اللہ کرے بی آر ٹی بس میں میرا پہلا سفر آخری نا ہو!

خالدہ نیاز

ایک وہ دن تھے جب مجھے بڑا انتظار تھا کہ میں کب بی آر ٹی بس میں اپنا پہلا سفر کروں گی کیونکہ پہلے تو بی آر ٹی منصوبہ کئی بار تاخیر کا شکار ہوتا رہا، حکومت نے کئی بار افتتاح کے لیے تاریخیں دی تھیں لیکن افتتاح نہ ہو سکا تھا اور بالآخر 13 اگست 2020 کو وزیراعظم عمران خان نے بی آرٹی کا افتتاح کر ہی دیا جس کے بعد لوگوں نے سکھ کا سانس لیا تو میرا بھی دل کیا کہ کیوں نہ میں بھی بی آ رٹی میں ایک چکر لگا ہی لوں، اتنا خوار جو کیا ہے اس منصوبے نے، کیسے ٹریفک کے مسائل پریشان کرتے رہے اس عرصے میں خیر فی الحال اپنے موضوع کی جانب آتی ہوں۔

افتتاح کے بعد اپنی دوست کو کہا کہ چلو بی آر ٹی کا ایک چکر لگا ہی آتے ہیں پر باقی دوستوں نے جو کہانیاں بیان کیں اس کے بعد ہمت نہ ہوئی۔ دوستوں نے بتایا کہ کس طرح رش کی وجہ سے وہ خوار ہوئیں اس بس میں اور کس قدر رش ہوتا ہے، بیچارے لوگ بھی ترسے ہوئے تھے اس سروس سے فائدہ اٹھانے کے لیے کچھ منچھلے تو ویسے ہی سارا دن گھومتے پھرتے رہے اس میں، نئی بس سروس جو ٹھہری۔

خیر آخر وہ دن بھی آ گیا جب مجھے بھی باقی دوستوں کے ساتھ بی آر ٹی میں سفر کرنے کا شرف نصیب ہوا۔ 10 ستمبر کو ٹاؤن میں ٹریننگ سیشن لینے کے بعد ہم وہاں پر موجود بی آر ٹی سٹیشن گئے، پہلا موقع تھا جب ہم بی آر ٹی سٹیشن میں داخل ہوئے۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی مجھے تو، پھر ایک دوست نے رہنمائی کی اور میں بھی ان کے پیچھے چل دی، ڈیسک پہ زو کارڈ رکھا اور اندر داخل ہو گئے لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کہ ہم غلط طرف سے داخل ہو گئے ہیں کیونکہ ہمیں صدر آنا تھا اور جہاں داخل ہوئے وہ راستہ حیات آباد کی طرف جاتا ہے۔ خیر پھر ہم دوبارہ وہاں سے نکلے اور مخالف سمت والے بلاک میں داخل ہوئے۔ وہاں پھر زو کارڈ رکھا اور اندر داخل ہو گئے۔ اب ہم صحیح جگہ داخل ہوئے تھے۔

اندر داخل ہونے کے بعد بس کا انتظار کرنے لگے جہاں ہم سے پہلے کافی تعداد میں لوگ موجود تھے اور انتظار کر رہے تھے کہ کب بس آئے اور وہ اس میں بیٹھ جائیں۔ خیر ایک بات ضرور کہوں گی کہ اندر کا ماحول بہت مختلف تھا، سامنے ایک ٹکر چل رہا تھا جس پہ لکھا گیا تھا کہ اتنی دیر میں بس آ رہی ہے، اوپر پنکھے لگے ہوئے تھے جو کسی قدر گرمی کے زور کو کم کر رہے تھے، کچھ کرسیاں بھی رکھی گئی تھیں۔

خیر 10 منٹ کا انتظار کرنے کے بعد بس آ ہی گئی، پر ہم اس میں نہ چڑھ سکے کیونکہ وہ مسافروں سے کھچاکھچ بھری ہوئی تھی اور ہم نے اسی میں عافیت سمجھی کہ چلو دوسری آئے گی اس میں چڑھ جائیں گے لیکن اس میں بھی نہ چڑھ سکے کیونکہ اس میں بھی بہت رش تھا، اس طرح 4 بسیں گزر گئیں اور پانچویں بس جب آئی تو ہم اس میں چڑھ گئے لیکن بہت دیر ہو گئی تھی، اندر داخل ہوئے تو اس میں بھی کافی رش تھا، خواتین کے لیے الگ سیٹیں مختص کی گئی ہیں بی آر ٹی کی بسوں میں اور مردوں کے لیے الگ لیکن خواتین کے لیے صرف 10 سیٹیں مختص ہیں جو کہ کافی کم ہیں کیونکہ صرف دس خواتین سیٹوں پر بیٹھی تھیں جبکہ 23 خواتین بس میں سٹینڈ کے سہارے کھڑی تھیں۔

