جرائم

شمالی وزیرستان میں 6 سالہ بچی کی ذبح شدہ لاش برآمد

عابد اقبال

شمالی وزیرستان تحصیل میر علی میں 6 سالہ بچی کی ذبح شدہ لاش ملی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں ایک بچی کو بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق گاٶں ذکر خیل سے 9 دن پہلے 6 سالہ سمیرا گھر سے لاپتہ ہوئی تھی جس کی آج مسخ شدہ لاش مل گئی۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اج ایک ہفتہ بعد سمیرا کی مسخ شدہ لاش ذکرخیل میں ایک مدرسے کے قریب سے مل گٸی۔ اہل خانہ کے مطابق سمیرا کو انتہائی بے دردی سے خنجر کے وار سے ذبح کیا گیا ہے۔

لاش کے قریب سے ایک خنجر اور سمیرا کے کپڑے ملے ہے۔ گھر والوں کا کہنا ہے کہ ہم نے پہلے دن سے پولیس کو اطلاع دی تھی لکن پولیس والوں نے کوئی تعاون نہیں کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے بچی کے اہل خانہ کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے اور زیادتی کے حوالے سے بھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

خیال رہے پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے بچوں کے  ساتھ جنسی تشدد اور انکو قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کی روک تھام کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم رپورٹ کے مطابق 2022 میں ملک بھر میں ایسے کیسز میں 33 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق  2022 میں ملک بھر میں 4253 بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ساحل کی رپورٹ کے مطابق یہ کیسز سال 2021 کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ بچوں میں زیادہ تعداد بچیوں کی ہے، سال 2022 میں اوسطا یومیہ 12 سے زائد بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے جن میں مجموعی طور پر 2323 بچیاں جبکہ 1928 بچے شامل ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ  6 سے 15 سال تک کی عمر کے بچے سب سے زیادہ جنسی زیادتی کا شکار ہوئے اور ایسے واقعات میں زیادہ تر ان کے اپنے خاندان کے افراد ملوث پائے گئے ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button