچھ کمی ہے، تب انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اسلام قبول کریں گی۔”
امام شاہن نو مسلم افراد کی تصاویر ان کی اجازت سے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں تاکہ دنیا بھر کے مسلمان ان کے لیے دعا کریں۔ "یہ پوسٹس صرف اطلاع نہیں ہوتیں، بلکہ ہم ان کے لیے دعاؤں کا دروازہ کھولتے ہیں،” امام نے بتایا۔
امام امرے شاہن کی دعوت صرف الفاظ یا کتابی علم پر نہیں بلکہ انسانی جذبے، خلوص نیت، اور دل سے کی جانے والی رہنمائی پر مبنی ہے۔ ایک ایسا پہلو جو آج کے دور میں مذہبی دعوت میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