‘کورونا وائرس ایک سیلاب کی طرح عید کی تمام رونقیں بہا کر لے جا چکا ہے’

سی جے سلمیٰ جہانگیر

عید اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے تحفہ ہے جو انکو ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد ملتا ہے۔ ماہ رمضان کے آتے ہی مسلمان معاشرے کا ہر فرد اپنے اپنے طریقے اور استطاعت کے مطابق اسکی تیاری کرتا ہے چاہے امیر ہو یا غریب عیدکی تیاری میں سب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں.
کورونا کی وجہ سے چونکہ پوری دنیا کا نظام متاثر ہو گیا ہے، مذہبی تہواروں کو منانے کی خوبصورتی بھی ماند اور پھیکی پڑ گئی ہے اور کئی ایک مذہبی تہوار کورونا وائرس کی نذر ہوگئے ہیں۔ اب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوچکا ہے اور ہر کوئی اس کوشش میں ہے کہ جلدی جلدی جیسے تیسے ہو بس عید کی تیاری مکمل کر لیں کیونکہ ملک میں کورونا وائرس کے وار جاری ہے اور تیسری لہر نے لوگوں کو پریشان کردیا ہے۔
عید قریب آنے والی ہے لیکن عید کی وہ رونقیں نظر نہیں آ رہی جو اس وبا کے آنے سے کچھ سال قبل ہوتی تھی. چند سال پہلے کے حالات آجکل کے حالات کے بالکل برعکس تھے. رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی ہر طرف رونق لگ جاتی تھی.بازاروں کی رونقیں پہلے عشرے کے بعد سے ہی شروع ہو جاتیں. خواتین بچوں سمیت بازاروں کا رخ کرتے گرمی کے دنوں میں خواتین عموماً افطاری کے بعد خریداری کیلئے جاتیں. جوتوں کے دکانوں پر کافی رش ہوتا. خریداری کے بعد عورتیں تھک جاتی تو مختلف مشروبات کے دکانوں کا رخ کرتی. کسی کو املی آلو بخارے کا شربت پینا ہوتا تو کچھ ملک شیک سے اپنی پیاس کو بجھاتی. خریداری مکمل ہوتی تو گھروں کی طرف روانہ ہوتی. آخری عشرہ کا آغاز ہوتے ہی چھوٹے بڑے بازاروں میں چوڑیوں اور مہندیوں کے اسٹالز لگتے. زندگی کی رونقیں گویا ہر جگہ بحال ہو جاتیں.
چاند رات پر گھر کے کام جلدی جلدی ختم کر کے اگر خواتین بیوٹی پارلرز کا رخ کرتیں تو کچھ گھر پر رہ کر عید کے دن کے لئے خاص پکوان بنانے میں مصروف ہو جاتی تھیں اور عید کا دن آتے ہی اپنے رشتہ داروں کی طرف عید کی خوشیاں بانٹنے چلی جاتی۔
لیکن کورونا ایک سیلاب کی طرح یہ تمام رونقیں بہا کر لے جا چکا ہے. اب عید کا وہ مزہ نہیں رہا جوپہلے ہوتا تھا لیکن خواتین پھر بھی عید کو اچھا بنانے کیلئے اپنا کردار نبھا رہی ہیں.
آجکل لاک ڈاون اور کورونا کے خطرات کو پیش نظر رکھتے ہو ئے گھر سے باہر نکلنا مشکل ہے ان حالات میں خواتین گھر کے اندر ہی اپنی عید کو رنگین بنانے کی بھر پور کوشش کرتی ہیں.
آن لائن شاپنگ سے اپنے گھر والوں کے لئے عید کی خریداری کرنا بھی خواتین کا اہم مشغلہ بن چکا ہے اور چونکہ عید, اللہ کی طرف سے ہمارا انعام ہے تو اسکو خوبصورت بنانے کے لئے سب اس تگ و دو میں ہوتےہیں کہ کس طرح عید کی خوشیوں کو دوبالاکر سکیں۔ کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ گھر پر رہ کر ہی اپنی فیملی کے ساتھ عید منائیں گی اور عید پر خاص پکوان بنا کر پیش کرینگی.
کچھ خواتین اپنے بناؤ سنگار کے لیے پریشان دکھائی دے رہی ہیں کہ حکومت کی طرف سے لگائے گئے لاک ڈاون کی وجہ سے انکی تیاریاں نامکمل رہ گئی ہیں.
عید کا تہوار بنیادی طور پر اجتماعی جشن کا نام ہے۔ عید کے دن ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارک باد دینا اور ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا ہماری روایت ہے۔ کرونا وبا کے پیش نظر اس عید پر گھروں سے نکلنے، گلے ملنے اور ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے سے اس کے پھیلنے کا خطرہ ہے لہذا عید منائے خوشی سے لیکن ایک دوسرے سے فاصلے سے رہ کر اور ماسک اور سینی ٹائزر کا استعمال کرکے تاکہ ہمارے لیے یہ عید آخری نہ ہو۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button