جرائم

باجوڑ: قاتلوں کی گرفتاری کیلئے دس دن کی مہلت، قاری الیاس قتل کے خلاف دو روز سے جاری دھرنا ختم

باجوڑ: مظاہرین نے مقامی انتظامیہ کو جے یو آئی کے سابق رہنماء و سابق امیدوار صوبائی اسمبلی مفتی سلطان محمد شہید کے چھوٹے بھائی کے قاتلوں کی گرفتاریکے لئے دس دن کی مہلت دیتے ہوئے دو دن سے جاری دھرنا ختم کر دیا۔

خیال رہے کہ قاری محمد الیاس کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے شٹر ڈاون ہڑتال اور پہیہ جام کے بعد انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے جو کامیاب ہو گئے۔

مذاکرات کے لئے جرگہ تشکیل دیا گیا تھا جس کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے دھرنا ختم کر دیا۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت مقتول کے لواحقین کو شہدا پیکج کے تحت مراعات دے گی جبکہ ملزمان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کا مقدمہ درج کرتے ہوئے انہیں دس دن کے اندر گرفتار کیا جائے گا۔

قبل ازیں باجوڑ میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہونے والے جے یو آئی رہنماء قاری الیاس کے قتل کیخلاف دوسرے روز بھی دھرنا جاری تھا۔ دھرنے میں خواتین کی کثیر تعداد بھی موجود تھیں جنہوں نے ہاتھوں میں کالے جھنڈے جبکہ سروں پر کالی پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔

باجوڑ کے تمام بازار بند رہے اور مکمل شٹرڈاون ہڑتال رہی۔ دھرنے کے شرکاء نے اعلان کیا تھا کہ نماز جنازہ بھی دھرنے کے مقام پر ہو گا۔

سابق گورنر شوکت اللہ خان اور تاجر برادری نے دھرنے کے شرکاء کیساتھ مذاکرات شروع کیے تاہم دھرنا جاری رہا۔

سول کالونی مکمل طور پر بند رہی اور سرکاری دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابر تھی۔

دوسری جانب باجوڑ بار نے بھی ہڑتال کا اعلان کیا اور آج کوئی بھی وکیل ضلعی عدالت میں پیش نہیں ہو گا۔

یاد رہے گزشتہ روز باجوڑ میں گورنمنٹ ہائی سکول نمبر کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے قاری محمد الیاس نامی طالبعلم جاں بحق ہو گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ محمد الیاس پرچہ دے کر سکول سے جیسے ہی باہر نکلا نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان بحق ہو گیا۔

محمد الیاس جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار مفتی سلطان محمد شہید کے چھوٹے بھائی تھے۔ یاد رہے کہ مفتی سلطان محمد کو دو سال قبل گھر کے قریب فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

 

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button