بلاگزلائف سٹائل

پہلے زمانے کے لوگوں کی عمریں کیوں زیادہ ہوتی تھی؟

 

حدیبیہ افتخار

پرانے زمانے میں لوگ لمبی عمر پاتے تھے اور پھر رفتہ رفتہ لوگوں کہ عمریں کم ہوتی گئی اور اب تو زیادہ تر 60 سے 65 سال کی عمر میں ہی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کبھی غور کیا۔۔؟

اگر ہم اپنے بزرگوں دادا، دادی ، یا اردگرد گاؤں محلے میں دیکھیں تو ہمیں ایسے بزرگ ملیں گے جن کی عمریں 80, 90 سال سے زیادہ ہونگی لیکن وہ آج کے 35 سالہ جوان سے زیادہ صحت مند اور چاق و چوبند نظر آئیں گے۔ اگر آجکل کے نوجوانوں سے ان کا موازنہ کیا جائے تو صحت کے حوالے سے وہ بزرگ زیادہ جوان لگیں گے۔

میری دادی جان کی عمر 95+ ہے, لیکن آج تک میں نے ان کے منہ سے یہ نہیں سنا کہ کہ سر میں درد ہے, دانت میں درد ہے, بلڈ پریشر زیادہ یا کم ہوا ہے۔ کوئی تکلیف ہو بھی تو اس کے لئے میڈیسن کا استعمال نہیں کرتیں زیادہ سے زیادہ کوئی گھریلو ٹوٹکہ استعمال کرتی ہیں کہ کہیں دوائیوں کے استعمال سے معدہ خراب نہ ہو جائے۔

جب ہم ان کے سامنے اپنی بیماریوں کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے منہ سے ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے کہ اگر اس عمر میں تم لوگوں کا یہ حال ہے تو آگے جاکر آپ لوگوں کا کیا بنے گا۔ بالکل یہ بات درست بھی ہے کہ ہم میں سے ایسے بہت سے نوجوان ہیں جو کم عمری میں ہی مختلف بیماریوں، جیسے بلڈ پریشر، شوگر، اورمائگرین، جیسی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ دل کے امراض بھی آجکل نوجوانوں میں عام ہیں اور کئی نوجوانوں کی اچانک موت کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ اس کی وجوہات کیا ہے؟ ایسی کون سی چیزیں ہیں جو ہماری عمر گھٹانے کا سبب بن رہے ہیں؟ اگر اس بار پر غور کیا جائے تو جو سب سے پہلی بات ذہن میں آتی ہے وہ صحت مند غذا کا استعمال ہے۔

پرانے زمانے میں لوگ جو خوراک کی چیزیں استعمال کرتے تھے اور آج کی خوراک میں جو چیزیں شامل ہیں، اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ پہلے زمانے کی خوراکیں خالص ہوتی تھی جبکہ آج کل کی خوراک میں کئی قسم کے مصالحے اور کیمیکلز ہیں، اور اوپر سے فاسٹ فوڈ کا شوق۔۔۔

اگر دودھ کی مثال لیں تو پرانے زمانے میں دودھ میں ملاوٹ عام نہ تھا زیادہ سے زیادہ لوگ پانی کی ملاوٹ کرتے تھے جو اتنا نقصان دہ نہ تھا اور اب تو دودھ میں پانی کے ساتھ کئی قسم کے کیمیکل ملا کر اسے بیچ دیا جاتا ہے جو دودھ کم اور زہر زیادہ لگتا ہے۔

پہلے لوگ دیسی گھی کا استعمال کرتے تھے جو صحت کے لئے فائدہ مند ہوتا تھا لیکن اب جو گھی اور تیل ہم استعمال کرتے ہیں جس طرح ان کی پیکنگ کی گئی ہے اس سے بظاہر تو وہ ہمیں خالص لگتا ہے لیکن کارخانوں اور ملز میں یہ جس جگہ تیار کیا جاتا ہے وہ کوئی ایک دفعہ دیکھ لے تو پھر شائد وہ کھانا ہی چھوڑ دیں, جب یہی خوراک ہمارے جسم میں جاتا ہے تو بھلا یہ کیسے ہمیں فائدہ دے سکتا ہے, اس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے۔

صرف ایک گھی تو نہیں ہے جس چیز کا بھی ذکر کریں خالص نہیں ملے گا۔ آٹا جو ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اس میں بھی اس قدر ملاوٹ ہوتی ہے کہ اس کو کھانے کے ساتھ ہم خود بہت سے بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں, پہلے زمانے میں لوگ آٹا خود اپنے ہاتھوں سے پیستے اور استعمال کرتے تھے جو آج تک انہیں فائدہ پہنچا رہا ہے اور وہ ہم سے زیادہ صحت مند اور تندرست ہیں۔

آج کل فاسٹ فوڈ کا زمانہ ہے اور کسی جگہ بھی آپ جاتے ہیں فاسٹ فوڈ کے دوکان,ریسٹورنٹ نظر آئے گے اور اس پر لوگوں کا رش دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے یہ مفت میں دے رہے ہو۔

طبی ماہرین لوگوں کو فاسٹ فوڈ سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن لوگ اس قدر فاسٹ فوڈ کے عادی ہوگئے ہیں کہ ناشتے میں بھی فاسٹ فوڈ کا استعمال کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج کل کے نوجوان کم عمری میں مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں جب کم عمری میں انسان کو بیماری گھیر لیتی ہے تو پھر زیادہ عمر کیسے پاسکے گیں ہمیں خود سوچنا ہوگا اور اپنی خوراک کو خالص بنانا ہوگا تب جاکر صحت مند اور خوشحال زندگی کا خواب پورا ہوگا۔۔۔

حدیبیہ افتخار ایک فیچر رائیٹر اور بلاگر ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button