تعلیم

پاکستانی جامعات میں داخلے کی کہانی افغان طلباء کی زبانی

شمس عزیز مشال

گزشتہ سال اگست کے عین وسط میں افغانستان میں تبدیلی کی ایک ایسی لہر آئی جس نے تقریباً تمام کاروبار زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ اسی باعث لوگوں کی ایک اکثریت افغانستان چھوڑنے پر مجبور ہوئی۔ انہی لوگوں میں سے ایک شاکراللہ بھی ہیں جو پاکستان اس غرض سے آئے کہ یہاں انہیں (کسی تعلیمی ادارے میں) داخلہ مل سکے لیکن وہ تاحال اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں شاکر اللہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ان کا تعلق ہے اور اب کچھ عرصہ سے یہاں ہنگو میں مقیم ہیں، ”ننگرہار یونیورسٹی میں، میں سیکنڈ سمیسٹر کا سٹوڈنٹ تھا لیکن حالات کی وجہ سے، جب وہاں حالات بہت خراب ہوئے تو میں اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہوا، چھوٹے بھائی کے ہمراہ سپین بولدک کے راستے اِس پار آیا ہوں، ہنگو کے علاقے زیڑ کمر میں میرے والد صاحب کے ایک دیرینہ دوست تھے جن کے ہاں قیام کیا، اس کے بعد میں بہت گھوما، کوہاٹ میں بھی، بہت سی جامعات کے چکر لگائے، آخرکار ادھر اسلام آباد پہنچ گیا ہوں، لیکن میں نے جو کوشش کی اور مجھے جو رسپانس ملا تو وہ یہی تھا کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ کے پاس کوئی ڈاکیومنٹس نہیں ہیں، ہمارے پاس رفیوجی کارڈ بھی نہیں نا ہی حکومتِ پاکستان کی طرف سے ہمیں کوئی ایسی چیز ملی ہے کہ جس کی مدد سے ہم اپنا سلسلہ تعلیم جاری رکھ سکیں، تو اس وجہ سے مجھے کافی مشکلات درپیش ہیں، جامعات کے بھی چکر لگائے لیکن مجھے کوئی ایسا موقع نہیں ملا/دیا گیا کہ میں آگے اپنی تعلیم جاری رکھ سکوں۔”

اس حوالے سے قائد اعظم یونیورسٹی کی انتظامیہ کے اہلکار اعجاز شاہ کاظمی نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے تو اس ضمن میں کوئی واضح پالیسی نہیں ہے لیکن ہماری جامعات میں، ہمارے جامعہ کے بہت سے شعبہ جات میں افغان طلباء آ رہے ہیں، وہ کس کوٹے پے آ رہے ہیں، ان کے لئے بی ایس میں سپیشل کوٹہ ہے، ماسٹر میں کوئی کوٹہ مختص نہیں کیا ہےجامعہ کی انتظامیہ نے، ان کے آںے کے لئے جو درکار طریقہ کار ہے یا ڈاکیومنٹس اس کے لئے دو ڈاکیومنٹس کا ہونا ضرورہے ایک تو افغان رفیوجی کارڈ کا ہونا ضروری ہے جو نادرہ کی جانب سے افغان مہاجرین کے لئے جاری ہوتے ہیں، اگر وہ نہیں ہے تو ان کے پاس پاسپورٹ کا ہونا ضروری ہے، تو جو لوگ پاسپورٹ یا افغان رفیوجی کارڈ ہولڈرز ہیں تو ہماری یونیورسٹی انہیں ایڈمشن دے رہی ہے، ہماری حکومت سے یہ التماس ہے کہ ہماری آسانی اور ان بچوں کے مستقبل کے لئے ان کی کوئی ڈاکیومینٹیشن کر لیں، رجسٹریشن کر لیں تاکہ ہمارے لئے بھی آسانی ہو اور دوسرے ان کا مستقبل بھی محفوظ ہو جائے۔

