تعلیم

امان اللہ: لنڈی کوتل کے مزدور بچوں کے استاد!

شاہین آفریدی

لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے امان اللہ پیشے کے لحاظ سے استاد ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ علاقے میں کوئی بھی بچہ تعلیم حاصل کیے بغیر نہ رہ سکے۔ امان اللہ ورکشاپ، ہوٹلوں، دکانوں اور مختلف شعبوں میں بطور چائلڈ لیبر کام کرنے والے بچوں کو مفت تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔

لنڈی کوتل چائلڈ پروٹیکشن کے نام سے قائم کیے گئے سکول میں تقریباً 50 سے زائد بچے کام کے بعد علم کی روشنی سے روشناس ہو رہے ہیں، اس سکول میں گزشتہ سال چائلڈ لیبر طلبہ کی تعداد دس تھی، یہاں مفت پڑھائی کے ساتھ کتابیں، بستہ پنسل اور دیگر ضروریات کی چیزیں مفت مہیا کی جا رہی ہیں۔

اس تعلیمی مرکز کے سربراہ امان اللہ کا کہنا ہے کہ غربت کی وجہ سے زیادہ تر بچے کام کرنے پر مجبور ہیں اور تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں، ”اس سکول میں زیادہ تر وہ بچے آتے ہیں جو قلم کتاب سے بے لوث محبت کرتے ہیں، ان بچوں میں زیادہ تعداد افغان بچوں کی بھی ہے۔ ہم نے سکول شروع کرنے سے پہلے ایک سروے کیا تھا اور پتہ چلا کہ یہ بچے بھی دوسرے سکول جانے والے بچوں کی طرح پڑھائی کے خواہش مند ہیں۔ مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ میں نے ان کام کرنے والے بچوں کو یہ موقع فراہم کیا ہے۔”

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) نے 2002 میں چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن کا آغاز کیا تاکہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات اور کوششوں پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ ہر سال 12 جون کو اس عالمی دن پر حکومتیں، مزدوروں اور کام کرنے والی تنظیموں، سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے لاکھوں لوگ اکٹھا ہو جاتے ہیں تاکہ مزدور بچوں کی حالت زار کو اجاگر کیا جا سکے اور ان کی مدد کے لیے کیا کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں، امسال اس کا تھیم "چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے عالمی سماجی تحفظ” رکھا گیا ہے۔

یونائٹیڈ نیشن کی رپورٹ کے مطابق آج پوری دنیا میں تقریباً 218 ملین بچے بطور چائلڈ لیبر کام کر رہے ہیں، جن میں سے بہت سے کل وقتی یا مستقل طور پر ہیں۔ وہ اسکول نہیں جاتے اور ان کے پاس کھیلنے کے لیے وقت نہیں ہوتا ہے۔ بہت سے بچوں کو مناسب غذائیت یا دیکھ بھال نہیں ملتی۔ انہیں بچے بننے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ ان میں سے نصف سے زیادہ بچے مزدوری کی بدترین شکلوں جیسے خطرناک ماحول میں کام، غلامی، یا جبری مشقت کی دیگر اقسام، منشیات کی اسمگلنگ اور جسم فروشی سمیت غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

پاکستان میں چائلڈ لیبر کی صورتحال مزید بدتر ہے۔ ملک میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے اب بھی 1996 سروے رپورٹ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ جس کے مطابق 3.3 ملین بچے چائلڈ لیبر ہیں۔ اسی سروے رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں یہ تعداد 1.1 ملین ہے جس میں قبائلی اضلاع شامل نہیں۔

تاہم غیرسرکاری تنظیموں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ پچیس لاکھ بچے سکول نہیں جاتے جن میں سے 1 کروڑ بچے بطور چائلڈ لیبر کام کر رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے عمران ٹکر کا کہنا ہے کہ 2017 میں صوبائی حکومت کی جانب سے سروے رپورٹ کے مطابق 1.7 ملین بچے سکولوں سے باہر تھے تاہم اس میں چائلڈ لیبر کا ڈیٹا موجود نہیں مگر تازہ ترین بے نظیر انکم سپورٹ سروے رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سکول نا جانے والے بچوں کی تعداد بڑھ کر 4.7 ملین تک جا پہنچی ہے جس کے 12 فیصد چائلڈ لیبر میں ملوث ہیں۔

