بلاگزلائف سٹائل

رنگ بانٹ انسان

نوشین فاطمہ

سخت گرمی میں صدر گورا بازار پشاور میں خریداری میں ماہر اپنی ایک کزن کے ہمراہ مشہور کپڑوں کی دکان پر پہنچی۔اے سی کی ٹھنڈک کو محسوس کرتے ہوئے میں نے ایسے ہی ایک سوٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو میری کزن نے فورا~ ٹوک دیا کہ نہ نہ۔۔۔۔ مردوں والا رنگ ہے۔

رنگ برنگا پہیہ

میں خریداری کے گر سے زیادہ واقف نہیں ہوں، لہذا فوراً ہی ہاتھ کھینچ کر فرمانبرداری کے ساتھ مزید گڑبڑ نہ کرنے کا ارادہ کیا۔ یوں ہی ایک طرف کھڑے ہو کر اردگرد کا جائزہ لینے  اور دلچسپی سے گاہکوں کی گفتگو سننے لگی۔ اتنے میں پاس بیٹھی خاتون نے ناک بھوں چڑھا کر دکاندار سے پوچھا کہ بھائی صاحب اس دفعہ یہ کیا پینڈوؤں والے رنگ لائے ہو!

مزید کیا سنتی ہوں کہ ایک بڑی بی نے کہا کہ بچے کوئی صوفیانہ سارنگ تو دکھاؤ؟

پھر یہ گوش گزار ہوا کہ یہ کیا واہیات رنگ دکھا رہے ہو؟

کالے رنگ کی درگت بنتے بھی سنی کہ اچھا اب یہ دیکھو اس گرمی میں یہ رنگ کون پہنتا ہے؟

دکاندار نے کہا جی یہ بہت ملائم اور مہین کپڑا ہے۔ جانے کس بلا کا نام لیا کہ اس نام والا ہے، مطلب صرف یہ تھا کہ رنگ پر نہ جائیں، یہ گرمیوں میں ہی استعمال کا کپڑا ہے۔

دماغ میں جیسے کوئی رنگ برنگا پہیہ چل رہا تھا۔

مردانہ رنگ، بچکانہ رنگ، زنانہ رنگ، صوفیانہ رنگ، پینڈوؤں وا لا رنگ، کھلتا رنگ اور تو اور واہیات رنگ!

گرمی تو سخت تھی مگر اس رنگ بانٹ سوچ کے اس رنگ برنگے مظاہرے سے منہ سے ٹھنڈی آہ ہی نکلی۔ ارے ارے۔۔۔ آپ پریشان نہ ہوں، میری آہ بے رنگ ہی تھی۔

قدرت نے رنگ کا تحفہ دیا مگر انسان نے بانٹ دیا

انسان بھی کیا عجیب فطرت والی مخلوق ہے نا، خود تو اپنے حصے میں آئی ایک روٹی بھی کسی سے نہ بانٹے، لیکن قدرت اور اس کی عطاء کو ہمیشہ بانٹنے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔

قدرت کا واحد مظہر کہ جس نے انسان کو تخلیق کیا، ا سے بھی انسان نے بانٹ دیا۔ کہیں اسے اللہ پکارا کہیں خداوند، کہیں خدا، کہیں ایشور تو کہیں بھگوان کہلایا۔

انسان نے اس بندربانٹ کے کھیل میں خود کو بھی نہ چھوڑا۔ خود کو بھی اتنے رنگوں میں بانٹ لیا کہ جیسے مختلف رنگوں کا ملمع سا چڑھا لیا ہو۔

مثلاً مذہب کا رنگ، رنگت کا رنگ، لسانیت کا رنگ، قومیت کا رنگ، فرقہ واریت کا رنگ، کلاس کا رنگ، اسٹیٹس کا رنگ، اور نہ جانے اور کون کون سے رنگ! بس صرف انسانیت کا رنگ ہی تھا جو رنگوں کے اس ملمع  کے نیچے کب کا دب کر رہ گیا تھا۔

قدرت نے ہمیں جتنے بھی نایاب و قیمتی تحفے، رنگ دیئے، ہم نے انہیں قبول کرنے کے بجائے ان تمام کو اپنی مصنوعی انا اور ہٹ دھرمی کے باعث بانٹ دیا۔

محبت کے حسین اور رنگین احساس کو آوارگی کے نام سے تبدیل کر دیا۔

زمین کو بانٹ کر سرحدیں بنا لیں اور یوں ہمارے افکار اور سوچیں بھی اس میں محدود ہو گئیں۔

پانی بھی بانٹ دیا۔ آسمان اور ستارے دسترس سے باہر ہیں ورنہ ان کو بھی بانٹ دیتا بنی نوع انسان! ویسے اس رنگ بانٹ بندر بانٹ انسان سے بعید کچھ نہیں، کل کو آسمانوں میں بھی لکیریں کھینچ دے۔

رنگ کائنات کی تصویر کا حسن ہیں

رنگ نہ ہو تو دنیا حسین کہاں رہے گی۔

دکان پر رنگوں کو واہیات کہنے والی بہن کیا جانے کہ ایک نابینا شخص ان کی کتنی آرزو رکھتا ہو گا۔

سرخ رنگ خوشی اور انقلاب نہیں لاتا کیونکہ خوشی وہ ہے جو  آپ کا دل محسوس کرتا ہے کسی بھی رنگ میں۔ اور انقلاب تب آتا ہے جب سوچ اور افکار بدلتے ہیں۔

سفید رنگ امن نہیں لاتا اس کے لیے پرامن سوچ، اخلاق اور تربیت لازمی ہے۔

سیاہ رنگ ماتمی نہیں ہے، اس کے لیے دل کا سوگوار ہونا اس کا دردمند ہونا ضروری ہے۔

گلابی رنگ صرف لڑکیاں کیوں پہنیں، لڑکے کیوں نہیں؟ گر لڑکوں کو گلابی رنگ پسند ہے تو کوئی حرج نہیں، پسند ان کا بنیادی حق ہے۔

صد افسوس! ہم تو انسان کو پسند یا ناپسند بھی رنگ کی بنیاد پر کرتے ہیں۔

شاعری، ڈرامہ، فلم اور تھیٹر، کہیں بھی دیکھ لیں، میری اس بات کی تصدیق ہو جائے گی۔ آپ نے رنگ کی بنیاد پر جیتے جاگتے انسان کی قیمت کا معیار مقرر کیا۔

گر ہم پر صرف انسانیت کا رنگ چڑھ جائے تو ہم رنگ بانٹ انسان نہیں ہوں گے۔

جانے انسان اس فطرت کو جاننے میں اور اس کی تصحیح میں اور کتنا وقت لے گا۔ کب وہ جان پائے گا کہ خوبصورتی قابض ہونے سے ختم ہو جاتی ہے۔

رنگ تو نازک احساسات کی طرح ہوتے ہیں، انہیں قبول کیجیے، اپنائیے، پیار کیجئے، لطف اندوز ہوں۔۔ انہیں بانٹیے مت!

بتائیے، کیا آپ بھی چاہتے ہیں کہ رنگوں کو بانٹا نہ جائے؟

نوشین فاطمہ سماجی کارکن ہیں اور مختلف موضوعات پر بلاگ لکھتی ہیں۔

 

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button