تیراہ کی مٹی سے شاہد آفریدی کی بہت یادیں جڑی ہیں

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان و ممتاز آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے قبائلی ضلع خیبر میں اپنے آبائی علاقہ بوٹان شریف کادورہ کیا اورکرونا وبا سے متاثرہ  ایک ہزار مستحق افراد میں شاھد آفریدی فاؤنڈیشن کی جانب سے امدادی راشن تقسیم کیا۔

شاہد خان آفریدی نے راشن تقسیم کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنے آبائی علاقہ بوٹان شریف امدپر بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ تیراہ میری مٹی ہے اور یہاں اپنے لوگوں سے مل کر اور اپنے دادا صاحبزادہ محمد الیاس (پیر بوٹان شریف) جو یہاں کی عظیم ہستی ہے ان کی قبر پر فاتحہ پڑھ کر دلی سکون محسوس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میری عزت و شہرت سب اسی جگہ سے جڑی ہوئی ہے اور اپنے دادا کی طرح ان لوگوں کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ اس مٹی سے میری بہت یادیں جڑی ہیں۔

اس موقع پر شاہد افریدی نے حکومت پر بھی زور دیا کہ فاٹا انضمام کے بعد یہاں ترجیحی بنیادوں پر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام کرے تاکہ کے عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔

تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے سابقہ کپتان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے حصول کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی، یہاں کے عوام کو چاہیئے کہ اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں اور بچوں کے ساتھ ساتھ بچیوں کی تعلیم پر بھی توجہ دیں ۔

انھوں نے کہا کہ علاقہ خیبر اور تیراہ کے عوام نے ہمیشہ ھر قسم کے نامصائب حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور مجھے امید ھے کہ عوام اس بار بھی اپنی روایت قائم رکھتے ھوئے بہت حوصلے اور ہمت سےعالمی وبا کورونا کا مقابلہ کرے گی۔

انھوں نے علاقہ خیبر کے عوام پر زور دیا کہ وہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ روکنے کے لیے محکمہ صحت اور حکومت کی جانب سے دی گئ ھدایات پر سختی سے عمل کریں۔

شاھد خان آفریدی نے کہا کہ ہمیں آگے بڑھ کر ملک کی ترقی کے لئے انتھک محنت کرنی ہوگی تاکہ ہمارے بدولت ملک کا نام روشن ہو۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں آپس میں باہمی اتفاق و اتحاد کو فروغ دینا ہوگا کیونکہ جب تک ھم ایک دوسرے کا دکھ درد نہیں بانٹیں گے تب تک ہم ایک اچھا اسلامی معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتے۔

انھوں نے عوام پر زور دیا کہ قبائلی علاقہ جات میں رائج جرگہ نظام ذاتی مفادات کی بجائے قومی ترجیحات کے لئے استمال کریں تاکہ عام آدمی تک اس کے ثمرات پھنچنے۔

شاھد خان آفریدی نے علاقہ بوٹان شریف اور ضلع خیبر دورہ کے دوران خصوصی تعاون پر ضلعی و پولیس انتظامیہ اور پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔

 

Show More

جواب دیں

Back to top button
Close