تعلیم

کیا آپ جانتے ہیں وزیرستان کے سرسید احمد خان کون ہیں؟

محمد کامران

جنوبی وزیرستان تحصیل لدھا گاؤں سیگہ قوم گرڑائی میں طاری خان کے گھر پیدا ہونے والے بچے خانزادہ محسود نے انتہائی غربت اور مشکل حالات کے باوجود تعلیم حاصل کی۔ ان کے دو بڑے بھائی تو خود تعلیم حاصل نہ کر سکے مگر اپنے چھوٹے بھائی کی تعلیم کے لئے ہر ممکن کوششیں کیں۔

خانزادہ محسود تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایڈہاک پر لیکچرار تعینات ہوئے میرانشاہ ڈگری کالج میں، جہاں وہ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے اور انتہائی خوش اسلوبی اور ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیئے۔ خانزادہ محسود کو علاقے میں نوجوان نسل کے غلط اور منفی سرگرمیوں کی طرف رحجان اور نئی نسل کی تباہی کی فکر لاحق تھی۔

جب پروفیسر خانزادہ محسود کا تبادلہ جنوبی وزیرستان وانا ہوا تو وہاں انہوں نے محسوس کیا کہ وزیرستان کی نوجوان نسل چوری ڈاکے، نشہ اور دوسری برائیوں کی نذر ہو رہے ہیں، یہ تعداد کافی تیزی سے بڑھ رہی تھی تو 1991 میں جنوبی وزیرستان وانا بمقام ڈاب کوٹ میں وزیرستان کیڈٹ سکول کی بنیاد رکھی اور بچوں اور بچیوں کو تعلیم کی طرف متوجہ کیا۔ یہ کام وزیرستان میں انتہائی مشکل قدم تھا کیونکہ وزیرستان کے لوگ جہالت کے اندھیروں میں بھٹکے ہوئے تھے، چوری ڈاکہ، منشیات، سمگلنگ، بچہ بازی، قتل و غارت، دشمنیاں، اسلام اور اسلامی تعلیمات سے دوری انتہا درجے کو پہنچی ہوئی تھی ایسے میں تعلیم کی بات اور سکول تعمیر کرنا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ مگر پروفیسر خانزادہ محسود نے نا صرف تاریخ میں پہلی بار ایک کیڈٹ پبلک سکول کی بنیاد رکھی بلکہ یہ سلسلہ چلتا رہا اور 1993 میں لدھا، شپیشتین شمیرائی میں شعیب پبلک سکول، شابی خیل، مکین سرائے، سپینہ میلہ، تنگی بدینزائی، پٹویلائی گرڑائی، قاسم سرائے لنگر خیل میں اپنی مدد آپ کے تحت سکولوں کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح کوٹکئی میں اسامہ پبلک سکول، بروند، تیارزہ میں دوسرے دوستوں کے ساتھ سکولوں کی تعمیر میں بھرپور حصہ لیا۔

وزیرستان کی ترقی اور بچے بچیوں کے روشن مستقبل کی خاطر شروع کیا گیا یہ سلسلہ انتہائی کامیابی سے رواں دواں رہا اور کافی تعداد میں بچے بچیوں نے تعلیم کی روشنی حاصل کی۔ اس نیک کام میں پروفیسر خانزادہ محسود کی جن عظیم ہستیوں نے حوصلہ افزائی کی ان میں خیر محمد کاکا عبدلائی، شہید نقیب محسود کے والد محمد خان، ملک مسعود عبدلائی، سیف الرحمن، بند خیل قوم کے مشران، عالم خان مرحوم، میجر زمان اور کافی لوگ شامل ہیں۔

وزیرستان کے بچے بچوں کے روشن مستقبل کے لئے ان کوششوں سے مقامی لوگ کافی متاثر ہوئے۔ شابی خیل سرائے مکین میں ہونے والے ایک پروگرام میں ڈاکٹر علی دوست لنگر خیل نے اپنی تقریر میں کہا کہ پروفیسر خانزادہ محسود ہمارے وزیرستان کے سرسید احمد خان ہیں جنہوں نے انتہائی سخت اور مشکل حالات میں اپنی جان پر کھیل کر ہمارے بچوں اور بچیوں کے لئے سکولوں کا ایک کامیاب سلسلہ شروع کیا ہے۔

