بلاگزلائف سٹائل

مہر حق ہے احسان نہیں

رعناز

پچھلے کئی دنوں سے میرے ذہن میں حق مہر کے حوالے سے بہت سارے سوالات اٹھ رہے تھے۔ آئیں آپ کو بتاتی ہوں کہ سوالات کی یہ لہر کہاں سے اور کیسے شروع ہوئی۔

میری پڑوس میں ایک لڑکی کی شادی ہوئی۔ شادی کے چند دنوں بعد لڑکی کی والدہ ہمارے گھر آئیں۔ بیٹی کی شادی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ سب کچھ بہت اچھا ہوا،صرف مہر میری بیٹی کے شایان شان مقرر نہیں ہوا۔

میرے ذہن میں خیال آیا کہ مہر لڑکی کے شایان شان مقرر کرنا لازمی ہے؟ کیا مہر لڑکی کی کوئی قیمت ہوتی ہے کہ زمانے کی روایات کے مطابق مقرر کی جائے؟ اصل میں مہر کیا ہے؟ کیوں ہونا چاہیے؟ کتنا ہونا چاہیے؟

حق مہر کیا ہے اور کب دینا چاہیے؟

مہر مرد کی طرف سے عورت کیلئے ایک تحفہ (شادی کا اک لازمی جزو) ہوتا ہے۔ یہ وہ رقم ہوتی ہے جو  مرد نکاح کے بدلے اپنی منکوحہ کو ادا کرتا ہے۔ مہر عورت کا حق اور مرد کی محبت کا اظہار ہوتا ہے۔

اسلامی نقطہ نظر سے حق مہر کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک مہر معجل جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حق مہر نکاح کے فوراً بعد ادا کرنا لازم ہے۔ جس میں عورت کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ فوری طور پر مطالبہ کرے۔

دوسری قسم ہے مہر موجل جس میں مہر نکاح کے فوراً بعد ادا کرنا لازم نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے لئے ایک وقت مقرر کیا جاتا ہے۔ مقررہ میعاد پر پھر عورت کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ  مہر کا مطالبہ کرے۔

حق مہر کیوں اور کتنا دینا چاہئے؟

حق مہر کی ادایئگی کا شریعت میں حکم ہے لہذا مہر عورت کو بخوشی دے دینا چاہیے۔ حق مہر عورت کا حق ہے جو نکاح کی وجہ سے مرد پر لازم ہو جاتا ہے۔

ادائیگی کی نیت ہر حال میں ہونی چاہئے۔ اگر اس کے بعد بیوی اپنی مرضی سے شوہر کو واپس کرنا چاہے تو کر سکتی ہے مگر اس کے لئے عورت کی ہوش مندی میں رضامندی ضروری ہے۔

میں سمجھتی ہوں عورت اور مرد کے خاندانوں کی باہمی رضامندی اور صلاح مشورے سے مہر کی رقم مقرر کرنی چاہیے۔ اور سب سے اہم بات کہ دونوں کے مالی حالات سے مطابقت رکھتی ہو۔

لیکن ان اسلامی اصولوں کے برعکس آج کل ہمارے معاشرے نے مہر کو زمانے کی روایات کے ترازو میں تول کے رکھ دیا ہے۔

حق مہر مقرر ہو جاتا ہے ملتا نہیں

ہمارے معاشرے میں حق مہر تو مقرر ہو جاتا ہے لیکن عورت کا یہ حق اسے ملتا نہیں ہے۔ یا پھر مرد محبت کا جھانسہ دے کر عورت سے معاف کروا لیتا ہے۔ بعد میں ان کے الفاظ یہ ہوتے ہیں کہ عورت نے اپنی خوشی سے معاف کر دیا تھا ہم نے تو صرف ان کی بات مانی ہے۔

تو یہاں پر میں یہ سوال کرنا چاہوں گی کہ اگر وہی عورت خواہش ظاہر کرے کہ مجھے آعلی تعلیم کے لئے بیرون ملک جانا ہے تو کیا ایک مرد اس کی یہ بات مانے گا؟

اگر وہی عورت کہے کہ باہر جاتے وقت مجھے برقعہ نہیں اوڑھنا تو کیا وہ اس کی یہ بات مانے گا؟ بالکل بھی نہیں۔ اگر بات ہو دوسری شادی کی اور عورت نے اجازت دے دی تو مرد خوشی خوشی دوسرا نکاح  کر لے گا۔ اس پر باقاعدہ سینہ تان کے لوگوں کو جواب دے گا کہ بیوی نےخود اجازت دی تھی۔

لہذا مرد کو جس چیز میں اپنا فائدہ نظر آئے گا وہ عورت کی وہ بات دل و جان سے قبول کرے گا۔ اپنے حق میں کیا جانے والا عورت کا ہر ایک فیصلہ اسے دل سے قبول و منظور ہوتا ہے۔

عورت کو اپنا مقرر کیا ہوا مہر بخوشی قبول کرنا چاہیے کیونکہ یہ مہر مرد کا کوئی احسان نہیں بلکہ تحفہ ہے۔ میری نظر میں اس معاملے کو نکاح کے وقت ہی طے کر لینا چاہیے اور خاص طور پر عورتوں کو اس بارے میں آگاہی دینی چاہیے تاکہ وہ محبت کی پٹی آنکھوں پر باندھ کر اپنا نقصان نہ کریں۔

آپ کیا کہتے ہیں، حق مہر کے بارے میں آگاہی کے لئے اور کیا اقدامات ہونے چاہئیں؟

رعناز ٹیچر اور کِپس کالج مردان کی ایگزام کنٹرولر ہیں اور صنفی اور سماجی مسائل پر بلاگنگ بھی کرتی ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button