تعلیم

بورڈ امتحانات: طلباء کو پرچے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کی پریشانی کا سامنا

سلمیٰ جہانگیر

ہر سال میٹرک کے سالانہ امتحانات مارچ کے مہینے میں منعقد ہوتے ہیں لیکن چونکہ کورونا وباء کی وجہ سے جہاں زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوا وہاں تعلیمی نظام بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا اس لئے صوبہ بھر میں میٹرک کے سالانہ امتحانات مارچ کی بجائے اس سال مئی کے گرم ترین مہینے میں منعقد کرائے گئے، ظاہر ہے اس کا براہ راست اثر طلبہ طالبات پر پڑا اور پڑ رہا ہے۔

مئی کے مہینے کو گرمی کا پہلا مہینہ قرار دیا جاتا ہے۔ اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ خشک ہوتا ہے اس میں لو چلتی ہے۔

ادھر رمضان کے ختم ہوتے ہی پورے ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پورے عروج پر ہے۔ حکومت کی طرف سے کوئی شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔ غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سے جہاں شہری ہریشان ہیں وہاں طلبہ طالبات بھی سر تا پا احتجاج ہیں۔ (کیونکہ) دو سال بچوں کو بغیر امتحان کے جو پاس کروایا گیا، اب اس گرمی میں امتحان طلبہ و طالبات کے لیے کسی جہاد سے کم نہیں۔ اور جو تھوڑی بہت کمی تھی وہ لوڈشیڈنگ پوری کر رہی ہے۔ کمرہ امتحان میں بیٹھے  پرچہ حل کرنے کی پریشانی سے زیادہ طلباء کو بجلی کی پریشانی کا سامنا ہے۔

رابعہ ایک سرکاری سکول میں دہم جماعت کی طالبہ ہے، اس کا شمار کلاس کی ذہین طالبات میں ہوتا ہے۔ رابعہ کے مطابق انگریزی کے پرچے کی ٹینشن سے اور بجلی نا ہونے کی وجہ سے وہ رات بھر سو نا سکی اور جب کمرہ امتحان میں بیٹھی تو ابھی پرچہ شروع ہی ہوا تھا کہ بجلی چلی گئی، ”اس دن گرمی اتنی زیادہ تھی کہ تھوڑی ہی دیر میں پسینہ جسم سے پانی کی طرح روانہ ہوا، کچھ بوندیں پرچے پر گر گئیں جس سے پرچہ پر کی گئی لکھائی مٹ گئی اور میرا پرچہ خراب ہوا، کچھ سمجھ نا آئی اور رو پڑی۔”

امتحانی مرکز میں فرائض سرانجام دینے والی مس سیما کے مطابق بدترین لوڈشیڈنگ اور گرمی کی وجہ سے امتحانی ہال میں حبس کے باعث وہ بے ہوش ہو گئی تھیں۔

ان کے مطابق متعلقہ سکول میں سولر پینل کی سہولت بھی میسر نہیں جس سے سٹوڈنٹس کو پرچہ حل کرنے اور اساتذہ کو ڈیوٹی سرانجام دینے میں کافی حد تک مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

میٹرک کا امتحان دینے والی ماریہ نے بتایا کہ پورا دن بجلی نا ہونے کی وجہ سے اس کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے جبکہ پرچہ حل کرنے کے دوران اس کا دھیان گرمی کی وجہ سے ہٹ جاتا ہے اس لیے حکومت سے مطالبہ ہے کہ لوڈشیڈنگ ختم کر کے طلباء کا مستقبل تاریک ہونے سے بچائے۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ یکم مئی سے پورے ملک میں لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائے گی لیکن افسوس کہ ان کی طرف سے کیا گیا وعدہ الفاظ کی حد تک رہا اور ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button