واضح رہے کہ روس کے خلاف افغان جہاد کے نتیجے میں پاکستان ہجرت کرنے والے افغان پناہ گزینوں کو یو این ایچ سی آر اور حکومتِ پاکستان کی جانب سے پی او آر کارڈ دیئے گئے ہیں جن کی مدد سے وہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ان کے لئے مختص کوٹہ کے تحت داخلہ لے سکتے ہیں، ہر ڈپارٹمنٹ میں ان کے لے ایک سیٹ مختص ہے تاہم گزشتہ سال پندرہ اگست کے بعد آنے والے نئے افغان پناہ گزین اس سلسلے میں مسائل سے دوچار ہیں۔

ٹی این این کے ساتھ اس حوالے سے گفتگو میں افغانستان سے تعلق رکھنے والی مگر پشاور میں مقیم، اور جامعہ پشاور میں بی ایس کی طالبہ شازیہ صافی نے بتایا کہ خیبر پختونخوا (کے تعلیمی اداروں میں) داخلہ لینے والے افغان طلباء کو پی او آر کارڈ یا پاسپورٹ اور Equivalency کی ضرورت ہوتی ہے، جن طلباء کے پاس پی او آر کارڈ نہیں ہوتا اور وہ پاسپورٹ پر داخلہ لیتے ہیں تو ان سے پھر ہر بار نئے ویزے کا بھی تقاضا کیا جاتا ہے جو افغان طلباء کے لئے مزید مسائل کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے ان دستاویزات کے حسول کے حوالے سے بتایا کہ اس کے لئے اپنا پی او آر کارڈ، پاسپورٹ یا تذکیرہ (افغان شناختی کارڈ) لے کر قونصل خانے جائیں گے جہاں وہ ان کے لئے درخواست لکھ کر اس کے ساتھ این او سی لف کر لیتے ہیں اور ایچ ای سی کو بھجوا دیتے ہیں، یا پھر طالب ہارڈ کاپی کی شکل میں خود ارسال کرے گا، جس پر وہ کام شروع کریں گے جس میں دو سے تین ماہ لگیں گے لیکن انہیں ہفتہ دو میں ایک پراسیس لیٹر جاری کرنا ہو گا تاکہ اس پر یہ طالب علم (کسی) جامعہ میں داخلہ لے سکے، اور اگر کوئی خود لے کر جائے اسلام آباد تو پھر اسے لگے ہاتھوں پراسیس لیٹر دیا جائے گا، ”مساوی سند (Equivalency Certificate) کی فیس وقتاً فوقتاً چینج ہوتی رہتی ہے گزشتہ سال جو تین ہزار تھی۔”

انہوں نے طریقہ کار کے حوالے سے بتایا کہ پہلے انٹری ٹیسٹ دینا پڑتا ہے، اس کی فیس بینک میں جمع کرنا ہوتی ہے جس کے بعد رول نمبر آتا ہے جسے لے کر (مساوی) سند کے ساتھ ٹیسٹ کے لئے جانا ہو گا، اور پھر ٹیسٹ دینے کے بعد میرٹ میں نام آ جائے گا، تو پھر جامعہ کے داخلہ فارم کی فیس بھرے گا، فارم پُر کرے گا، فارم کے ساتھ پرسیس لیٹر اور انٹری ٹیسٹ کا نتیجہ جمع کرے گا، یہ ساری چیزیں ضروری ہیں، ”سرکاری جامعات میں افغانوں کے لئے صرف ایک سیٹ ہے اور اس پر بھی اس افغان کو داخلہ دیا جاتا ہے جس کے نمبر سب سے زیادہ ہوں، اور اگر کوئی اور داخلہ لینا چاہتا ہے تو پھر وہ فارن سیٹ پر جس کی فیس ڈالر میں لی جاتی ہے یا پھر سیلف فنانس پر ایوننگ کلاسز (سیکنڈ شفٹ) میں داخلہ دیا جاتا ہے جس کی فیس بھی مارننگ والوں کے مقابلے میں تھوڑی سی زیادہ ہوتی ہے، اکثر یہ نہیں چاہتے کہ افغانوں کو کوٹہ سیٹ پر داخلہ ملے اس لئے مختلف قسم کے حیلے بہانے تراشے جاتے ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ وہ فارن سیٹ پر داخلہ لیں تاکہ ان سے ڈالروں میں فیس بٹوری جا سکے، نجی یونیورسٹیوں میں ایک سیٹ کا مسئلہ نہیں ہوتا، وہاں بڑی تعداد میں انہیں داخلہ ملتا ہے۔”

