کورونا کی وجہ سے لوگوں نے شادی بیاہ میں جانا چھوڑ دیا ہے

 

سٹیزن جرنلسٹ سلمیٰ جہانگیر

 

کورونا وبا نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور زندگی کے ہر شعبہ کو متاثر کیا ہے، اسکی پہلی لہر کے بعد دوسری لہر بھی بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور دن بدن شرح اموات میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے ایک بار پھر لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
کورونا وبا نے ہماری ثقافت کو بھی بدل کے رکھ دیا ہے، اگر شادی بیاہ کی بات کی جائے تو پہلے جہاں لوگ خوشی خوشی شادیوں میں شرکت کرتے تھے آجکل جانے سے ڈرتے ہیں. ہماری ثقافت بیرون ملک کے بے تکے ڈراموں سے پہلے بھی اپنی اصلیت کھو رہی تھی رہی سہی کسر کورونا نے پوری کر دی.مہندی ,بارات اور ولیمہ کی رسمیں مختصر ہو گئیں ہیں اور شادی کے فنکشنز ایک دن تک مختصر ہو گئے ہیں لیکن دوسری طرف کچھ لوگ اس بات پر خوش ہیں کہ کورونا کی وجہ سے انہوں نے سادگی سے شادی کی اور انکو معاشی طور پر پانچ سے دس لاکھ تک کی بچت ہوئی کسی کا کہنا ہے کہ شادی بیاہ کی مختلف رسموں پر لاکھوں کا خرچہ ہوتا ہے جس سے انکی بچت ہوئی یعنی کورونا نے غلط رسموں کو روکنے میں مدد بھی کی ہے۔
اسی طرح کہیں میت ہو جا ئے تو لوگ جنازے میں شرکت کرنے سے ڈرتے ہیں، میت پر رونے والے دور سے میت کا دیدار کرتے ہیں، جہاں پہلے میت کی چارپائی پر لوگوں کی رش ہوتی تھی اور زیادہ بھیڑ کی وجہ سے لوگ میت کا چہرہ نہیں دیکھ پاتے تھے اس وبا کے آنے سے میت بے یار و مددگار پڑی ہوتی ہے اور جنازے میں بھی گنتی کے افراد شرکت کرتے ہیں.
اگر ایک طرف کورونا نے شادی بیاہ اور غمی کے تقریبات کو متاثر کیا ہے تو دوسری جانب ہماری عبادات بھی اس سے متاثر ہوئی ہے۔ ہر سال رمضان کے آتے ہی پوری دنیا کے مسلمان اپنے آپکو خصوصی عبادات کے لئے تیار کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس سال کورونا کی وجہ سے وہ عبادات بھی مکمل نا ہوئی.
مساجد میں ایس او پیز کے تحت کچھ ہی لوگوں کو مسجد کے اندر تراویح کی اجازت تھی جسکی وجہ سے باجماعت تراویح اس سال بہت کم لوگوں نے پڑھی اور نا ہی ختم القران کا پچھلے سالوں کی طرح اہتمام کیا گیا. اسی طرح عید بھی بہت پھیکی گزری نا ہی کسی کے گھر گئے اور نا ہی کوئی آیا.
عید قربان سے پہلے مویشی منڈیوں پر بھی پابندی لگائی گئی .پورے ملک میں ایس او پیز کے تحت بہت کم منڈیاں لگائی گئی .مسلمانوں کی طرح دوسرے مذاہب کے لوگوں کی مذہبی تہواریں بھی بری طرح متاثر ہوئیں. ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے مطابق انہوں نے اس سال دیوالی اس جوش وخروش سے نہیں منائی جس طرح پہلے مناتے تھے۔
کورونا کی دوسری لہر سے مسیحی برادری بھی متاثر ہوئی بغیر نہیں رہ سکی اور کرونا وائرس نے کرسمس کے رنگوں کو پھیکا کر دیا ہے.
کورونا وبا کی گرفت تعلیمی سرگرمیوں پر بھی بہت مضبوط رہی اور ابھی تک مکمل طور پر اس کی گرفت سے باہر نا آسکی. میرے مطابق جو شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے وہ تعلیم کا شعبہ ہے. سال کے شروع سے سال کے ختم ہونے تک کورونا نے تعلیم کو متاثر کیا ہے اور اس کے نتائج بہت خطرناک ہونگے کیونکہ دوسری لہر کے دوران بھی سب سے پہلے تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا ہے۔ سکول, کالجز اور یونیورسٹیوں کے امتحانات نا ہو سکے اور موجودہ حالات کے پیش نظر آنے والے امتحانات بھی یقینی نظر آرہے کہ ہونگے یا نہیں. بس اتنا کہوں گی کہ کورونا وائرس نے پوری دنیا کے نظام کو بدل کے رکھ دیا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button