بلاگزلائف سٹائل

ناامیدی کا مرض

 

حمیراعلیم

دو افسوسناک خبریں پڑھیں ایک ایم ڈی کیٹ میں فیل ہونے پر اسلامیہ کالج کے طالب علم مبشر علی کی خودکشی اور دوسری سی ایس پی آفیسر بلال پاشا کی وفات۔ مبشر علی اس ٹیسٹ میں تیسری بار فیل ہوئے تو دل برداشتہ ہو کر زہریلی چیز کھا لی۔ ہاسٹل انتظامیہ نے انہیں ہاسپٹل پہنچایا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ کچھ لوگ بلال پاشا کی موت کی وجہ ہارٹ اٹیک بتا رہے ہیں اور کچھ خودکشی۔ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے تک ان کی وجہ وفات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اس سے پہلے بھی بہت سے پاکستانی اپنی جان اپنے ہاتھوں لے چکے ہیں۔ وجہ کبھی غربت تھی تو کبھی ڈپریشن یا اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے میں ناکامی۔ خواب خواہ کسی ڈگری کا حصول تھا یا محبت کا، کسی عہدے کی آرزو تھی یا کامیابی کی۔ کبھی لوگ غربت کی بناء پر خودکشی کرتے ہیں اور اپنے اس فعل کو جائز قرار دے لیتے ہیں اور کبھی انسان سب کچھ ہوتے ہوئے بھی زندگی ختم کرنے پر تل جاتا ہے۔

وہ خواہ مولانا طارق جمیل کا انڈسٹریلسٹ لینڈ لارڈ بیٹا ہو یا کوئی سی ایس پی آفیسر، پچھلے چند سالوں میں 7 سی ایس پی آفیسرز جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں خودکشی کر چکے ہیں۔ ڈپریشن ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کے اندر مایوسی اور نا امیدی بھر دیتی ہے۔ عاصم جمیل کے انتقال پر کچھ لوگ مولانا، ان کے بھتیجے اور دیگر لوگوں پر شک کر رہے تھے اور یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ ایک کامیاب بزنس مین جس نے لو میرج کی اور خیراتی کاموں میں بھی پیش پیش رہا 28 پارے حفظ تھے وہ کیسے خودکشی کر سکتا ہے۔

اگر لوگوں کو ایک امیر کبیر، خوب صورت، اعلی تعلیم یافتہ عہدیدار اور کامیاب ترین انسان کی خودکشی پر حیرت ہوتی ہے تو ذرا دنیا کے دوسرے ممالک خصوصا امریکہ اور جاپان جیسے ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ ممالک میں خودکشی کے کیسز اور تناسب دیکھیے۔

سڈنی شیلڈن امریکہ کے بیسٹ سیلر مصنف تھے جن کی وفات کے بعد بھی ان کی کتب بیسٹ سیلر ہیں۔ انہیں ہر چند ماہ بعد خودکشی کا دورہ پڑ جاتا تھا۔ ہالی ووڈ کے ایکٹرز اور سنگرز رابن ولیمز، مارلن منرو، شان اوہارا، آرون کارٹر، ہیدر آرمسٹرانگ، مس یو ایس اے چیلسی، فٹ بالر لارنس فلپس، جن کے پاس دنیا جہان کی آسائشیں ، کروڑوں چاہنے والے، شہرت ، دولت عزت سب کچھ تھا مگر انہوں نے خودکشی کر لی۔ جاپان جو اس وقت دنیا بھر میں اپنی الیکٹرانکس کی مصنوعات اور گاڑیوں کی وجہ سے مشہور ہے وہاں لوگ اجتماعی خودکشی کرتے ہیں ان کے ہاں خودکشی کا تناسب ہر ایک لاکھ پر 24۔3% ہے۔ وجہ تنہائی اور کام کا سخت شیڈول ہے جس نے انہیں روبوٹ بنا کر رکھ دیا ہے۔

ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ امارات، غربت، ناکامی، کامیابی ، شہرت یا ذلت خودکشی کے اسباب نہیں بلکہ ذہنی و جسمانی، تھکاوٹ ،ناامیدی ، مایوسی، تنہائی اور خالق سے دوری وہ وجوہات ہیں جو انسان کو مجبور کر دیتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر لے۔ اگر صرف غربت اس کی وجہ ہوتی تو مندرجہ بالا افراد کیوں خودکشی کرتے۔ کیونکہ وہ دنیا کے ان چند افراد میں شمار ہوتے تھے جو دنیا کی ہر آسائش رکھتے تھے۔

