”سب کی مخالفت مول کر میڈیا میں قدم رکھنے والی اپنے گاؤں کی پہلی لڑکی ہوں”

سدرہ آیان

یوں تو بچپن سے ہر انسان کی کوئی نہ کوئی خواہش ضرور ہوتی ہے کہ میں بڑا ہو کر یہ بنوں گا یا میں بڑی ہو کر یہ بنوں گی لیکن بچپن سے میرے ذہن میں ایک واضح خیال نہیں تھا، اگر تھا تو بس اتنا کہ مجھے زندگی میں بہت کچھ کرنا ہے۔

وقت کے ہر گزرتے پل نے میرے اندر چھپی ایک ایک صلاحیت کو مجھ پر آشکار کیا، میرا رجحان موسیقی، شاعری، آرٹ اور سکول میں ہونے والے کئی مقابلوں کی طرف زیادہ تھا، میری صلاحیتوں کے لیے مجھے خوب سراہا بھی گیا جبکہ دوسری طرف مجھے خوب تنقید کا نشانہ بھی بنا دیا گیا۔

بعض اساتذہ اور خاندان کے لوگوں کو لگا کہ میں زندگی میں کچھ نہیں کر پاؤں گی، مجھے یہ بات کئی بار سننے کو ملی کہ تم صرف اور صرف وقت برباد کر رہی ہو اور اس بات کا احساس تمھیں جلد ہو جائے گا۔

میرے دوست میرے مشاغل دیکھ کر یہی کہتے کہ تم خوابوں کی دنیا میں رہتی ہو لیکن دراصل مجھے اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا تھا، تقریباً نویں جماعت میں مجھے لگا کہ آگے جا کر مجھے جرنلزم فیلڈ میں جانا ہے کیونکہ اس وقت میرا رجحان فوٹوگرافی، وڈیو گرافی اور ایڈیٹنگ کی طرف بڑھ گیا۔ پھر میں نیچر فوٹوگرافی کرتی، ان فوٹوز کو ایڈٹ کرتی، اس پہ وڈیوز بناتی اور پھر اسے دیکھ دیکھ کر میں خوش ہوتی، اگر کوئی ناخوش تھا تو وہ تھی میری فیملی، ان کو لگنے لگا کہ میرا مستقبل انہی تصویروں کی نذر ہو گیا۔

ایک وقت آیا جب میں نے گھر میں بتانا کہ اب کوئی سپیسیفک فیلڈ چننا ہے اور میں جرنلزم میں جانا چاہتی ہوں۔ سب کے اختلاف کے باوجود میں نے جرنلزم کو چنا کیونکہ تب جرنلزم میرا شوق نہیں اک ضرورت بھی بن گئی تھی کیونکہ مجھے معاشرہ سمجھ آنے لگا تھا، مجھے رویے سمجھ میں آنے لگے تھے، میں انصاف کا لبادہ اوڑھ کر ناانصافی کرنے والوں کے چہرے جاننے لگی تھی، میں عورتوں کی عزتیں پامال کرنے والی نگاہیں پہچان گئی تھیں، مجھے ان سب سے انصاف کا تقاضا کرنا تھا یا ان کا لبادہ چھیننا تھا، میرا گلوکاری کا شوق، پینٹنگ، شاعری، ناؤلز لکھنا اور اپنی فیلڈ کے زریعے اپنے کام کو پرموٹ کرنا وہ سب تو بہت پیچھے رہ گیا تھا۔

اپنے خاندان اور اپنے گاؤں کی میں پہلی لڑکی تھی جس نے سب کی مخالفت مول کر میڈیا فیلڈ میں قدم رکھا۔ حاضر جوابی جیسی کمال کی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے سامنے منہ پر تو کسی نے تنقید نہیں کی البتہ پیٹھ پیچھے ایسی بہت سی باتیں سننے کو ملیں کہ اتنے سخت گیر بھائی باپ کے ہوتے ہوئے بھی میڈیا جیسے فیلڈ کو چنا، کچھ نے یہ بھی کہا کہ اس کا تو باپ اتنا سخت تھا کہ گھر سے برقعہ پہن کر باہر نکلتی لیکن یہاں میں سوچ رہی ہوں کہ میرے برقعے کا میرے فیلڈ سے کیا تعلق؟ کیا جرنلسٹ خاتون برقعہ نہیں پہن سکتی؟

پھر ایسا تھا کہ اگر سکول کی کوئی لڑکی مجھے کہیں پر ملتی اور اسے معلوم پڑ جاتا کہ میں جرنلزم سٹوڈنٹ ہوں تو ان کا منہ ایسے کھلتا جیسے میں کوئی گناہ کا کام کر رہی ہوں اور میری قبر میں ان کو لیٹنا ہے۔

خیر جو بھی تھا گزر گیا۔ یونیورسٹی کے لیے سوچا تھا کہ بہت سا پریکٹیکل ورک کرنے کو ملے گا لیکن وہاں تو کچھ اور ہی سین تھا۔