عمران ٹکر کا کہنا ہے کہ "ہر سیکٹر میں چائلڈ لیبر موجود ہیں۔ پانچ سال کی عمر سے زیادہ بچے ہوٹلوں، دفتروں، گھروں، قالین بنانے والی فیکٹریوں اور دیگر محکموں میں کام کرتے نظر اتے ہیں مگر چائلڈ لیبر کی تعداد زراعت کے شعبے میں سب سے زیادہ 69 فیصد ہیں۔ سروس سیکٹر میں 19 فیصد اور مختلف انڈسٹریز میں تقریباً 11 فیصد بچے کام کر رہے ہیں۔ ان میں ایسے بچے بھی موجود ہیں جو فل ٹایم کام کرتے ہیں۔”

بارہ سالہ محمد بلال گزشتہ چار سالوں سے لنڈیکوتل میں ایک میکنک کے ساتھ بطور ہیلپر کام کر رہا ہے۔ محمد بلال کو روزانہ صرف 50 روپے ملتے ہیں جس کا کہنا ہے کہ وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح پڑھنا چاہتا ہے لیکن غربت کی وجہ سے بچپن میں ہی کام کرنا شروع کر دیا۔

محمد بلال نے بتایا کہ "مجھے بہت محسوس ہوتا ہے جب میری عمر کے بچے صاف کپڑے پہن کر کندھوں پر بیگ رکھ کر سکول جاتے ہیں۔ میں بھی پڑھائی کرنا چاہتا ہوں لیکن گھر کا خرچہ پورا نہیں ہوتا۔ میں اور میرا دوسرا بھائی کم عمری میں ہی کام کےعادی ہو چکے ہیں۔ لیکن اب مجھے تعلیم حاصل کرنے کی امید مل گئی ہے اور میں بھی کام کرنے کے بعد لنڈی کوتل چائلڈ پروٹیکشن سکول پڑھنے کیلئے جاتا ہوں۔”

محمد بلال دوسرے بچوں کی طرح لنڈی کوتل چائلڈ پروٹیکشن سکول میں کام کے بعد پڑھنے جاتا ہے۔ وہ تیسری جماعت کا طالب علم ہے اور انجینئر بننے کی خواہش رکھتا ہے۔ محمد بلال کی طرح درجنوں ایسے چائلڈ لیبر موجود ہیں جو مستقبل کا ڈاکٹر، پائلٹ، انجینئر یا افسر بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں لیکن مالکان کی جانب سے اجازت نہیں ہے۔

9 سالہ حسین خان بھی محمد بلال کی طرح کام کے بعد سکول جانے کی خواہش رکھتا ہے لیکن مالک کی جانب سے وہ فل ٹائم کام کرنے کا پابند ہے۔ حسین خان کا کہنا ہے کہ "اگر مالک کی جانب سے مجھے پڑھنے کا موقع دیا جائے اور پورے دن کا معاوضہ بھی ملے تو میں ضرور پڑھنے جاؤں گا۔”

پاکستان کے چاروں صوبوں میں فری اینڈ کمپلسری یعنی مفت اور بنیادی ضروری تعلیم کے علاوہ کم عمر بچوں پر کام نا کرنے کے قوانین موجود ہیں۔ دوسری جانب آئین میں بھی 14 سال سے کم عمر کے بچوں کے کام کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ چائلڈ لیبر کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں کورونا وباء کے دوران سکول سے ڈراپ آؤٹ اور پھر کام کی طرف لوٹنے والے بچوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نظر آیا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی، غربت، غیرمعیاری تعلیم اور والدین کی طرف سے بچوں کی پڑھائی میں عدم دلچسپی، یہ سب وہ وجوہات ہیں جو بچوں کو چائلڈ لیبر کی طرف راغب کرتی ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button