صحت

یتیم خانوں میں مقیم بچوں کو کرونا ویکسین لگانے کا طریقہ کار کیا ہے؟

جاوید محمود، کائنات

پاکستان کی حکومت نے 28 ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ کورونا وبا سے بچاؤ کیلئے ملک بھر میں بارہ سال سے 18 سال تک کی عمر کے بچوں کو کورونا ویکسین لگائی جائی گی لیکن ملک بھر میں ایسے بچے بھی ہیں جو یتیم خانوں میں اپنی زندگی بسر کرتے ہیں تو کیا ان بچوں کو ویکسین کو پہنچ چکی ہے یا نہیں؟
اس حوالے سے پشاور کے ایس او ایس کے نام سے ایک نجی یتیم خانہ کی ڈائریکٹر کوکب قریشی کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ گزشتہ 30 سال سے یتیم بچوں کی کفالت کر رہا ہے اور اب بھی انکے ادارے میں 79 بچے زیرکفالت ہیں۔
کوکب قریشی کا کہنا ہے کہ انکے ادارے میں کورونا وبا سے بچاؤ کیلئے حکومتی ہدایات یا ایس او پیز پر مکمل درآؐمد کیا جاتا ہے کہتی ہے کہ جب کورونا وبا پھوٹ پڑی اور ایس او پیز جاری کئے گئے تو انہوں نے بچوں کی ایک اجلاس بُلائی اور انہیں سمجھایا کہ وہ ایک دوسرے سے کم از کم ایک گز کے فاصلے پر دور رہیں، سینیٹائزرز اور ماسک کا استعمال کرے۔
انہوں نے کہا کہ اکثر بچوں کو انکے عزیز و اقارب ملنے آتے تو انکے لئے بھی ہم نے مکمل ایس او پیز کا اہتمام کیا تھا اور بچوں سے ملنے کیلئے انکے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھنا یقینی بنایا تھا۔
ایس او ایس کی ڈائریکٹر کوکب قریشی کہتی ہے کہ ان کے ادارے میں جتنے بھی بارہ سال سے زائد عمر کے بچے ہیں تو انکو کورونا ویکسین کی پہلی خوراک لگائی جا چکی ہے اور دوسری کچھ دن بعد لگائی جائے گی۔
کوکب کہتی ہے کہ اگر اسکے علاوہ بچوں کو دیگر بیماریاں لاحق ہوجائے تو ہمارے پاس موجود ایمبولینس میں بچوں کو مختلف ہسپتالوں کو لے جایا جاتا ہے اور وہی ہسپتالوں سے انکا مفت علاج کیا جاتا ہے۔
مگر کورونا وبا کے اور ویکسین کے بارے میں بارہ سال سے زائد عمر کے بچے کتنا علم رکھتے ہیں، اس حوالے سے یتیم خانہ میں موجود بچہ یمان کا کہنا ہے کہ یہ ایک عالمی وبا ہے اور ایک جان لیوا مرض ہے۔


ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس وبا کے خلاف ویکسین کی پہلی خوراک لی ہوئی ہے اور دوسری خوراک میعاد پوری کرنے پر دوسری خوراک بھی لینگے لیکن اس کے ساتھ ادارے کے ایس او پیز پر بچے مکمل طور پر عمل درامد کر رہے ہیں۔
بچوں کی ویکسین لگانے کے حوالے سے نیشنل کمانڈ اینڈ اپریشن کی کیا پالیسی ہے تو اس حوالے سے این سی این او سی کا نمائندہ ڈاکٹر امتیاز کا کہنا ہے کہ انکا طریقہ کار یہ ہے کہ ایک موبائیل ٹیم کے ذریعے یتیم خانوں میں بھیجی جاتی ہے اور وہاں پر بارہ سال سے اٹھارہ سال تک کے بچے ویکسینیٹ کئے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہاں پر سب سے پہلے انکے فارم ب سے بچوں کی رجسٹریشن کروائی جاتی ہے اور تصدیقی میسج آنے کے بعد انکی ویکسین کرائی جاتی ہے۔
ڈاکٹر امتیاز کہتے ہیں کہ کورونا وبا ایک جان لیوا وائرس ہے اور اس حوالے سے وہ معاشرے کے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو شعور دلانے کیلئے میڈیا، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کا سہارا لیا جارہا ہے تاکہ وہ لوگ قائل ہوسکیں اور اس وبا کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button