صحت

‘درد سے چھٹکارا پانے کے لیے ڈاکٹر کے پاس گئی تو انہوں نے ہاتھ ہی سے محروم کردیا’

 

مصباح الدین اتمانی

"میرے پورے جسم میں درد تھا۔ دوائی لینے اپنے شوہر کے ہمراہ گاؤں کے سب سے سینئر ڈاکٹر کے پاس گئی۔ جیسے ہی انہوں نے مجھے وورین انجکشن لگایا میرے دائیں ہاتھ نے کام چھوڑ دیا۔ نو آپریشن کرنے اور دو سال گزرنے کے بعد آج بھی ایک ہاتھ سے محروم ہوں۔” یہ کہنا ہے باجوڑ کی تحصیل اتمانخیل سے تعلق رکھنے والی بیس سالہ مسرت بی بی کا جو تین بچوں کی ماں ہیں۔

خیالوں میں گم، گھر کے صحن میں چارپائی پر بیٹھی مسرت بی بی نے بتایا: "ڈاکٹر نے غلطی سے پٹھے کی بجائے اعصابی نس میں انجکشن لگایا تھا جس سے میرے ہاتھ نے کام چھوڑ دیا۔ پھر انہوں نے اسے معمولی مسئلہ قرار دے کر ہمیں یہ کہتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال خار جانے کا کہا کہ یہ معمولی مسئلہ ہے، ایک دو دن میں ٹھیک ہو جائے گا۔ جب ہم ہسپتال پہنچے تو یہ جان کر ہماری پریشانی اور بھی بڑھ گئی کہ اس کا علاج پشاور میں ہی ممکن ہے۔ وہاں میرے نو آپریشن ہوئے لیکن آج بھی میرا ہاتھ ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہا۔”

انہوں نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا: "کاش! میں وہ درد سہہ لیتی اور گاؤں کے اس ڈاکٹر کے پاس نہ جاتی۔ میرا شوہر دیہاڑی دار ہے، لاکھوں روپے لوگوں سے قرض لے کر میرے علاج پر خرچ کیے لیکن اس ڈاکٹر نے آج تک ہمارا حال تک نہیں پوچھا۔ ہم غریب لوگ اس کیخلاف تھانے یا عدالت جانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔”

باجوڑ میں مسرت بی بی کی طرح ہر سال ہزاروں افراد صحت کے غیرقانونی مراکز میں بیٹھے ناتجربہ کار ڈاکٹروں اور عطائیوں کی وجہ سے یا تو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا پھر عمر بھر کے لیے معذور بن جاتے ہیں۔ 2018 میں فاٹا انضمام کے بعد سے لے کر آج تک، قریباً پانچ سال گزرنے کے بعد بھی قبائلی اضلاع میں ہیلتھ کیئر کمیشن کا کوئی وجود ہے نہ ہی وہاں غیرقانونی کلینکس اور موجود عطائیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا کوئی نظام موجود ہے۔

2017 کی مردم شماری کے مطابق باجوڑ کی آبادی 10 لاکھ 93 ہزار 684 نفوس پر مشتمل ہے۔ محکمہ صحت باجوڑ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق عوام کے لیے صحت کے 44 مراکز قائم کئے گئے ہیں جن میں ایک ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال، تین کیٹیگری ڈی ہسپتال، دو آر ایچ سی، 19 صحت کے بنیادی مراکز اور 19 کمیونٹی ہیلتھ سنٹرز شامل ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال خار کے علاوہ صحت کے ان تمام مراکز میں عملے کی تعداد 827 ہے۔  ٹرائبل یوتھ موومنٹ کے سروے کے مطابق  باجوڑ کی ہر تحصیل میں 20 سے 25 تک غیرقانونی اور غیررجسٹرڈ کلینکس موجود ہیں جو غیرمستند افراد اور عطائی چلاتے ہیں۔

صحت کے غیرقانونی مراکز، عطائیوں اور ناقص ادویات کے حوالے سے جب نے ہم ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر فیصل کمال سے جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے بتایا کہ غیرقانونی لیبارٹریوں، میڈیکل سٹورز اور جعلی ادوایات کیخلاف آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ جن میڈیکل اسٹورز والوں کے پاس لائسنس موجود نہیں ان کو سیل کردیا جائے گا۔ ٹوٹل 371 سٹورز میں صرف 23 کے ساتھ لائسنس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں کسی کو غیرقانونی میڈیکل سٹورز چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جب ان سے صحت کے غیرقانونی مراکز اور عطائی ڈاکٹروں کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ہیلتھ کیئر کمیشن کا کام ہے جس کا عملہ اور دفتر باجوڑ میں موجود نہیں لیکن اس پر کام شروع ہے اور جلد کمیشن باجوڑ میں بھی اپنا کام شروع کردے گا۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کیا ہے؟