اس وقت گورنر عارف بنگش نے جب وانا سے میرانشاہ تک کا علاقہ وزٹ کیا تو جگہ جگہ پروفیسر خانزادہ محسود کے سکول کے بچوں اور بچیوں نے شاندار استقبال کیا، عارف بنگش ان بچوں کی ذہانت اور ڈسپلن سے اتنا متاثر ہوا کہ اس وقت کے پولیٹیکل ایجنٹ عظمت جنید اورکزئی کو خصوصی طور پر کہا کہ وزیرستان کی اس عظیم شخصیت پروفیسر خانزادہ محسود کو خصوصی طور پر انعام سے نوازا جائے ۔

مگر جہاں پر اچھے لوگ ہوتے ہیں وہاں پر کچھ لالچی اور مکار لوگ بھی ہوا کرتے ہیں۔ جب پروفیسر خانزادہ محسود پولیٹیکل ایجنٹ کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ مکین میں ایک ملک کا شعیب نامی بیٹا جھوٹ بول کر وہ انعام ہڑپ کر گیا ہے جس پر پروفیسر خانزادہ محسود نے وزیرستان کی بدنامی اور عزت کی خاطر خاموشی اختیار کر لی۔

وزیرستان میں سکولوں کے اس نظام کی مخالفت میں بنوں کے علماء نے مکین کے مقام پر ایک کانفرنس منعقد کی جس میں علماء کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں نے بھی شرکت کی، پروفیسر خانزادہ محسود کو خصوصی طور پر بلایا گیا تھا۔
بنوں کے علماء نے وزیرستان میں سکولوں کے اس سلسلے اور انگریزی تعلیم پر اپنے اعتراضات پیش کئے پروفیسر خانزادہ محسود نے دلائل کے ساتھ جواب دے کر خاموش کرایا اور علماء کے اعتراضات اسلامی دلائل کی روشنی میں ختم کروا دیئے۔

پروفیسر خانزادہ محسود کے مطابق جب یہ سلسلہ شروع کیا تو کچھ تعلیم یافتہ لوگوں نے بھی میری اس کاوش کو پاگل پن قرار دیا کہ کہاں وزیرستان کہاں وزیرستان کے جاہل لوگ اور کہاں پرائیویٹ سکول سسٹم لیکن میرا حوصلہ بلند تھا میری نیت صاف تھی میں وزیرستان میں گھر گھر تک تعلیم کی روشنی پہنچانا چاہتا تھا وزیرستان کی محرومی کا خاتمہ اور وزیرستان میں سہولیات فراہم کرنا اور وزیرستان کے لوگوں کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنا چاہتا تھا، وزیرستان میں اندھیرے کو روشنی میں بدلنا اور نوجوانوں میں بڑے پیمانے پر پھیلنے والی برائیوں کا خاتمہ کرنا چاہتا تھا، اللہ تعالٰی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں اپنے مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی رہا، آج شعیب پبلک سکول اور ان باقی سکولوں کے اس نظام سے نکلے ہوئے بچے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔

رضیہ محسود

وزیرستان میں محسود ویلفیئر ایسوسی ایشن اور وانا میں واوا یہ سب پروفیسر خانزادہ محسود کی ان کاوشوں کے بہت بعد بنے ہیں۔

آج اسی پروفیسر خانزادہ محسود کی بیٹی، وزیرستان کی پہلی خاتون صحافی اور پہلی سیاستدان جنہوں نے قبائلی اضلاع کی تاریخ میں پہلی بار بلدیاتی انتخابات میں 9 مرد امیدواروں کے ساتھ مقابلہ میں باقاعدہ حصہ لیا اور غیرمعمولی ووٹ حاصل کر کے چھٹی نمبر پر آئیں۔

پروفیسر خانزادہ محسود نے جو مشن شروع کیا تھا وہ آج پروفیسر خانزادہ محسود کی بیٹی جرنلسٹ رضیہ محسود بخوبی سرانجام دے رہی ہیں اور اپنے والد پروفیسر خانزادہ محسود کے نقش قدم پر چل کر وزیرستان کی ترقی اور خاص کر تعلیم کے فروغ میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button