خیر بس چلنا شروع ہوئی تو اس کا سفر بہت آرام دہ لگا، اس کے لیے الگ روٹ بنایا گیا ہے تو نہ ہی بی آر ٹی بس کے علاوہ باقی گاڑیاں دیکھنے کو ملیں اور نہ ہی راستے میں مارکیٹس اور شاپس کو دیکھا بس بی آر ٹی کی بس تھی اور اس کے مسافر، پشاور میں پہلی بار خالی سڑک پہ سفر کرنے کا موقع ملا اور وہ بھی بی آر ٹی کی وجہ سے، بس کا ماحول بہت پرسکون تھا البتہ بس میں رش بہت تھا۔

راستے میں ٹریفک نے ڈسٹرب کیا نہ ہی کوئی بے ہنگم موسیقی سنی بس دوستوں کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے ایک سے دوسرے سٹیشن پہنچتے رہے۔ ڈرائیور اپنے الگ کیبن میں بیٹھا ہوا تھا اور بس میں اے سی کے ساتھ وائی فائی کی سہولت بھی میسر تھی، گرمی کے موسم میں اگر اے سی ملے ساتھ میں فری وائی فائی بھی تو سونے پہ سہاگہ والی بات ہو جاتی ہے اور پھر پشاور جیسے شہر میں خالی سڑک پہ سفر کرنے کا موقع ملے تو بس انسان خوش ہو ہی جاتا ہے۔

میں نے اس سے پہلے بھی سہ پہر کے وقت ٹاؤن سے صدر کا سفر کیا ہے اور پوچھیں مت کہ میں کتنا خوار ہوئی ہوں اور یہ سفر میں ننے ایک گھنٹے سے زیادہ وقت میں طے کیا ہے لیکن بی آر ٹی میں یہ سفر میں نے صرف 10 روپے میں 10 سے کم منٹوں میں طے کر لیا اور بہت ہی پرسکون ماحول میں۔

ایک اور بات بھی شیئر کرنا چاہتی ہوں وہ یہ کہ بی آر ٹی میں خواتین اس لیے بھی سفر کرنا چاہتی ہیں کہ وہ اس میں خود کو محفوظ سمجھتی ہیں کیونکہ وائی فائی کے ذریعے گھر والوں سے رابطے میں ہوتی ہیں اور آجکل تو ویسے بھی حالات بہت خراب ہیں، آئے روز جنسی ہراسانی کے واقعات ہوتے ہیں تو ایسے میں خواتین ٹیکسی میں یا رکشے میں اکیلے سفر کرنے سے کتراتی ہیں۔

بس ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ ان بسوں میں خواتین کے لیے بہت کم سیٹیں مختص ہیں اس لیے زیادہ تر خواتین کھڑی ہوتی ہیں، حکومت اگر باقی ماندہ بسیں بھی چلانا شروع کر دے تو اس سے لوگوں کو اور خاص طور پر خواتین کو بہت فائدہ ملے گا کیونکہ ان بسوں کی وجہ سے ایسی کئی خواتین نے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا شروع کیا جنہوں نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔

اور آج یہ دن ہیں کہ ایک خامی، بی آر ٹی کی بسوں میں آگ لگنے کے واقعات، کی وجہ سے لوگ ڈر گئے ہیں اور آتشزدگی کے چوتھے واقعے کے بعد حکومت نے بی آر ٹی سروس کو معطل کر دیا ہے جس سے لوگوں میں ایک بار پھر مایوسی پھیل گئی ہے۔

خیر چند ہی منٹ میں، میں صدر پہنچ گئی بی آر ٹی کی بدولت، مختصر یہ کہ بی آر ٹی میں میرا پہلا سفر بہت شاندار رہا۔

اب 7 روز سے زائد دنوں سے بی آر ٹی کی سروس عارضی طور پر بند ہے اور مجھے رہ رہ کر اپنا پہلا سفر یاد آ رہا ہے۔

امید کرتی ہوں کہ یہ پہلا سفر آخری ثابت نہیں ہو گا اور بہت جلد یہ بسیں ایک مرتبہ پھر اپنے مخصوص ٹریک پر رواں دواں نظر آئیں گی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button