بلاگزلائف سٹائل

بیوی کا کمانا اور شوہر کا گھر بیٹھ کر کھانا

رعناز

میں ہمیشہ سے اپنے بزرگوں سے سنتی آ رہی ہوں کہ شوہر اور بیوی گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں، ان دونوں میں سے اگر ایک بھی خراب ہو جائے یا صحیح سے اپنا کام نہ کرے تو زندگی کی گاڑی کا تسلسل سے چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔

آپ بھی سوچ میں پڑ گئے ہوں گے کہ آخر میں یہ بات کیوں کر رہی ہوں۔ آئیے میں آپ کو سمجھاتی ہوں۔

ہمارے معاشرے میں ہمیں زیادہ تر نوکری کرنے والی اور برسرروزگار عورتیں نظر آتی ہیں، ان کی نوکری کرنے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں مثلاً یا تو وہ اپنا کرئیر بنانے کے لئے نوکری کرتی ہیں یا اپنے گھر کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے یا ان کے نوکری کرنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے گھر کمانے والا مرد نہیں ہوتا بلکہ گھر بیٹھ کر صرف کھانے والوں میں سے ہوتا ہے۔

بیوی کی کمائی کھانے والا شوہر

زیادہ تر دیکھنے میں آیا ہے کہ شوہر آرام سے گھر بیٹھا ہوتا ہے اور بیوی نوکری کرنے کے لیے باہر گئی ہوتی ہے۔ یہ اس قسم کے شوہر ہوتے ہیں جو اپنی ذمہ داریوں سے بھاگتے ہیں؛ اپنی ذمہ داریوں کو قبول نہیں کرتے، وہ ہمیشہ اپنی عیاشیوں میں مصروف رہتے ہیں، انہیں اپنے گھر کی فکر ہوتی ہے نہ بیوی بچوں کی بس ہر وقت اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں اور انہی کی محفل میں خوش رہتے ہیں۔

لہذا انہی جیسے شوہروں کی بیویاں نوکری کرنے کے لیے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ اپنے گھر کو برباد نہیں بلکہ آباد دیکھنے کی خواہشمند ہوتی ہیں، وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو سنوارنا چاہتی ہیں جو کہ ان کے شوہر کی بھی ذمہ داری ہے مگر افسوس کہ وہ اس ذمہ داری کو نبھانا ہی نہیں چاہتے۔

اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بات بھی مانتی ہوں کہ اگر شوہر کوشش کر رہا ہے نوکری تلاش کرنے کی یا محنت مزدوری کرنے کی مگر باوجود کوشش کسب معاش میں وہ کامیاب نہ ہو یا اسی طرح اگر شوہر بیمار ہے کوئی کام یا نوکری کرنے کے قابل نہیں ہے تو ان حالات میں بیوی کو اپنے شوہر کی مدد کے لیے اس کا ساتھ دینا چاہیے، اپنے گھر کو چلانے کے لیے اسے بھی نوکری کرنی چاہیے۔

بچوں پر اثرات

اگر ایک طرف ہم دیکھیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ماں نوکری کر رہی ہے اور اپنے بچوں کا مستقبل سنوار رہی ہے، ان کو ایک اچھا انسان بنانے کی کوشش کر رہی ہے تو کیا دوسری طرف ہم نے یہ سوچا ہے کہ ماں کی نوکری کرنے سے بچوں کو اتنا وقت مل رہا ہے جو کہ ایک ماں کو اپنے بچوں کو دینا چاہیے؟ پورا یا آدھا دن باہر گزار کے اس کے بچے اسے کتنا یاد کرتے ہوں گے؟ ایک ماں کی  غیرموجودگی میں اس کے بچے اچھے ہوں گے یا خراب؟ ان کے لئے ماں کا وقت دینا زیادہ اہمیت کا حامل ہے یا پیسے کمانا؟ وہ ماں ایک طرف تو مطمئن ہو گی کہ بچوں کے لئے پیسے کما رہی ہوں لیکن کہیں نہ کہیں اس کے دل میں بھی یہ سوال اٹھ رہا ہو گا کہ میں اپنے بچوں کو وقت نہ دے کر ان کے ساتھ اچھا کر رہی ہوں یا برا؟

شوہر کے طعنے

گھر کی ساری ذمہ داریوں کو نبھانے کے باوجود اگر بیوی اف بھی کرتی ہے یا کوئی گلہ کرتی ہے تو اس کا شوہر کچھ ان الفاظ میں اس کی زبان بند کروا دیتا ہے کہ “سب کی بیویاں نوکری کرتی ہیں تم پہلی تو نہیں، تم کوئی انوکھا اور بڑا کام تو نہیں کر رہی۔” اسی طرح بیوی کو یہ بات بھی سننا پڑتی ہے کہ اگر ہم نے آزادی دی ہے باہر جانے کی تو کما کے تو ضرور لاؤں گی تو یہاں پر میں یہ سوال کرنا چاہوں گی کہ کیا گھر سے نکلنے کی آزادی صرف بیوی کو ملی ہے شوہر کو نہیں؟ کیا گھر کو چلانا اور بچوں کی پرورش کرنا صرف بیوی کی ذمہ داری ہے شوہر کی نہیں؟

اگر بیوی ان ساری باتوں اور طعنوں کو برداشت کرتی ہے تو صرف اس لیے کہ اس کا گھر آباد رہے، اس پر طلاق کا ٹھپہ نہ لگے کیونکہ طلاق یافتہ عورت کو کوئی بھی قبول نہیں کرتا، گنہگار ہمیشہ عورت کو ہی سمجھا جاتا ہے کہ یہی  غلط تھی۔

اللہ تعالی نے مرد کو جسمانی لحاظ سے عورت کی نسبت زیادہ مضبوط بنایا ہے اس لیے اس کی ذمہ داریاں اور فرائض بھی عورت سے زیادہ ہیں لہٰذا شوہر کو اپنے نکمے پن اور سستی کو چھوڑنا چاہیے، اسے اپنی ذمہ داریاں پہچاننی اور نبھانی چاہئیں، اگر بیوی نوکری کر رہی ہے تو اس کے شوہر کو بھی اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اس کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ ایک خوشحال اور کامیاب خاندان نہ شوہر اکیلے بنا سکتا ہے اور نہ بیوی، دونوں کو ایک ساتھ چل کر ہی ایک مضبوط  اور مستحکم خاندان بنانا ہو گا۔

رعناز ٹیچر اور کپس کالج مردان کی ایگزام کنٹرولر ہیں اور صنفی اور سماجی مسائل پر بلاگنگ بھی کرتی ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button