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن صوبائی حکومت کا ایک ادارہ ہے جو 2015 میں صوبائی اسمبلی سے قانون پاس ہونے کے بعد وجود میں آیا ہے اور خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2015 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس ادارے کا کام شعبہ صحت کو ریگولیٹ کرنا ہے۔ یہ ادارہ صحت مراکز کی رجسٹریشن اور انہیں لائسنس بھی مہیا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں عطائیوں اور غیرمستند ڈاکٹروں کے خلاف قانونی کارروائی بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں آئین نے کمیشن کو سول کورٹس کے برابر اختیارات دیئے ہیں۔

واجد علی شاہ اتمانی سماجی کارکن اور باجوڑ یوتھ جرگہ کے چیئرمین ہیں۔ باجوڑ میں غیرقانونی کلینکس اور عطائی ڈاکٹروں کے حوالے سے انہوں نے ٹی این این کو بتایا کہ ضم اضلاع بالخصوص باجوڑ میں عطائی اور غیرمستند ڈاکٹروں کی بھرمار ہے جو صحت کے مراکز میں بیٹھے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ واجد علی شاہ نے بتایا کہ یہاں بیماری کی تشخیص کیے بغیر مریضوں کو ادوایات تجویز کی جاتی ہیں جن کے استعمال سے انسانی صحت بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑ جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم ہوئے پانچ سال ہو گئے لیکن ابھی تک یہاں ہیلتھ کیئر کمیشن نے کوئی ایک بھی کاروائی نہیں کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دیگر اداروں کی طرح ہیلتھ کیئر کمیشن کو بھی یہاں کام شروع کرنا چاہیے تاکہ یہاں کی عوام کو صحت کی بہترین سہولیات میسر ہو۔

باجوڑ میں سٹاف نہ ہونے کی وجہ سے صحت کے کئی مراکز غیرفعال بھی ہیں۔ تحصیل سلارزئی میں دو سی ایچ سی، تحصیل خار، تحصیل اتمانخیل اور تحصیل ماموند میں ایک ایک کمیونٹی ہیلتھ سنٹر غیرفعال ہے۔ ایک مرکز کی تعمیر پر 2014 میں 60 لاکھ روپے لاگت آئی تھی۔

بند مراکز کے حوالے سے محکمہ صحت باجوڑ کے ایک نمائندے نے بتایا کہ ان مراکز کے لیے سٹاف کی منظوری 2020 میں دی گئی تھی لیکن اس وقت کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے نئی بھرتیوں پر پابندی لگائی جس کی وجہ سے وہاں تعیناتیاں نہ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مراکز میں ایک ای پی آئی ٹیکنیشن، ایک ایل ایچ وی، ایک ڈسپنسر، ایک دائی اور دو کلاس فور خدمات سر انجام دیتے ہیں۔

ضم اضلاع میں عطائیوں اور صحت کے غیرقانونی مراکز کی طرح سینکڑوں غیررجسٹرڈ میڈیکل سٹورز بھی موجود ہیں جن پر قابو پانے کے لیے پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد وہاں پہلی بار ڈرگز انسپکٹرز تعینات کیے گئے ہیں۔ باجوڑ میں ڈیوٹی پر مامور ڈرگ انسپکٹر عثمان امین نے بتایا کہ یہ پسماندہ علاقے ہیں اور یہاں اس حوالے سے آگاہی کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ابتدائی مرحلے میں آگاہی سیمینارز کے ساتھ ساتھ لوگوں کی کونسلنگ بھی کر رہے ہیں۔

عثمان امین کے مطابق باجوڑ میں میڈیکل اسٹورز کی تعداد 371 ہے۔ پورے ضلع میں فارماسسٹ کی تعداد محض 23 ہے جن میں پانچ باجوڑ میں میڈیکل سٹورز چلا رہے ہیں جبکہ 18 مختلف علاقوں میں سرکاری نوکریاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل سٹور کھولنے کے لیے لائسنس کا ہونا لازمی ہے جو دو سال فارمیسی ڈپلومہ یا پانچ سال کورس مکمل کرنے والے ڈاکٹر آف فارماسسٹ کو مہیا کیے جاتے ہیں۔ لیکن باجوڑ میں ہم نرمی کر رہے ہیں اور لوگوں کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ قانونی تقاضوں کو پورا کریں۔

انہوں نے کہا کہ باجوڑ وہ پہلا ضلع ہے جہاں فارمیسی میں دو سالہ ڈپلومہ کرنے کے لیے کالج کی اجازت دی گئی ہے جس میں 150 میڈیکل اسٹورز چلانے والے افراد نے داخلہ لیا ہے جو اگلے سال فارغ ہو جائیں گے جس کے بعد دوسرا بیچ آئے گا اور اس طرح باجوڑ میں میڈیکل اسٹورز کو قانون کے دائرہ اختیار میں لایا جائے گا۔ صحت کے غیرقانونی مراکز اور غیرمستند ڈاکٹروں کے حوالے سے ڈرگ انسپکٹر عثمان امین نے بتایا کہ وہ ہیلتھ کیئر کمیشن کی ذمہ داری ہے اور ان کے ساتھ ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق ان کی ٹیم نے یکم نومبر 2022 سے 27 نومبر 2022 تک 19 اضلاع میں صحت کے 762 مراکز کا معائنہ کیا ہے جن میں 137 مراکز کو سیل جبکہ 89 مراکز کو نوٹسز جاری کئے گئے۔ ڈیٹا کے مطابق سوات میں 152 جبکہ ایبٹ آباد میں 106 مراکز کا معائنہ کیا گیا ہے۔ 19 اضلاع کے 762 معائنوں میں قبائلی اضلاع کا ایک بھی علاقہ اور مرکز شامل نہیں ہے۔

