صحت

”نماز پڑھ رہا تھا جب کال آئی کہ آپ کی بیٹی نے دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی ہے”

کائنات علی

چترال سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ لڑکی زیبا (فرضی نام) ایک نجی بینک میں ملازمہ تھیں اور انہوں نے حال ہی میں خودکشی کی ہے۔ ان کے والد نے ٹی این این کو بتایا، ”میں ایک کیس کے سلسلے میں باہر تھا، نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے اطلاع ملی کہ میری بیٹی نے دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی ہے، میری بیٹی نے فنانس میں ماسٹرز کیا تھا اور ایک نجی بینک میں منیجر کے عہدے پر تعینات تھی۔”

انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی کو بظاہر کوئی مسئلہ نہِیں تھا لیکن خودکشی کرنے سے چند ہفتے پہلے وہ ذہنی دباؤ میں نظر آ رہی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور سول سوسائٹی کے کارکنان چترال میں خودکشی کی روک تھام کے لیے آگاہی سیمینارز منعقد کریں۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 10 ستمبر کو خود کشی سے بچاؤ کا عالمی دن یعنی (World Suicide Prevention Day) منایا جاتا ہے جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر خودکشی سے بچاؤ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہر سال دنیا میں تقریباً 1 ملین افراد خودکشی کرتے ہیں۔ خیبر پختون خوا کے ضلع چترال میں یہ شرح سب سے زیادہ ہے۔

جامعہ پشاور کے اساتذہ کی ایک تحقیق کے مطابق سال 2013 سے اب تک چترال کے علاقے میں 176 افراد نے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کیا ہے اور ان میں 58 فیصد یعنی 102 خواتین شامل ہیں۔ تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ چترال میں خودکشیاں کرنے والے افراد کی عمریں 15 سے 30 سال کے درمیان ہوتی ہیں۔

چترال کے علاقہ دروش کے رہائشی خادم حسین پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل ہیں اور وہ "تحریک تحفظ حقوق چترال” کے نام سے اہل چترال کے لیے ایک موثر آواز اٹھا رہے ہیں، وہ خودکشیوں کی روک تھام کے حوالے سے چترال میں رضاکارانہ طور پر آگاہی سیمینارز منعقد کرواتے ہیں۔

خادم حسین ایڈووکیٹ نے ٹی این این کو بتایا کہ چترال کی آبادی کم ہے اس وجہ سے خودکشیوں کے تمام کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔

چترال میں خودکشیوں کی بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک وجہ وہ خواتین کو ملنے والے طعنے قرار دیتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ چترال میں اگر کوئی کسی لڑکی کے حوالے سے کہے کہ انہوں نے کسی غیر مرد کے ساتھ فون پر بات کی ہے تو پھر عمر بھر کوئی اس لڑکی سے رشتہ نہیں کرتا، اگرچہ لڑکی پر لگائے گئے الزامات جھوٹ پر مبنی کیوں نہ ہوں، لوگ اسے طعنے دیتے ہیں اور وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ خادم حسین ایڈوکیٹ کے مطابق گھریلو جھگڑے اور بے روزگاری بھی اس کی ایک وجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ کیسز میں قتل کو خودکشی کا رنگ دیا جاتا ہے، ایسے ہی ایک کیس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چترال کی ایک لڑکی نے شادی کی، اسلام قبول کیا اور پھر سسرال والوں نے اسے مار کر اسے خودکشی کا رنگ دے دیا، ”اب میں ان کا وکیل ہوں اور اس لڑکی کے خاندان کو انصاف دلانے کیلئے عدالت میں کیس لڑ رہا ہوں۔”

خادم حسین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ چترال میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، وہاں کی پولیس جدید تربیت سے آراستہ نہیں اس لئے ان کے لئے خودکشی اور قتل میں فرق کرنا ایک چیلنج ہوتا ہے۔

خودکشی دنیا کے تمام خطوں میں ہوتی ہے۔ درحقیقت، 77 فیصد خودکشیاں کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں، 15-29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں، سڑک کی چوٹ، تپ دق اور باہمی تشدد کے بعد خودکشی موت کی چوتھی بڑی وجہ تھی۔ خواتین میں خودکشی کی سب سے زیادہ شرح کم متوسط ​​آمدنی والے ممالک میں پائی جاتی ہے۔

پاکستان خودکشی کے قومی اعدادوشمار مرتب نہیں کرتا۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں خودکشی کی شرح فی 100,000 افراد میں 8.9 ہے، جو کہ عالمی اوسط 9 فیصد سے کچھ کم ہے۔

کلینیکل سائیکالوجسٹ عمارہ اقبال نے اس حوالے سے ٹی این این کو بتایا کہ خودکشیوں کی روک تھام کے حوالے سے عالمی دن منانے کا مقصد ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کے شکار افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے، ”لوگ خودکشی اس پریشانی اور اذیت سے جان چھڑانے کیلئے کرتے ہیں جو انسان کو پریشان کرتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ اس سال اس دن کا تھیم ہے کہ اپنے رویوں سے لوگوں کے دلوں میں امید جگائی جائے، لوگوں کو مایوسی سے نکال کر ان کو نئی امیدیں دی جائیں۔

عمارہ اقبال کا کہنا تھا کہ 2017 میں خیبر پختونخوا اسمبلی نے مینٹل ہیلتھ ریگولیٹری ایکٹ پاس کیا ہے لیکن آج تک اس کو ایمپلیمنٹ نہیں کیا گیا، ”یہاں قانون تو بن جاتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کروانے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہوتا۔”

وہ سمجھتی ہیں کہ خودکشیوں کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ موثر قانون سازی کی جائے اور اس کو سختی سے ایمپلیمنٹ کیا جائے، ”یہ ذہنی بیماری ہے اور اس کی روک تھام میں آگاہی سیمینارز، ٹی وی اور ریڈیو کے ذریعے مہم مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔”

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button