صحتلائف سٹائل

موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب: پاکستان میں ساڑھے آٹھ کروڑ لوگ بھوک سے متاثر ہوئے ہیں

 

رفاقت اللہ رزڑوال

عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے والے جرمن واچ نامی ادارے کے مطابق 2000 سے 2019 تک پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے سب سے زیادہ متاثرہ پہلے 10 ممالک میں شامل ہیں جہاں پر اموات، قحط اور خشک سالی جیسے مسائل کا سامنا ہے، موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو نہ پایا گیا تو ملک کے شہری خوراک کی کمی کے مشکلات سے دوچار ہوجائیں گے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کے بیشتر علاقوں میں عام لوگ خوراک کی کمی سے متاثر ہیں جبکہ آبادی کی شرح بھی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اگر ان حالات میں موسمیاتی تبدیلیوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو خوراک کی کمی کی شرح مزید بڑھ جائے گی۔

یہ تفصیلات ایسے حال میں سامنے آئی ہے کہ رواں سال کے 25 اگست کو خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان صوبوں میں بڑے پیمانے پر سیلاب آئے تھے جہاں پر تیار پھلوں کے باغات، سبزیوں اور دیگر فصلوں کے ساتھ زرعی زمینیں سیلاب کی نذر ہوگئے تھے جس کی وجہ سے خوراکی اشیاء میں کمی واقع ہوگئی ہے مگر سوال یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے خوراک کی کمی کیسی واقع ہوجاتی ہے؟

خیبرپختونخوا میں کسانوں کے تنظیم کسان بورڈ کے صدر عبدالاکبر خان نے ٹی این این کو بتایا کہ فصل کی معیاری پیداوار میں موسم بہار کلیدی کردار ادار کر رہا ہے اور گزشتہ سال جب خیبرپختونخوا میں گندم کی فصل اُگائی گئی تو اس وقت اپنے مقررہ وقت کے مطابق بارشیں نہیں ہوئیے جبکہ موسم بہار بھی پانچ ہفتوں کی بجائے صرف پانچ دن تک رہی جس سے گندم کی فصلیں جلد پک گئیں اور اسی کی وجہ سے پیداوار میں کمی واقع ہوگئی۔

عبدالاکبر کے مطابق جب بارشیں وقت پر ہوتی ہیں اور موسم بہار بھی مکمل چلتا ہے تو ہماری فی ایکڑ گندم کی پیداوار 40 من ہوتی ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس سال فی ایکڑ گندم کی پیداوار 20 من تک گرگئی ہے جس کی وجہ سے پورے صوبے کی گندم کی پیداوار میں کمی واقع ہوگئی ہے۔

انہوں نے حالیہ سیلابوں سے کاشتکاروں کے اقتصادی حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی تیار فصلیں پانی کی نذر ہوگئیں جس پر لاکھوں روپے کے اخراجات آئے تھے اور اب کاشتکار اس قابل نہیں ہے کہ وہ دوبارہ اپنی زمینوں کو آباد کرے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کاشتکاروں کو مفت تخم، ادویات اور تین سال تک بلا سود قرضے فراہم کرے تاکہ کاشتکار دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔

گزشتہ سال 2021 کے جولائی میں امریکہ کے محکمہ داخلہ نے اپنی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ 2021 سے 2031 تک کی دہائی کے دوران پاکستان کے 38 فیصد شہری خوراک کی کمی سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ خطے میں چین، امریکہ اور ہندوستان سب سے زیادہ خطرناک گیسز کے اخراج والے ممالک میں شامل ہے جس کے براہ راست اثرات پاکستان پر مرتب ہوتے ہیں لیکن ان ممالک نے ان گیسوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے بچنے کیلئے بھرپور منصوبہ بندی کی ہے مگر پاکستان اب بھی سنجیدہ نظر نہیں آ رہا ہے۔

پشاور زرعی یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی تبدیلی سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر ہمایون خان نے ٹی این این کو کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کیلئے زمین کے 25 فیصد حصہ پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے صرف حکومت نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو زمہ داری اُٹھانی پڑی گی ورنہ مستقبل میں قحط، خشک سالی اور مزید سیلابوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب زمین پر جنگلات کا رقبہ کم ہو تو کارخانوں، گاڑیوں اور فضاء میں موجود خطرناک گیسز کاربن ڈائی آکسائیڈ وغیرہ زمینی ماحول کو گرم رکھتی ہے جس سے گلیشئر پگھل جاتے ہیں جو سیلابوں کا باعث بن جاتی ہے، اگر زمین پر جنگلات کا رقبہ معیاری ہوتو جنگلات خطرناک گیسز کو جذب کرتی ہے جس سے ماحول متوازن رہتا ہے۔

ڈاکٹر ہمایون نے بتایا کہ جب سیلاب یا دیگر قدرتی آفات آتے ہیں تو اس کے براہ راست اثرات خوراکی اشیاء پر پڑتے ہے جس سے نہ صرف اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہے بلکہ ان میں کمی بھی آجاتی ہے۔

بچوں کی تحفظ کے بین الاقوامی ادارے سیو دی چلڈرن نے حالیہ سیلابوں کے بعد اپنی جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت پاکستان میں 8 کروڑ 62 لاکھ افراد شدید بھوک سے متاثر ہوئے ہیں جن میں 3 کروڑ 40 لاکھ بچے شامل ہیں جبکہ ان میں سے بیشتر کا تعلق سیلاب متاثرین کا ہے۔

زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جہان بخت کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا اثر براہ راست زراعت، خوراک، انسانوں اور جانوروں پر مرتب ہوتا ہے اور یہ مسئلہ اس وقت تب واضح طور پر سامنے آیا جب ہم اس سال براہ راست سردی سے گرمی کی طرف چلے گئے اور موسم بہار کا وقفہ درمیان میں نہیں آٰیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سال بارشوں کا سلسلہ یا تو بروقت شروع نہیں ہوا اور جب شروع ہوا تو اندازے سے زیادہ بارشیں برسی اگر موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کیلئے اقدامات نہ اُٹھائے گئے تو 2025 تک پاکستان پانی کی کمی کا بھی سامنا کرسکتا ہے۔

ڈاکٹر بخت کے مطابق پانی کے مسئلے سے بچنے کیلئے ہم زراعت میں جدت لا رہے ہیں جس کیلئے ہمیں ایسے بیج ایجاد کرنے چاہئے جو نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرسکیں بلکہ انکو پانی کی بھی بہت کم ضرورت ہو جس کیلئے پشاور زرعی یونیورسٹی نے ڈریپ ایریگیشن کا نظام متعارف کیا ہے جس میں پانی کا استعمال بھی کم ہوتا ہے اور پیداوار بھی زیادہ ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے پاس کے صرف ایک ماہ تک پانی جمع کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور اس مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں چھوٹے اور بڑے ڈیموں کی تعمیر کرنی ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے زمین کے 25 فیصد رقبے پر جنگلات کا قیام، کارخانوں سے زہریلی گیسز کے اخراج کی روک تھام اور پانی کا کم استمال اہم اقدامات ہے۔
.

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button