غیررجسٹرڈ کلینکس اور عطائیوں کے حوالے سے خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ندیم اختر نے بتایا کہ صحت کا ہر وہ مرکز جس کا کام مریض کو صحت کی سہولت دینا ہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ ہیلتھ کیئر کمیشن کے ساتھ رجسٹریشن کرے اور ہمارے مقرر کردہ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے لائسنس حاصل کرے۔ انہوں نے کہا کہ جس نے رجسٹریشن نہیں کی ہے یا لائسنس کے لیے درخواست جمع نہیں کرائی ہے تو وہ غیرقانونی کام کر رہے ہیں جس پر ان کیخلاف قانونی کاروائی ہو سکتی ہے۔

رجسٹریشن اور لائسنس میں کیا فرق ہے؟

جب کوئی نیا کلینک یا لیبارٹری کھولتا ہے تو ہیلتھ کیئر کمیشن کی لسٹ میں اس کی رجسٹریشن لازمی ہوتی ہے کہ یا ادارہ کس نام سے اور کہاں قائم ہے۔ اب یہ ادارہ چلانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک معیار کے مطابق مریضوں کو صحت کی سہولیات فراہم کریں۔ ہیلتھ کیئر کمیشن قانون کے مطابق رجسٹریشن کے بعد ان کو وقت دیا جاتا ہے یہ اندازہ لگانے کے لئے کہ مذکورہ مرکز میں مریضوں کو معیاری سہولیات دی جا رہی ہیں یا نہیں۔ پوری تسلی کے بعد ہی ان کو لائسنس فراہم  کیا جاتا ہے.

ہیلتھ کیئر کمیشن نے سال 2022 میں صحت کے سات ہزار مراکز کا معائنہ کیا جن میں سے 800 مراکز کو صحت کی غیرتسلی بخش سہولیات پر سیل جبکہ 1600 مراکز کو نوٹس جاری کئے گئے جن کی سماعت مرکزی ہیڈ آفس میں ہوتی ہے۔ سماعت کے بعد ان مراکز کو یا تو بہتری لانے کیلئے موقع دیا جاتا ہے یا پھر مستقل طور پر سیل کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ ان کو جیل کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

ہیلتھ کیئر کمیشن خیبر پختونخوا کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق ڈاکٹروں کی جانب سے کسی قسم کی کوتاہی یا لاپرواہی پر ان کیخلاف تحقیقات کی جاتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے مخصوص کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سال 2022 کے دوران انہیں اس حوالے سے 1300 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے ایک ہزار پر کام ہو چکا ہے جبکہ تین سو پر اب بھی کام ہو رہا ہے۔ ان کے لیے قانون میں لائسنس منسوخی، کلینک سیل کرنا، ان کو جرمانہ کرنا اور جیل بھیجنا شامل ہے۔

ضم اضلاع میں ہیلتھ کیئر کمیشن کا وجود کیوں نہیں؟

اس سوال کے جواب پر ڈاکٹر ندیم اختر نے بتایا کہ ضم اضلاع میں ہمارا کوئی دفتر موجود نہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہاں پر ہماری سرگرمیاں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ندیم اختر کے مطابق پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد زیادہ تر صوبائی اداروں نے ضم اضلاع میں کام شروع کیا ہے لیکن محدود وسائل اور سٹاف کی کمی کی وجہ سے انہوں نے ابھی تک ضم اضلاع میں صحت کے غیرقانونی مراکز اور عطائیوں کیخلاف وہ کاروائی نہیں کی جو کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اب انہوں نے ایک نجی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جو بشمول ضم اضلاع صوبہ بھر میں موجود صحت کے مراکز کی رجسٹریشن جیو ٹیگینگ کرے گی۔ "کمپنی ہمیں صحت کے ان مراکز کی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ دے گی جس کی بنیاد پر یا تو ہم ان کو لائسنس جاری کریں گے یا ان کو سیل کریں گے اور ان کیخلاف قانونی کارروائی کریں گے۔”

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو ندیم اختر پرامید ہیں کہ ضم اضلاع میں یہ عمل رواں سال مکمل ہو جائے گا۔

نوٹ۔ یہ سٹوری پاکستان پریس فاونڈیشن کی تحقیقاتی فیلوشپ کا حصہ ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button