پہلی بات تو ہمیں وہ کورسز پڑھائے جا رہے تھے جو ہم نے تقریباً سکول کے وقت بار بار ہم نے پڑھے تھے۔ باقی سارا وقت مختلف پارٹیز کے سپورٹرز ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے اور گھنٹوں بحث کرتے جس کا نتیجہ لڑائی جھگڑے کی صورت میں نکلتا۔

یونیورسٹی جانے کے بعد جلد ہی مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ یہاں کوئی کسی کے لیے کچھ بھی نہیں کرنے والا کچھ کرنا ہے، کچھ بننا ہے تو خود اپنے لیے محنت کرو، تب میرا دوسرا سمسٹر تھا کہ میں نے ایک سرکاری ریڈیو کے لیے آڈیشن دے دیا اور پہلی ہی بار میں میری سلیکشن ہو گئی۔ وہ بھی میرے لیے ایک مشکل ترین وقت ثابت ہوا، اتنی باتیں، اتنے اعتراضات، اتنی تنقید، اتنی مخالفت میں نے زندگی میں نہیں دیکھی تھی، مجھے لگا یہی وقت ہے یا پیچھے ہٹنا ہے یا مضبوط ہو کے کھڑا ہونا ہے، لوگوں کے الفاظ سے جتنے گھاؤ لگنے تھے وہ تو لگ چکے، ایک پاؤں جب کہ رکھا ہے تو دوسرا قدم آگے بڑھا کر یہ پورا سفر طے کرنا ہے۔

پھر تعلیم کے ساتھ ساتھ میں نے اپنا پریکٹیکل ورک شروع کیا اور لوگوں کی تنقید کے ساتھ ساتھ مجھے بہت سا کام کرنے کا موقع بھی ملا جس میں ایک اردو ڈرامہ بھی ڈب کیا، مختلف کورسز بھی کئے، بہت سی رپورٹنگ ٹرینینگز بھی لیں، انٹرنشپس بھی کیں، آن لائن کلاسز کے ساتھ ساتھ ٹیچنگ بھی کی اور ایک بہترین پلیٹ فارم بھی ملا جس نے میری اور میرے جیسی بہت سے طالبات کی حوصلہ افزائی کر کے ان کو پہلے تربیت دی، پھر معاوضہ سمیت کام کرنے کے بہت سے مواقع بھی فراہم کر کے ہمارے کیے گئے کام کو بہت سراہا اور فیلڈ میں تجربے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی پہچان بھی دیدی۔

میں آج اس بات کو لے کر بہت خوش ہوں کہ مجھے خدا نے وہ موقع دے ہی دیا کہ میں قلم کے ذریعے ظالم کے خلاف آواز اٹھا سکوں، اپنے حقوق سے لاعلم اور محروم لوگوں میں ان کے حقوق حاصل کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کر سکوں، خواتین، خوجہ سراؤں اور ان تمام غریب اور مظلوم لوگوں کا ساتھ دے سکوں جن کا میں نے صرف سوچا تھا لیکن آج بھی مجھ پر، میرے کام پر تنقید کرنے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ آج بھی رپورٹنگ کرتے ہوئے مجھے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کہیں ڈاکٹر انٹرویو نہیں دے رہا کیونکہ وہ تو ان کے کلینکس میں جا کر فیس بھر کر صحت کے حوالے سے مشورہ دیتے ہیں تو کہیں پولیس والا کسی کیس کے بارے میں معلومات دینے سے انکار کرتا ہے یہ سمجھ لینے کے باوجود کے یہ عوام کے فلاح و بہبود کے لیے ہے، کہیں کوئی اور انٹریو دینے کے بدلے اپنے فائدے کا پوچھتا ہے کہیں خواتین کو اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے مسائل کے بارے میں بات کر سکیں لیکن پھر بھی میڈیا آزاد ہو یا نہ ہو میں اپنا کام پوری ایمان داری اور جرنلزم کے ایتھکس کو لے کر کرتی ہوں۔

فیلڈ کو لے کر جتنے مسائل کی میں شکار ہوں شائد اگلے کئی سال یا شائد ہمیشہ میں ان مسائل کی شکار رہوں لیکن میں نے پھر بھی کام کرنا ہے، جتنا میرے بس میں ہوا لوگوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاؤں گی۔ میرا ماننا یہ ہے کہ اگر کسی بھی کامیاب انسان سے پوچھا جائے تو اس نے بہت سے مسائل کا سامنا کیا ہو گا، بہت سی قربانیاں دی ہوں گی اور یہ جو لوگ تنقید کرتے پھرتے ہیں بعد میں یہی لوگ آپ کے ساتھ سیلفیاں بنانے کے لئے آۃ کی طرف دوڑتے ہیں۔ جو لوگ تنقید کرتے ہیں وہ زندگی میں تنقید ہی کر سکتے ہیں، میرے حوصلے اتنے کھوکھلے نہیں کہ کسی کے الفاظ سے ٹوٹ جائیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button