بلاگزجرائم

غم و سوگ میں ڈوبا باجوڑ: عینی شاہد کے طور پر میں نے کیا دیکھا؟

محمد بلال یاسر

عام طور پر اتوار کے دن دفاتر کے چھٹی ہوتی ہیں مگر جمعیت علمائے اسلام کے ورکرز کنونشن، جس میں ان کے مرکزی قائدین نے شرکت کرنا تھی، کے بناء پر مجھے دفتر ڈیوٹی کے لیے آنا پڑا، دوپہر کو میں نے اپنے ساتھی کیمرہ مین سمیع اللہ کو جلسہ کور کرنے کے لیے بھیجا اور خود تھوڑی دیر دفتر میں سستانے کے لیے بیٹھا۔

عصر پانچ بجے میں لغڑئی ماموند میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کی غرض سے ساڑھے تین بجے دفتر سے نکلنے لگا کہ مجھے اپنے کیمرہ مین سمیع اللہ کی کال آئی، جلسے میں متوقع طور پر آنے والے مہمانوں کے نام بتائیں، میں نے نوٹ کیا، انہیں کچھ کیپشن بھیج دیں اور دفتر سے روانہ ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں: باجوڑ دھماکہ: جب ہسپتال میں دو خواتین رو رو کر اللہ کا شکر ادا کر رہی تھیں

جلسہ گاہ میرے گھر کے راستے میں پڑتا تھا تقریباً 3:45 پر میرا وہاں سے گزرا ہو، تھوڑی دیر کے لیے موٹر سائیکل روکی، کھڑے کھڑے جلسہ گاہ پر نظر دوڑائی اور اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا۔

مجھے کیا علم تھا کہ کچھ دیر میں یہاں قیامت برپا ہونے والی ہے۔ ٹھیک آدھے گھنٹے بعد میری موبائل کی گھنٹی بجی، سلام سے قبل میرے ایک ساتھی نے کہا تم جلسے میں تو نہیں، میں نے بتایا نہیں اور بولتا چلا گیا کہ وہاں دھماکہ ہوگیا ہے، یہ سنتے ہی میری پاؤں سے زمین نکل گئی۔

تمام ذرائع سے رابطے کے باوجود میرے کیمرہ مین کے زخمی ہونے یا خیریت سے رہنے کی اطلاع نہیں مل پا رہی تھی۔ ان کا نمبر بند جا رہا تھا۔ بلا آخر جب زخمیوں کی لسٹ آنا شروع ہو گئی تو ہمارے کیمرہ مین کا نام بھی ان میں درج تھا۔ خیریت دریافت کی اور ہسپتال کی جانب روانہ ہوا۔

باجوڑ خار ہسپتال میں درجنوں لاشیں ناقابل شناخت تھیں۔ یہ لاشیں اس قدر مسخ کی جاچکی تھی کہ کسی طرح ان کی شناخت ہو نہیں پا رہی تھیں۔ ہر طرف آہ و بکا بلکہ یوں کہیں کہ قیامت کا منظر تھا۔

مردہ خانے کے سامنے ایک بندے نے زور سے مجھے جھٹکا دیا اور بولا کہ آپ کے مسجد کے امام صاحب بھی نہ زخمیوں میں ہیں اور نہ مردہ افراد میں، یہ سنتے ہی میں سب کچھ چھوڑ کر ان کی جانب متوجہ ہو۔ ہمارے مسجد کے پیش امام کا چھوٹا بیٹا ہاتھ میں اپنے والد کا ایک جوتا پکڑ کر چیختا تھا اور یہی کہتا رہا کہ میرے والد شہید ہو چکے ہیں کیونکہ یہ جوتا میں پہچان چکا ہوں۔ انہیں بہت دلاسے دیئے مگر وہ اپنی چیخوں سے عرشوں کو ہلاتا رہا۔

مزید پڑھیں: باجوڑ بم دھماکے میں 11 دن کا دلہا بھی جاں بحق، دلہن انتظار کرتے رہ گئی

کچھ ہی دیر نامعلوم لاشوں میں ہاتھ کی گھڑی اور انگوٹھی سے اس کے والد اور ہمارے پیش امام کی شناخت ہو گئی۔ ہسپتال میں کربلا کا منظر تھا، ہم نے اپنے ہاتھوں سے انسانی لاشوں کے ٹکڑے اکٹھے کیے۔

رات گئے ہمارے مسجد کے پیش امام سمیت ہم نے چار جنازے ادا کیے یہ سب افراد دیکھنے کے قابل نہیں رہے تھے۔کسی کی منہ دکھائی رسم ادا نہ ہوسکی کیونکہ سب ہی لاشیں جل چکی تھی یا ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے تھے۔

یہ دھماکہ میری زندگی کے تلخ یادوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رہے گا۔ اس دھماکے نے باجوڑ کے فضا کو طویل عرصے کے لیے سوگوار کر دیا، 54 جاں بحق اور 90 زخمی تاحیات ہمیں کھبی بھول نہ پائیں گے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button