کل لنڈی کوتل بازار گیا تو میں نے کیا دیکھا؟

محراب آفریدی

لنڈی کوتل بازار کے دکاندار اور عام لوگ پریشان حال ہیں، لنڈی کوتل بازار کے دکاندار سارا دن گاہک دیکھ کر تھک جاتے ہیں اور اپنی دکانوں کے اندر سمارٹ فونز سے گیمز کھیلتے کھیلتے وقت گزارتے ہیں۔

گذشتہ روز لنڈی کوتل کے تاریخی بازار کے اندر کچھ ضروری خریداری کے سلسلے میں جانا پڑا تو ہر دکاندار کو اداس پایا اور یہ وہ بازار ہے جہاں رش کی وجہ سے چلنا مشکل تھا اور دکانوں کے سامنے لائنیں لگی رہتی تھیں۔

یہ درست ہے کہ لنڈی کوتل کے مضافات میں کچھ مارکیٹیں قائم ہو گئی ہیں جہاں کچھ لوگ خریداری کر کے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں تاہم دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس لئے اگر مزید مارکیٹیں بھی قائم ہوں تو بھی اس سے لنڈی کوتل بازار کے دکانداروں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا کیونکہ اللہ ہر کسی کو اپنے حصے کا رزق دیتا ہے البتہ کچھ دکانداروں سے اس اداسی اور ہو کے عالم کی بابت جب معلوم کیا تو بتایا گیا کہ طورخم میں مقامی لوگوں کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔

دکانداروں کے مطابق طورخم بارڈر پر مقامی لوگ محنت مزدوری کر کے ہزار دو ہزار کماتے تھے اور ان لوگوں کی تعداد ہزاروں میں تھی اور جب شام کو وہ لوگ گھروں کو لوٹ کر جاتے تو لنڈی کوتل بازار میں ضروری خریداری کرتے جس سے چہل پہل رہتی اور کافی مزدوری ہوتی لیکن طورخم میں کاروبار اور روزگار خراب ہونے کی وجہ سے خریدار کافی کم پڑ گئے ہیں۔

اس بدحالی اور پریشانی کے حوالے سے جب کچھ عام لوگوں سے پوچھا تو بتایا گیا کہ بے روزگاری, غربت اور مہنگائی میں اضافے کی وجہ  سے وہ اپنی ضروریات کہاں سے اور کیسے پوری کریں۔

انہوں نے بتایا کہ مہنگائی کے طوفان نے لوگوں کا سکون برباد کر دیا ہے اور آئے روز حکومت مہنگائی کے دھماکے کر کے غریب عوام کی قوت خرید ختم کر رہے ہیں اس لئے ہر طرف مایوسی کا عالم ہے۔

عام لوگوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے کے لئے کچھ نہیں کیا اور نا ہی بے روزگاری ختم کرنے کے حوالے سے کوئی پروگرام ہے۔

انہوں نے کہا کہ لنڈی کوتل کی تاریخی حیثیت سے ان کے بچوں کو روٹی کا نوالہ تو نہیں ملتا اور تجویز دی کہ اگر حکومت یہاں کارخانے لگا کر لوگوں کو روزگار کے مواقع دے تو ٹھیک ورنہ آہستہ آہستہ اس بدحالی کی وجہ سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے جہاں ان کو روزگار ملے اور ان کے بچے تعلیم حاصل کر سکیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت اس حوالے سے کوئی سنجیدگی نہیں دکھا رہی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جلد یا بدیر لوگ فاقوں پر مجبور ہوں گے اور ایسے لوگ پھر جرائم کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس پر کنٹرول حکومت کے بس کی بات نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف غربت, بیروزگاری اور مہنگائی کے جن بے قابو ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف حکومت پانی اور بجلی جیسے مسائل بھی حل نہیں کر سکتی تو ایسے میں مقامی لوگ کیا کریں گے؟

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button