خیبر پختونخوا میں کینسر کا پھر سے مفت علاج

خیبر پختونخوا حکومت کینسر کے مریضوں کا مفت علاج جاری رکھنے میں کامیاب، اس مقصد کیلئے ایک ارب کا پی سی ون منظور کر لیا گیا۔
محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے حکام کے مطابق پشاور کے ایچ ایم سی اور کے ٹی ایچ، ڈی آئی خان اور ایبٹ آباد میں کینسر مریضوں کو مفت ادویات دی جائیں گی، اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پختون خوا اور دواساز کمپنی کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دو سے تین ہفتوں میں دستخط ہو جائیں گے جس کے بعد کینسر کے مریضوں کا علاج پھر سے مفت ہو سکے گا۔
اس حوالے سے محکمہ صحت کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق مفت علاج کیلئے 10 فیصد حصہ محکمہ صحت اور 90 فیصد دواساز کمپنی نوارٹس مدد کرے گی۔
حکام کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ خون کے مختلف النوع کینسر کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی پانچ قسم کی ادوایات درکار ہوتی ہیں جن کی قیمت ایک لاکھ سے چار لاکھ روپے کے درمیان ہوتی ہے، جبکہ ان بیماریوں کا علاج صحت کارڈ میں بھی شامل نہیں۔
حکام کے مطابق پروگرام کے تحت جون 2022 تک صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 8 ہزار مریضوں کا مفت علاج کیلئے اندراج ہو چکا ہے۔
محکمہ صحت کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق خون کے کینسر میں مبتلا افراد کی تعداد 3764 جبکہ دیگر کینسر میں مبتلا افراد 4850 ہے، مریضوں میں 56 فیصد مرد جبکہ 44 فیصد خواتین شامل ہیں جن کی عمریں 5 سے 97 سال کے مابین ہیں۔
دوسری جانب صوبے کے صحافتی اور عوامی حلقوں نے اسے ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ جلد سے جلد مفت علاج کے اس سلسلے کا آغاز کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ستمبر 2019 میں بھی کے پی حکومت اور نوارٹس نے اس طرح کی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے تھے جس کے تحت اگلے تین سالوں تک کینسر کے مریضوں کو علاج معالجے کی مفت سہولیات فراہم کرنا تھیں۔
مفاہمتی یاداشت پر دستخط کے بعد تب کے صوبائی وزیر صحات ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان کا کہنا تھا کہ کینسر کے مفت علاج کیلئے تین ارب روپے ان کی حکومت جبکہ 27 ارب ادویہ ساز کمپنی مہیا کرے گی، یہ اقدام ان لوگوں کے لئے اہم ہے جو کینسر کا منگا علاج برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