بلاگزصحت

ویکسینشن سے دوبارہ کورونا کی تشخیص اور آئی سی یو میں جانے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ عالمی ادرہ صحت

سلمیٰ جہانگیر

”کورونا سے صحتیاب ہونے اور ویکسین کروانے کے بعد یہ تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ دوبارہ بھی یہ بیماری ہو سکتی ہے، بخار جب شروع ہوا تو لگا کہ یہ زکام کے ساتھ ہو سکتا ہے لیکن جب پورے بدن میں درد ہونے لگا اور ڈاکٹر کے پاس گیا تو انہوں نے کورونا ٹیسٹ کا کہا، حیرانگی کی انتہا اس وقت نا رہی جب ٹیسٹ مثبت آیا کیونکہ ویکسین کی پہلی خوراک لے چکا تھا اور دوسری خوراک لینے میں 5 دن باقی تھے۔”

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں افغان کالونی کے رہائشی رشید احمد نے مزید کہا کہ انہوں نے تو یہ سنا تھا کہ ویکسین کے بعد وہ کورونا سے محفوظ ہو جائیں گے لیکن یہ بات تو غلط نکلی۔

مختلف تحقیقی رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس ویکسین لگانے سے ری انفیکشن کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے، تحقیق کے مطابق کورونا ویکسین نا لگوانے والوں میں ہر 16 ماہ بعد کورونا کی دوسری تشخیص کا امکان ہوتا ہے۔

ڈنمارک کے اسٹیٹنز انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 65 سال سے کم عمر افراد کو بیماری کے 6 ماہ بعد ری انفیکشن سے 80 فیصد جبکہ 65 سال سے زائد عمر کے افراد کو محض 47 فیصد تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

پشاور کی جمیلہ بی بی نے بتایا کہ ان کی والدہ ویکسینیٹڈ تھیں لیکن پھر بھی کورونا سے ان کا انتقال ہوا۔ ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں جمیلہ نے کہا کہ ان کی والدہ کو اپریل میں پہلی مرتبہ کورونا ہوا تھا جس سے وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکی تھیں۔ جولائی میں جمیلہ کی والدہ کو Cansino ویکسین کی خوراک دی گئی لیکن اسی مہینے کے آخری دنوں میں ان کی والدہ کو دوبارہ کورونا ہو گیا۔ 4 دن تک ہسپتال میں داخل رہیں اور وینٹی لیٹر پر زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے بازی ہار گئیں۔

ڈاکٹر کے مطابق ان کی والدہ کے پھیپھڑے کورونا کی وجہ سے کافی متاثر ہو چکے تھے جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہو گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ویکسین لگانے کے بعد دوبارہ بھی یہ بیماری ہو سکتی ہے؟

ماہرین کے مطابق کورونا انفیکشن کا اثر بعض اوقات 14 دن کے بعد ظاہر ہوتا ہے لہذا یہ ممکن ہے کہ ایک دفعہ کورونا سے متاثر ہونے اور ویکسین لینے کے بعد بھی یہ انفیکشن ہو سکتا ہے کیونکہ ویکسینیشن کے بعد اینٹی باڈیز تیار ہونے میں وقت لگتا ہے۔

ایل آر ایچ کورونا کمپلیکس کے انچارج ڈاکٹر ظفر اقبال کے مطابق کورونا ویکسینیشن بہت ضروری ہے، ویکسین کی دونوں خوراک لینے کے بعد ان لوگوں میں کورونا کے ری انفیکشن کے چانسز 90 فیصد تک کم ہو جاتے ہیں اور صرف 10 فیصد لوگوں کو دوبارہ کورونا ہو سکتا ہے۔ نئے سٹیٹسٹکس کے مطابق 80 سے 90 فیصد لوگوں میں ری انفیکشن کے چانسز نہیں ہوتے اور اگر باقی 10 فیصد لوگوں کو کورونا دوبارہ ہو بھی جائے تو اس سے اموات نہیں ہوتیں اور آئی سی یو تک بات نہیں جاتی۔

انہوں نے کہا کہ ویکسین لگانے کے بعد ری انفیکشن کے چانسز اگر ہو بھی تو انفیکشن اتنا شدید نہیں ہوتا۔ انچارج نے کہا کہ جس طرح اور بیماریاں ویکسین لگانے سے ختم تو نہیں ہوتیں لیکن ان کا اثر کم ہو جاتا ہے اسی طرح کورونا ویکسین کے لگانے سے بھی شرح اموات میں کافی حد تک کمی پائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سائنو فارم، موڈرنا، فائزر یا جتنے بھی دوسری ویکسین ہیں ان سب کی ایفیکیسی 80 فیصد سے 95 فیصد تک ہے، کوئی ویکسین بھی دوسرے سے اعلیٰ نہیں ہے، سب کے نتائج ایک جیسے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر اقبال نے بتایا کہ اگر ویکسینیشن کروانے کے بعد ہلکا سا بخار ہو جائے تو یہ عام سی بات ہے، جس طرح خسرہ یا روبیلا وغیرہ کی ویکسین کے بعد ہلکا سا بخار ہوتا ہے تو بچوں کو بروفین وغیرہ دیتے ہیں اسی طرح اگر کورونا ویکسین سے بھی بخار ہو جائے تو پیناڈول لینی چاہئے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) پشاور کے ایک اہلکار کے مطابق ہر ویکسین کی الگ ایفیکیسی ہوتی ہے، جس ویکسین کی 95 سے 97 فیصد ایفیکیسی ہوتی ہے تو جن لوگوں نے وہ ویکسین لگائی ہو ان میں 5 سے 3 فیصد تک کورونا وائرس کے دوبارہ ایکٹیو ہونے کے چانسز ہوتے ہیں اور وہ دوسری مرتبہ بھی اس بیماری سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی نے ایسی ویکسین لگائی ہو جس کی ایفیکیسی 75 سے 80 فیصد ہو تو ان میں 20 سے 25 فیصد تک کورونا سے متاثر ہونے کے چانسز ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق سائنو فارم ویکسین 18 سے 60 برس کے افراد کے لئے موزوں ہے۔ ان کے مطابق 60 برس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے، حاملہ خواتین اور 18 سال سے کم عمر افرادکے لیے یہ ویکسین موزوں نہیں۔

سائنو ویک کے میڈیکل افیئرز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر گاؤ یونگ جون کے مطابق تییار کردہ کوویڈ 19 ویکسین سائنو ویک اب 6 ماہ یا اس سے زائد عمر کے بچوں کے لیے محفوظ ہے۔

ڈاکٹر گاؤ یونگ نے بتایا کہ ٹرائلز کے تیسرے مرحلے کے ابتدائی نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ویکسین بچوں کے لیے بہت زیادہ محفوظ ہے اور کسی قسم کے سنگین اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

پری پرنٹ رپورٹ کے مطابق فائزر کووڈ ویکسین کی افادیت 6 ماہ بعد 12 فیصد تک کم ہو جاتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ویکسین کی 2 خوراکوں کے استعمال کے بعد ابتدائی 2 ماہ تک لوگوں کو کوویڈ کے خلاف 96 فیصد تک تحفظ ملتا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button