صحت

خیبر پختونخوا: قیدیوں میں ایڈز اور ہیپاٹائٹس کی شرح میں 80 فیصد اضافہ ریکارڈ

خیبر پختونخوا بھر کی جیلوں میں موجود قیدیوں میں گزشتہ تقریباً ساڑھے تین سالوں کے دوران ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کی شرح میں 80 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔

محکمہ جل خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری دستاویز کے مطابق جیلوں میں 196 قیدی متعدی بیماریوں میں مبتلا ہیں جن میں سے 138 قیدی ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں، 29 قیدی ہیپاٹائٹس بی، 25 ایڈز اور 4 قیدی ٹی بی میں مبتلا ہیں جبکہ سب سے زیادہ 47 بیمار قیدی پشاور سینٹرل جیل میں ہیں۔

یاد رہے کہ جولائی 2019 میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کی جیلوں میں ایڈز اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد 108 تھی، اس وقت محکمہ جیل خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق پورے صوبے کی مختلف جیلوں میں 12 قیدی ایڈز 71 ہیپاٹائٹس بی اور 25 ہیپاٹائٹس سی کے مرض میں مبتلا تھے۔

تازہ ترین دستاویز کے مطابق خیبر پختونخوا کی جیلوں میں 13 ہزار 76 قیدیوں کی گنجائش ہے اور ابھی ان کی تعداد 14 ہزار 321 ہے، جیلوں میں موجود قیدیوں میں صرف 2 ہزار 897 سزایافتہ ہیں جب کہ 11 ہزار 424 قیدی فیصلوں کے منتظر ہیں۔

اس حوالے سے میڈیا کے ساتھ گفتگو میں پشاور سنٹرل جیل کے حکام نے کہا ہے کہ سنٹرل جیل پشاور کے ہسپتال میں 124 مریضوں کی گنجائش ہے، بیمار قیدیوں کے علاج کے لیے 2 خواتین ڈاکٹرز سمیت 8 ڈاکٹرز موجود ہیں، مختلف امراض میں مبتلا قیدیوں کو دوائیاں بھی دی جا رہی ہیں، جب بھی ضرورت ہو اسپیشلسٹ ڈاکٹرز بھی جیل آتے ہیں۔

جیل حکام کے مطابق قیدیوں کے نفسیاتی امراض کے علاج کے لیے جیل میں سائیکاٹرسٹ بھی ہے۔

یہ بھی خیال رہے کہ 1854 میں قائم سنٹرل جیل پشاور میں صرف 800 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش تھی مگر جرائم کی شرح میں اضافے صوبے کی سب سے بڑی جیل ہونے کی وجہ سے یہاں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے ہمیشہ زیادہ رہی، اور نئے بیرکس بننے کے باوجود بھی سینٹرل جیل پشاور میں قیدیوں کی تعداد میں کمی نہ آ سکی۔

ایک رپورٹ کے مطابق سنٹرل جیل پشاور میں اب بھی 3 ہزار قیدیوں کی جگہ میں 4000 سے زائد قیدیوں کو رکھا جا رہا ہے۔ ان قیدیوں میں سزائے موت کے 217، عمر قید کے 275، کم عمر قیدی 53 اور خواتین قیدیوں کی تعداد 83 ہے جبکہ انسداد دہشت گردی کے مقدمات میں 3 سو سے زائد قیدی بھی پابند سلاسل ہیں اور حوالاتیوں سمیت یہ تعداد 4 ہزار سے تجاویز کر چکی ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button