اس بیماری کا علاج اور ناامیدی کا خاتمہ ممکن ہے مغرب میں تو اس کام کے لیے ماہرین نفسیات، ایسے ادارے اور گروپس موجود ہیں جو ان لوگوں کا علاج بھی کرتے ہیں اور مدد بھی۔ ایسے لوگوں کے سرکلز ہوتے ہیں جن میں وہ اپنے مسائل ڈسکس کر کے ایک دوسرے سے مشورہ لیتے ہیں اور سروائیورز کی نصیحتوں پر عمل کر کے ڈپریشن سے جنگ لڑتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں۔کچھ لوگ مذہب میں پناہ لے لیتے ہیں۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اول تو ڈپریشن کے مریض کو پاگل قرار دے کر اسے مزید تنہا اور مایوس کر دیا جاتا ہے اس لیے کوئی ڈپریسڈ شخص کسی کے ساتھ اپنا مسئلہ بیان ہی نہیں کرتا اور اگر کوئی ہمت کر کے کسی ماہر نفسیات کے پاس چلا ہی جائے تو وہ اسے تھراپی کی بجائے ایسی ادویات پر ڈال دیتے ہیں جو اینٹی ڈپریسنٹ کہلاتی ہیں مگر ان کی وجہ سے انسان ہر وقت مدہوش رہتا ہے اور ان کا عادی ہو جائے تو کئی جسمانی و اعصابی امراض کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اس کا واحد حل مریض کی تنہائی اور نا امیدی دور کرنا ہے۔ انسان کو معاشرتی حیوان کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ اپنے جیسے انسانوں کی قربت میں رہنا چاہتا ہے۔ دکھ سکھ میں سے کوئی ساتھی چاہیے ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ اپنے دل کی ہر بات شیئر کر سکے جب وہ ایسے ساتھیوں سے محروم ہو جاتا ہے تو یہ روگ اس کی روح کو کھا جاتا ہے۔

اسلام دین فطرت ہے یہی وجہ ہے کہ اس میں جماعت سے جڑے رہنے پر زور دیا گیا ہے۔جماعت میں نمازکا اجر گھر پر نماز پڑھنے کے مقابلے میں 27 گنا زیادہ ہے۔ تبلیغ اور حصول علم کے لیے جماعت میں نکلنے کا حکم ہے۔ دنیاوی کاموں میں بھی دیکھ لیجئے جو کام اکیلا شخص کئی گھنٹے لگا کر کرتا ہے وہ ٹیم ممبرز چند منٹوں میں کر لیتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے گروپس بنائے جائیں جہاں ماہر ڈاکٹرز، ماہرین نفسیات اور علمائے کرام ڈپریشن کے مریضوں کی جسمانی، ذہنی اور روحانی تربیت کریں انہیں منفی کی بجائے مثبت رویے اختیار کرنے میں مدد کریں۔ زندگی کے مقصد سے نہ صرف روشناس کروائیں بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیے رہنمائی بھی کریں اور مدد بھی۔

آخر میں میں اپنا ذاتی تجربہ شیئر کرنا چاہوں گی۔ مجھے جب بھی ڈپریشن ہوتا ہے تو میں کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتی کہ دو سائیکاٹرسٹس، میرے اینڈوکرائنالوجسٹ اور گائنا کالوجسٹ نے جب بھی ڈپریشن کے لیے دوا دی میں صرف ایک ٹیبلٹ لیتی ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے نہ صرف رات بھر مدہوش رہوں گی بلکہ دن بھر سر گھومتا رہے گا۔ اس لیے سب سے پہلے نماز اور سجود میں اللہ تعالٰی سے مدد مانگتی ہوں اذکار، استغفار اور رقیہ شریعہ کی کثرت کرتی ہوں۔ زیادہ ہی بے قراری ہو تو اپنی سب سے اچھی دوست کو فون کرتی ہوں اور طویل کال پر ہر بات ڈسکس کرتی ہوں اور الحمدللہ وہ کبھی بھی مجھے جج نہیں کرتیں بلکہ تحمل سے میری بات سنتی ہیں اور اچھا مشورہ دیتی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے مجھے کبھی خودکشی کا خیال نہیں آیا لیکن جن لوگوں میں یہ مرض شدت اختیار کر جاتا ہے ان کی بے بسی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ انہیں اپنے اردگرد کے لوگوں کی مدد ،توجہ اور سہارے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر حضرات بعض اوقات کام سے چھٹی لے کر کسی دوسرے مقام پر آرام کی غرض سے جانا، کسی اچھے ہوٹل میں کھانا کھا لینا، لانگ ڈرائیو، رشتے داروں دوستوں سے ملاقات یا کسی سوشل ایکٹیویٹی میں مصروفیت، ڈائری لکھنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ یہ سب کام کتھارسس کرتے ہیں۔

اگر آپ مریض ہیں تو ایسے لوگ تلاش کیجئے اور نہ ملیں تو مسجد میں چلے جائیے اللہ تعالٰی سے تکلیف بیان کیجئے بندوں کا بندوبست وہ خود فرما دے گا۔ اور اگر آپ کسی مریض کو جانتے ہیں تو اس کا مددگار بنیے۔ کیونکہ جس نے ایک جان بچائی اس نے پوری انسانیت بچا لی۔ اللہ تعالٰی سب کو ایمان کی موت عطا فرمائے اور مایوسی سے بچائے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button