شازیہ صافی کے مطابق افغانوں کی زندگی کو اگر ہم دیکھیں تو یہ ادھر پاکستان میں مہاجر ہیں اس لئے انہیں بڑے مسائل درپیش ہوتے ہیں اور پھر جامعات کی بھاری بھر کم فیسیں ادا کرنا بھی آسان نہیں ہوتا، لیکن ان کے لئے پھر وظائف ہیں جن کی مدد سے یہ کر سکتے ہیں کہ اپنی تعلیم پوری کر سکیں جیسے چائنہ سکالرشپ جو سال میں ایک مرتبہ دی جاتی ہے، ”اور پھر ایسی سکالرشپس بھی ہیں، جن میں سے ایک کی میں بھی سکالر ہوں، جو ہر تین ماہ بعد دی جاتی ہے اتنی کہ آپ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کر سکیں، یہ وظائف بی اے یا بی ایس کے لئے ہوتے ہیں، اس طرح کے وظائف کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے پاس بونافائیڈ/اصلی لیٹر ہو، جب آپ کا یونیورسٹی میں داخلہ ہو جاتا ہے تو پھر وہ آپ کو یہ لیٹر دیتے ہیں جس کی مدد سے، دیگر اسناد کے ساتھ، آپ سکالرشپ کے لئے اپلائی کر سکتے ہیں، داخلہ تو قرض پر بھی آپ لے سکتے ہیں، اس کے بعد سکالرشپ کے لئے اپلائی کریں، میں نے خود بھی ایسے ہی کیا ہے جو مجھے مل گئی پھر، اور اگر ایسے وظائف مہیا ہوں تو بڑے پیمانے پر نہیں چھوٹے پیمانے پر بھی افغان اپنے تعلیمی مسائل حل کر سکیں گے، افغان اگر چاہتے ہیں کہ وہ کسی جامعہ میں داخلہ لیں تو ضروری ہے کہ ان کے پاس  کوئی قانونی دستاویز ہو جیسے پی او آر کارڈ یا پاسپورٹ، اس کے بغیر یہ داخلہ نہیں لے سکتے کیونکہ اس کی ایک قانونی حیثیت ہوتی ہے اور ہر انسان سے اس کا مطالبہ کیا جاتا ہے، خود پاکستان کے شناختی کارڈ نا رکھنے والے باشندے کے لئے بھی داخلہ لینا آسان نہیں ہوتا ہے۔”

شاکراللہ نے اپنی گفتگو میں انہی مسائل کی نشاندہی کی کہ ان کے پاس ایسا کوئی کارڈ یا حکومت پاکستان کی جانب سے دی گئی کوئی دستاویز نہیں جس کی مدد سے وہ اپننی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ اس حوالے سے انہوں نے یہی مطالبہ کیا کہ نئے آنے والے افغان پناہ گزین جن کے پاس کوئی قانونی دستاویزات نہیں اگر ان کے لئے کالجز اور جامعات میں داخلے کا کوئی بندوبست کیا جائے تو ان لوگوں کا قیمتی وقت بھی بچ سکے گا، یہ آوارہ پھرنے سے بھی بچ جائیں گے اور کل کلاں اگر افغانستان میں امن قائم ہوتا ہے تو یہ اہم مناصب پر فرائض بھی سرانجام دیں سکیں گے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button