‘ٹائم پر تیار رہنا ایسا نہ ہو کہ ہم لیٹ ہوجائے’

سمن خلیل

مجھے آج بھی بچپن  کے وہ حسین لمحات یاد  ہیں  جب ہم ہر صبح  سکول بس میں خیبرپختونخوا(کےپی) اسمبلی  کے سامنے سے گزرتے تھے اور میری خواہش ہوتی تھی کہ میں  بس میں شیشے کی طرف بیٹھو کیونکہ مجھے اچھا لگتا تھا جب میری نظر خوبصورت سفید رنگ کی عمارت پر پڑھتی تھی  اور دل میں ایک خواہش جاگتی تھی کہ کاش میں  اس عمارت کو اندر سے دیکھ سکوں، میری نظر جب اس عمارت کے اوپر والے حصے پر پڑھتا تھا  جہاں  کلمہ طیبہ لاالہ اللہ  محمد رسول اللہ  لکھا  گیا ہے تو میری روح کو سکون ملتا تھا ۔

اس دوران بہت عرصہ گرز گیا اور مجھے بہت کم موقع ملتا تھا کہ میں دوبارہ اس راستے سے گرز سکوں  لیکن جب گزشتہ روز میری ایک دوست لائبہ  نے مجھے فون  پر بتایا کہ  سمن  کل تیار رہتا ہم کل  انٹرویو کے لئے خیبرپختونخوا اسمبلی   ڈاکٹر سمیرہ شمس کے آفس جائینگے ، یہ سن کر مجھے ایک لمحے کے لئے ایسا  لگا جسے میں  کوئی خواب  دیکھ رہی ہوں تو میں نے اپنی دوست سے دوبار پوچھا کیا ہم واقعی کل کے پی اسمبلی جارہے ہیں ؟ دوست نے مجھے کہا ہاں! بس ٹائم پر تیار رہنا ایسا نہ ہو کہ کہی ہم لیٹ ہوجائے۔

اب کہا ہونا تھا  ساری رات مجھے خوشی کے مارے نیند نہیں  آئی اور میں اسی انتظار میں تھی کہ کب صبح ہوگئ اور ہم کب جائینگے۔ صبح میں جلدی  اٹھی ، تیار ہوئی  اور گھر سے  اپنی منزل  کی طرف روانہ ہوگئی۔ راستے  میں کافی ٹریفک تھی  اور  مجھے دھوپ میں انتظار بھی کرنا پڑا  لیکن  جلد ہی  ہم  کے پی اسمبلی پہنچ گئے۔

میں اور میری دوست لائبہ جب دروازے سے داخل ہوئے تو  وہاں موجود چوکیدار نے ہم سے معلومات لی، سمیرہ شمس کے دفتر معلوم ہونے  کے بعد  ہمیں  اندر جانے کی اجازت ملی گئی ۔ اندر جاتے ہی  جیسے میں تو خوشی سے پھولے ہی نہ سمارہی تھی وہ عمارت جس کو بچپن سے دیکھنے کا خواب تھا  وہ آج پورا ہوگیا۔

صاف وشفاف لمبی لمبی سڑکیں  اور ان پر کھڑی منسڑوں کی گاڑیاں ، جیسے ہی کوئی منسٹر آتا تھا  ساتھ میں دو سیکورٹی  گاڑی لازم ہوتی تھی  پھر جس شان سے وہ گاڑی سے اترتے تھے  اور ایک پروٹوکول کے ساتھ  اندر جاتے تھے یہ منظر کچھ الگ سا محسوس ہوتھا تھا۔ سفید رنگ کی چاروں طرف خوبصورت عمارتیں، جگہ جگہ دل کو مول لینے والے پھول دلکش منظر پیش کررہے تھے۔

کافی دیر تک پیدل چلنے کے بعد آخر کار ہم ڈاکٹر سمیرہ شمس کے آفس پہنچ گئے ، چونکہ ہم وقت سے پہلے پہنچ گئے تھے  اس لئے ہمیں انہی کے دفتر میں ان کا انتطار کرنا پڑا۔  ان کے  دفتر میں ہر چیز  بہت ہی طریقے سے  اپنی جگہ پر  رکھی  گئ تھی ۔  کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر  سمیرہ شمس تشریف لے آئی، انہوں نے نہایت  خوبصورت نیلے  رنگ کا سوٹ  پہنا ہوا تھا، ہاتھوں  میں  نازک سی انگھٹی  بہت ہی دلفریب  لگ رہی تھی اور وہ بہت  ہی نفیس شخصیت کی خاتون   لگ رہی تھی۔

انہوں نے انتہائی  مہذب انداز سے  ہمیں انٹرویو دیا ، ہمارے سوالات کو غور سے سن کر  ہر سوال کا  واضح جواب  دیکر ہمیں مطمئن  کردیا، درحقیت مجھے ان سے  ملکر بے انتہا خوشی ہوئی کیونکہ انکے نرم مزاج،  دھیمے لہجے  نے مجھے بہت متاثر کیا کیونکہ آجکل دوسرے ایم این ایز  کسی  کی بات  بھی نہیں سنتے  اور نہ ہی  وہ کسی کے مسائل سننے اور انہیں حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔

خیر انہوں نے ہمیں اچھی چائے پلائی اور رخصت کیا اور باہر نکل کر ہم نے کے پی اسمبلی میں خوب چکر لگائیں اور بہت ساری  تصویریں  لی  کیونکہ  یہ دن میری زندگی کا ایک یادگار دن تھا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button