بلاگزصحت

جب بچے نے سارا غصہ گاڑی کے شیشے کو گندا کرکے نکال دیا

 

خالدہ نیاز

بازار میں وہ بچہ میری جان ہی نہیں چھوڑ رہا تھا، میں جس بھی گلی میں جاتی وہ پیچھے پڑجاتا کہ باجی یہ لاسٹک لے لو مجھ سے میں اسے انتہائی نرم لہجے میں سمجھاتی کہ بیٹا مجھے نہیں چاہیے لیکن اس کو شاید ضد لگ گئی تھی کہ میں اس سے لاسٹک خرید لوں، کچھ وقت تک تو میں نے اس کو برداشت کیا لیکن پھر مجھے غصہ آنے لگا کہ کیوں میرے پیچھے پڑگئے ہو پر یہ بات میرے دل میں تھی جس کو میں زبان پر نہیں لے آئی کہ اس سے اس بچے کی دل آزاری ہوگی۔

میں چونکہ خریداری کرنے گئی تھی تو اس لیے بازار میں گھوم رہی تھی اور وہ نو سالہ بچہ بھی میرے پیچھے تھا آخر میں جب اس کو پتہ چل گیا کہ میں اس سے خریدنے والی نہیں ہوں تو اس نے مجھے بد دعا دی جس سے مجھے بہت افسوس ہوا کہ ہم لوگ کتنے انتہا پسند ہوچکے ہیں، بڑے تو چھوڑو چھوٹے بچے بھی اس انتہا کو پہچ چکے ہیں کہ زبان سے صحیح کلمات ادا نہیں کرسکتے۔

یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے کہ میں اس طرح کے واقعات دیکھتی ہوں، اس واقعے سے چند روز قبل جب میں گاڑی میں بیٹھی تھی تو ایک بچہ آیا جو روز ہی آتا ہے اور شیشہ صاف کرتا ہے صاف کیا پانی ڈال دیتا ہے اور میرے انکل اس کو دس کی بجائے بیس یا پچاس روپے دے دیتا ہے، اس روز انکل کے پاس ٹوٹے ہوئے پیسے نہیں تھے لہذا اس نے بچے کو انتہائی پیار کے ساتھ کہا کہ بیٹا آج نہیں ہے کل آپکو ڈبل دے دوں گا لیکن وہ پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہا تھا اور جب اس کو معلوم ہوگیا کہ اب دال گلنے والی نہیں ہے تو اس نے گاڑی کے شیشے کو گندا کردیا، یہ تھا اس کا غصہ جو اس نے شیشے پر نکال دیا۔

راستے میں گلی کوچوں میں، بازاروں میں، مختلف چوراہوں پر آپ کو کئی ایسے بچے ملیں گے جو تعلیم حاصل کرنے کی بجائے محنت مزدوری کررہے ہوں گے یا پھر بھیک مانگ رہے ہونگے، بھیک مانگنے والوں میں تو زیادہ تعداد خواتین کی ہوتی ہیں جو سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر التجا کررہی ہوتی ہیں کہ کچھ دے دو، گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہے۔

ہمارے ملک میں غربت اور مہنگائی بہت زیادہ ہوگئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے، لوگوں کے پاس کھانے کو پیسے نہیں ہے تو بچوں کو تعلیم کہاں سے دلوائیں، دوائیوں کے پیسے نہیں ہے، لوگ بہت تنگدست ہوچکے ہیں اور دماغی طور پر مریض بھی کیونکہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کا اثر انسانی دماغ پر پڑتا ہے۔

گھر آکر سوچا کہ ان بچوں نے ایسا کیوں کیا، تو خیال آیا کہ یہ تھک چکے ہیں، حالات نے انکے ساتھ ایسی ستم ظریفی کی ہے کہ اب ان میں برداشت کا مادہ ختم ہوچکا ہے، ایک طرف ایسے بچے جن کو ساری بنیادی سہولیات، روٹی کپڑا مکان تعلیم اور صحت کی سہولیات میسر ہیں اور دوسری جانب ایسے بچے جو نوالے کو ترس رہے ہیں ہے جنہوں نے کبھی سکول کو نہیں دیکھا ہاتھ میں کتابوں کی بجائے لاسٹک گھومتے پھرتے ہیں اور گھر میں ماں باپ کے پیار کی بجائے ہر وقت لڑائی جھگڑے اور بھوک و افلاس کو دیکھا ہے انکے ذہنی لیول میں فرق تو ہوگا کیونکہ ماحول کا اثر تو ہوتا ہے۔

میں مانتی ہوں کہ جب حالات خراب ہوتے ہیں تو پھر انسان کی سوچ کام کرنا چھوڑ دیتی ہے لیکن یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ بچے ہمارا مستقبل ہے اور اس بارے ضرور سوچنا چاہیے کہ ہم کس طرح کا مستقبل تیار کررہے ہیں اور اس کا قصور وار کون ہے؟

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button