‘آئی سی یو میں بیڈ ملنے کے انتظار میں اکثرمریض وارڈزہی میں فوت ہوجاتے ہیں’

عبدالستار

کرونا وباء کی تیسری لہر پاکستان میں اتنی شدت سے انسانی زندگیوں کو نگل رہا ہے کہ جس طرح اٹلی میں دوسری لہرکے دوران رپورٹیں آرہی تھی کہ وہاں پر ہسپتالوں میں جگہ نہیں ہے مریضوں کا رش اتنا بڑھ گیا ہے کہ مریضوں کو لائے گئے ایمبولنسز قطاروں میں کھڑی ہوتی ہے یہاں نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ اسلام آباد اور پنجاب میں بھی پچھلے تین ہفتوں سے سرکاری اور پرائیوٹ ہسپتالوں میں آئی سی یو میں مریض کےلئے بستر ملنے کے لئے انتطار کرنا پڑتا ہے اور ڈاکٹرکہتا ہے کہ ائی سی یومیں کوئی مریض مرجائے یا کوئی مریض صحت یاب ہونے کی صورت میں جگہ مل سکتی ہے۔

آئی سی یو میں بیڈ ملنے کے انتظار میں اکثرمریض وارڈزہی میں فوت ہوجاتے ہیں۔ اس مرتبہ طبی ماہرین کاکہنا ہے کہ کرونا وائرس اس مرتبہ ایک نئی شکل میں اثرانداز ہورہا ہے جس میں زیادہ تر مریضوں کے پھیپڑوں کوبری طرح متاثر کردیتا ہے اور سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جو کرونا وائرس کا شکار ہوجاتے ہیں ان کے لئے آکسیجن بہت ضروری ہوتا ہے اس وجہ سے اس مرتبہ ہسپتالوں میں اکسیجن کی سپلائی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور تمام بڑے ہسپتالوں میں آکسیجن کی سپلائی میں اضافہ کردیا گیا ہے اور پچھلے لہروں کی نسبت اس مرتبہ ہسپتالوں پربوجھ بڑھ گیا ہے اور زیادہ تر مریضوں کوپھیپڑوں کی تکلیف کی وجہ سے آئی سی یو یا وینٹی لیٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔استطاعت رکھنے کے باوجودپرائیوٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں آئی سی یو میں بستر نہ ملنے پرکاٹلنگ سے تعلق رکھنے والے کروناوئرس سےجاں بحق بھادرخان کے لواحقین کا کہنا تھا کہ انہیں ڈاکٹرنے کہا کہ آپ کا مریض سیریس ہے اوراسے آئی سی یو میں لے جائے لیکن وہاں پر بستر نہ ملنے پر انہوں نے لاکھ کوششیں کی کہ کہیں پر انکو آئی سی یو میں جگہ مل جائے لیکن وہ ناکام ہوئے اور انکے بزرگ چل بسے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال کرونا وائرس کی پہلی لہر میں متوفی بھادرخان کا بیٹا شاہد دبئی میں کروناسے متاثرہوکر جان بحق ہوا تھا اور دبئی میں ان کی تدفین کی گئی جبکہ ان کے گاؤں شیروکاٹلنگ میں انکی شادی کی تیاریاں جاری تھی۔

لیکن یہاں پرافسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ کرونا وائرس کی اتنی شدت کے باوجود لوگ دیگرایس او پیز پر عمل کرنا تو دوری کی بات ماسک کا استعمال کرنا بھی بزدلی سمجھ رہے ہیں۔ راقم خود بھی گلے اور سینے کی تکلیف میں مبتلا ہونے کے ساتھ بیس دن تک گھر میں آرام کرنے کے بعد جب ماسک پہنے کہی جاتا تو لوگ یہی بات کرتے کہ پڑھے لکھے لوگ زیادہ ڈرتے ہیں جبکہ دوسری طرف گاوں میں دن میں چار سے پانچ جنازوں کی اعلانات لاوڈسپیکرپر سنتے ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے کرونا وائرس کی وجہ سے اپنی زندگی ہار دی ہے، ہسپتالوں کے علاوہ تقریباہر دوسرے گھرمیں بھی لوگ تشویش ناک حالت میں پڑے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی کرونا وائرس کو کوئی سنجیدہ نہیں لے رہا۔

کرونا وائرس نے پچھلے دولہروں میں عوام کو اعتبار دلاکر اس مرتبہ پورے زور سے لوگوں کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے جبکہ لوگ انہیں لہروں کا مثال دیکرکوئی احتیاطی تدابیر اپنانے کے لئے تیار نہیں ہے جبکہ بعض علماء کروناسے متاثرہ شخص کے جنازے یا فاتحہ خوانی پر تقریر کے دوران مزید لوگوں کو اس طرف مائل کررہے ہیں کہ کرونا وائرس سے کچھ بھی نہیں ہونا اور کسی اختیاطی تدابیر کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ موت کا ایک دن متعین ہے۔اس کے علاوہ بدقسمت عوام کی حکمران یا انتظامیہ بھی اب تک کرونا وائرس کو عملی طورپر سنجیدہ نہیں لے رہا اور صرف میڈیا،سوشل میڈیا پر ایس اوپیز کے احکامات جاری کرتے ہیں اور میلوں ،جلسوں کو کھلی اجازت دے رکھی ہے۔

تیسری لہر کی شدت کا اندازہ مردان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کی کروناوائرس کے مریضوں کی روزانہ رپورٹ سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ہسپتال میں داخل روزانہ مریضوں کی تعداد150سے160 تک ہوتی ہے جس میں 16بستروں پرمشتمل آئی سی یو ہر روز فل رہتا ہے جبکہ اموات کی تعداد ہر روز 8سے 10 تک ہوتی ہے جس کا تناسب پانچ سے زیادہ ہے اور ہسپتالوں میں جگہ نہ ہونے سے لوگوں نے اپنے مریضوں کو گھر میں شفٹ کردیا ہے اور اپنے طور اکسیجن کا بندوبست کردیا ہے جس کی وجہ سے بازارمیں اکیسجن ڈیلرز کو اکثر اکسیجن کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

طبی ماہرین کا خیال تھا کہ پہلی لہر کی طرح کروناوائرس کی یہ تیسری لہر مارچ میں شروع ہوگی اور اپریل کے وسط میں تھم جائے گی لیکن لگتا ہے کہ یہ زیادہ دیر تک جاری رہے جبکہ اس خونخوار لہر کے لئے نہ تو حکومت نے کوئی تیاری کی تھی اور نہ اکسیجن کی استعمال کی اتنی شدت سے ضرورت کسی نے محسوس کی تھی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button