صحت

خیبر پختونخوا اور افغانستان میں دماغ کے سرطان میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟

ناہید جہانگیر

کئ دہائیوں سے مسلسل جنگوں نے جہاں اور بڑے بڑے نقصانات کئے ہیں وہاں خیبر پختونخوا اور افغانستان میں دماغ کے سرطان کا بھی باعث بنا ہے۔ اس حوالے سے اسسٹنٹ پروفیسر اور نیورو سرجری ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ نواز خٹک کہتے ہیں کہ نیورو ڈیپارٹمنٹ 100 سے زائد بیڈ پر مشتمل ہیں اور کوئی بھی بیڈ خالی نہیں پایا جاتا ہر وقت بیڈ پر مریض داخل ہوتے ہیں جو نیورو کے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لیکن اس میں سب سے زیادہ برین ٹیومر یعنی دماغ کے سرطان کے ہوتے ہیں۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈیٹا کے مطابق ہر ہفتے 5 سو کے قریب افغانیوں کا مفت علاج ہسپتال میں کیا جاتا ہے جن میں چھوٹے بڑے آپرشن ، او پی ڈی اور گائنی کے مریض شامل ہیں۔

اسسٹنٹ پروفیسر نواز خٹک کہتے ہیں کہ پاکستان کے اور صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا اور پڑوسی ملک افغسانستان میں برین ٹیومر مریضوں کی تعداد زیادہ ہے اور مزید اس میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ 80 کی دہائی سے مسلسل جنگ اور دہشت گردی کی وجہ سے بم دھماکوں کے اثرات ہیں۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال صوبے کا سب سے بڑا ہسپتال ہے اور یہاں وہ تمام طبی سہولیات مفت افغان باشندے کو بھی دی جاتی ہے جو پاکستانیوں کو دی جاتی ہیں۔ اگر افغان باشندوں کے پاس افغان کارڈ یا پاسپورٹ موجود ہیں تو ان کا علاج مفت کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر جتنے بھی افغان مریض ایل آر ایچ آتے ہیں تو اس میں ایک بڑی تعداد دماغ کے سرطان میں مبتلا مریضوں کا بھی ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بیلٹ میں تقریبا دو یا تین دہائیوں سے زیادہ جنگیں ہوئی ہیں اور کسی نا کسی شکل میں اب بھی ہورہی ہیں اور پھر خاص کر 80 کی دہائی میں جو اسلحہ اور بارود وغیرہ استعمال ہوا ہے تو ان کے اور منفی اثرات کے ساتھ ساتھ صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور یہ آنے والے وقتوں میں مزید رونما ہونگے۔ اگر صحت کی بات کی جائے تو سب سے خطرناک بیماریوں میں ایک مرض دماغ کے سرطان کا بھی ہے جس کی وجہ سے افغانستان اور کے پی کے لوگوں میں دماغ کا سرطان مرض روز بروز بڑھ رہا ہے۔

ڈاکٹر نواز نے برین ٹیومر کے علامات کے حوالے سے کہا کہ اگر کوئی بھی چاہے وہ بچہ ، مرد یا عورت ہو ان کو سر میں شدید درد ہو، اور اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی کو ایک یا دو جھٹکے مرگی کے آئے ہو یا ان کی نظر خراب ہو گئی ہو یا ان کے ساتھ ان کو متلی بھی ہو رہی ہو تو ایسی صورت میں ان کو ضرور اپنا چیک اپ کروا لینا چاہیے تاکہ وقت پر ان کا علاج کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرض اگر وقت پرتشخیص کیا جائے تو علاج اور اس کی سرجری بہت زیادہ کامیاب ہوتی ہے اور اگر لیٹ ہوجائے تو پھر اتنا رزلٹ اچھا نہیں ملتا۔ اگر کسی کو اس قسم کی علامات ہیں تو ان کو برین ٹیومر کے لیے ضرور اپنے کنسلٹنٹ سے مل لینا چاہیے کیونکہ اس مرض میں مبتلا مریض کے مرنے کے چانسز اور مریضوں کی نسبت 90 فیصد زیادہ ہوتے ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button