صحت

ٹی بی: ‘خیبر پختونخوا میں ہر سال 100 سے زائد لوگ مر رہے ہیں’

رانی عندلیب

ساتویں جماعت کے طالبہ علیشبہ کو جب چند ماہ پہلے بخار تھا تو وہ وقتی طور پر میڈیسن لینے سے ٹھیک ہوجاتی لیکن مکمل صحتیاب نہیں ہوتی اور ہر دوسرے روز بخار ان پر حملہ کرتا۔ وہ آئے روز سکول سے چھٹی کرتی جبکہ دو تین ہفتوں کے دوران اس کے ناخن اور بال جھڑنے لگے اور دادی کو لگا کہ یہ علامت تو ٹی بی کے ہیں۔

ٹی این این سے گفتگو میں علیشبہ نے بتایا کہ دادی کے کہنے پر ماں انہیں ڈاکٹر کے پاس لے گئیں اور معائنہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ٹی بی کا شکار ہے۔

پاکستان میں ٹی بی کے حوالے سے آگاہی نا ہونے کہ وجہ سے ہر سال اس مرض میں اضافہ ہوتا ہے۔ عالمی ادارے صحت کے مطابق سال 2022 میں ایشیائی ممالک کے 61 فیصد مریضوں میں ٹی بی کی تشخیص ہوئی ہے جن میں زیادہ تر مریض پاکستان سے تھیں۔

علیشبہ نے بتایا کہ نو مہینے تک مسلسل علاج کرنے کے بعد اب وہ صحت مند زندگی بسر کر رہی ہے جبکہ ڈاکٹر کے بقول علاج کے دوران کسی بھی قسم کی کوتاہی ان کی صحت کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں بطور ٹی بی کنسلٹنٹ فرائض سر انجام دینے والی ڈاکٹر انیلا باسط نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ہر سال پانچ لاکھ دس ہزار ٹی بی کے نئے کیسز سامنے آتے ہیں جن میں 61 فیصد مریض ایشیائی ممالک کے ہوتے ہیں جبکہ ان  میں پاکستان کے 15 ہزار چالیس مریض شامل ہوتے ہیں۔

ان کے بقول خیبر پختونخوا میں بھی ٹی بی مریضوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جبکہ ہر سال 121 مریض ٹی بی سے مر جاتے ہیں جس کی بنیادی وجہ عوام میں اس مرض کے حوالے سے آگاہی نا ہونا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام میں آگاہی سے متعلق ہر سال عالمی سطح پر 24 کو مارچ ٹی بی کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس میں اس بیماری کی علامت اور ان سے بچاؤ پر روشنی ڈالی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر انیلا بتاتی ہیں کہ ٹی بی قابل علاج مرض ہے جبکہ احتیاط نہ کرنے پر یہ مرض دیگر لوگوں میں بھی پھیل سکتا ہے جس سے اس بیماری کے پھیلنے میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے ٹی بی علامت کے بارے میں بتایا کہ اس مرض میں مریض کا وزن کم ہونا، ہلکا بخار، کھانے میں دل نہ لگنا، کھانسی میں خون آنا اور رات کو زیادہ پیسنہ آنا شامل ہیں۔

دوسری جانب ٹی بی کنٹرول پروگرام پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر مدثر شہزاد کا کہنا ہے کہ ہر سال 90 ہزار لوگ خیبرپختونخوا میں ٹی بی کا شکار ہوتے ہیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت سب سے بڑا مسلہ مذاحمتی ٹی بی کی تشخیص ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جین ایکسپرٹ مشین کے زریعے مذاحمتی ٹی بی کے علاج کو ممکن بنایا جارہا ہے۔ یہ جین ایکسپرٹ مشین ہر ضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں موجود ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹی بی سے بچاو کیلئے حفاظتی مہم شروع کررہے ہیں جسے پریوینٹیو تھراپی کہتے ہیں تاکہ صحت مند لوگوں کو ٹی بی سے محفوظ کیا جائے۔

عالمی ادارہ صحت کے پی سب آفس کے ہیڈ ڈاکٹر بابر عالم نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں ٹی بی کی تشخیص میں سب سے بڑا مسئلہ بلغم ٹسٹ کرانا اور دور دراز علاقوں میں بلغم نمونے کا بروقت لیبارٹری تک پہنچنا ہے جس کیلئے عالمی ادارہ صحت نے ٹی بی کنٹرول پروگرام کو پچاس خصوصی موٹرسائیکلیں، پچیس مائکروسکوپ اور ایک فور بائے فور گاڑی مہیا کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عالمی ادارہ صحت اپنی مینڈیٹ کے مطابق اس پروگروم کی معاونت جاری رکھے گا۔

ادھر 24 مارچ کو ٹی بی کے عالمی دن کے حوالے سے مشیر صحت ڈاکٹر عابد جمیل کا کہنا تھا کہ ٹی بی کا سدباب فوری ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں ہر سال پانچ سے چھ لاکھ افراد ٹی بی کا شکار ہوتے ہیں جبکہ یہ بیماری ایک موذی مرض ہے اور ایک مریض سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے لہٰذہ اس کا تدارک انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹی بی پروگرام سالانہ 45 سے 50 ہزار مریض رجسٹرڈ کرواتا اور اب تک ٹی بی کنٹرول پروگرام سات لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کرواچکا ہے۔

مشیر صحت نے بتایا کہ جدید ایکسرے مشین سے لیس ٹی بی ٹیسٹنگ موبائل وینز صوبے کے دور دراز علاقوں میں بھیجی جارہی ہیں تاکہ ٹی بی کی بروقت تشخیص و علاج ممکن ہوسکے۔

Show More

Salman

سلمان یوسفزئی ایک ملٹی میڈیا جرنلسٹ ہے اور گزشتہ سات سالوں سے پشاور میں قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ مختلف موضوعات پر کام کررہے ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

Back to top button