100 خوش نصیب پاکستانی اور 1984 کا شاہی حج!

رمل اعجاز

ارکان اسلام میں حج سب سے آخر میں آتا ہے، کہنے کو تو یہ رکن صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے لیکن کون ہے جو اللہ رب العزت کے گھر کا دلدادہ نہ ہو۔ رواں سال 2020 کی بات کریں تو حج فارمز کی فراہمی کے سلسلے سے لے کر جمع کرنے تک کا عمل انتہائی جوش و خروش سے ہوتے دیکھا گیا لیکن کون جانتا تھا کہ کرونا کی آمد سے ہر طرف ایک ٹھہراؤ سا آ جائے گا، زندگی تھم سی جائے گی اور تمام معاملات رک جائیں گے۔

سعودی حکومت کے فیصلے کو سنتے جس میں 1000 خوش نصیب افراد کے لیے حج کی ادائیگی کی نوید سنائی گئی مجھے 1984 کا شاہی حج یاد آ گیا جس میں 100 خوش بخت افراد کو ولی عہد کے مہمان بن کر حج کرنا نصیب ہوا تھا۔

میرے نانا، علی محمد عاصی صاحب بتاتے ہیں کہ میں 17 اگست 1984 کی ایک شام بطور سینئر ٹرین ایگزامینر پشاور اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا کہ مجھے ایوان صدر کی طرف سے دو ٹیلی گرام موصول ہوئے جن میں ذکر کیا گیا کہ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے آپ کا اور آپ کی اہلیہ کا نام فری حج کے لیے منتخب کیا ہے اور 22 اگست کو آپ کی روانگی ہو گی۔

ٹیلی گرام کو پڑھتے، اس خبر کا یقین نا کرتے، خوشی کے عالم میں مجھے 3 فروری 1984 کی وہ شام یاد آئی جب جنرل ضیاء الحق نے مجھے میری حج کی خواہش کا اظہار کرنے پر لکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کوئی سبب بنا ہی دے گا لیکن حج تو صرف صاحب استطاعت پر ہی فرض ہوتا ہے۔

یہ ہماری زندگی کا پہلا حج تھا، فوری طور پر ہم نے تیاری کی اور 20 اگست کو پشاور سے اسلام آباد  آ گئے جہاں ہمیں حج منسٹری نے دو دن کے لیے ایم این اے ہاسٹل میں ٹھہرایا گیا، ہم 100 بندوں کو جن میں سادہ اور وہ لوگ عمومی طور پر شامل تھے جو خود حج کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، اُس وقت کے ولی عہد عبداللہ کی دعوت پر بھیجا جا رہا تھا۔

 

ولی عہد عبداللہ اپنے پچھلے دورے پر جنرل ضیاء کی مہمان نوازی سے اس قدر متاثر تھے کہ 100 پاکستانیوں کو اپنے مہمان کے طور پر حج کے لئے بلوا لیا اور ہم ان خوش نصیبوں میں سے ایک تھے جنہیں یہ شاہی حج نصیب ہوا تھا۔

22 اگست کو جنرل ضیاء الحق نے الوداعی خطاب کیا جس میں یہ واضح کیا کہ ہم بطور خاص مہمان جا رہے ہیں جس کے بعد سعودی حکومت کی جانب سے خصوصی طیارہ آیا اور ہمیں دمام کے رستے سیدھا مدینہ منورہ لے پہنچا۔

ہمیں وہاں مسجد نبوی سے متصل الرحاب ہوٹل میں جگہ دی گئی۔ یہ وہی ہوٹل تھا جس میں مرحوم صدر ضیاء الحق بھی ٹھہرا کرتے تھے۔ کچھ دن یہاں قیام کے بعد ایک رات خصوصی طور پر ہمیں مسجد نبوی کھلوا کے ریاض الجنہ میں نوافل ادا کرنے اور روضہ رسول پر حاضری دینے کی سعادت بھی نصیب ہوئی کیونکہ اس وقت مسجد نبوی عشاء کے بعد سے فجر تک مکمل طور پر بند کر دی جاتی تھی۔

اب حج کے دن آ گئے تو ہمیں بذریعہ ہوائی جہاز جدہ لے جایا گیا جہاں المیریڈین ہوٹل میں قیام کیا۔ جب حج شروع ہوا تو ہمیں دو بسوں کے ذریعے مکہ مکرمہ لے آئے جن کو  باقاعدہ پولیس کی اسکارٹنگ بھی حاصل تھی، پولیس کی ایک گاڑی ہمارے آگے اور ایک ہمارے پیچھے تھی۔

خانہ کعبہ میں آ کر ہم نے طواف کیا جس کے بعد ہمیں سیدھا منٰی لے گئے جہاں ہمیں حرسالوطنی یعنی کہ وہاں کی فورس پولیس کے کیمپ میں ٹھہرایا گیا۔ منیٰ میں حرسالوطنی کے کیمپس میں دنیا بھر کی ہر نعمت، ہر سہولت بخوبی میسر تھی۔ منیٰ میں حج کے دوران ولی عہد عبداللہ نے تمام مہمانوں کے لیے خصوصی دعوت رکھی جس میں فرداً فرداً ہر شخص سے مصافحہ بھی کیا۔

حج کے ارکان پورے کرنے اور خصوصاً شیطان کو کنکریاں مارنے کا جو منظر تھا وہ میں نہیں بھول سکتا کہ ہماری دونوں بسوں ک آگے پیچھے پولیس کی سائرن والی گاڑیاں تھیں، ہمیں وہاں اتارا گیا اور رمی کا فریضہ بھی ہم نے انتہائی شاہی انداز میں سر انجام دیا۔ حج کے مکمل ہونے پر جدہ کے اُسی ہوٹل واپسی ہوئی جس کے بعد سعودی حکومت کا خصوصی طیارہ ہمیں اسلام آباد واپس لے پہنچا۔

ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اللہ پاک ہمیں اتنی سہولت کے ساتھ ساتھ شاہی انداز میں حج نصیب فرمائے گا۔

واپسی پر 11 ستمبر کی چھٹی کا دن تھا اور مجھے یاد ہے کہ ہم سیدھے آرمی ہاؤس گئے جہاں مرحوم ضیاء کو مل کر ان کی خوشی اور مسکراہٹ ہم بھول نہیں سکتی کہ جب ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا تو اُنھوں نے اپنی والدہ کی طرف اشارہ کیا کہ یہ ان کی دعاؤں کا نتیجا ہے۔ ان کی والدہ مرحومہ کی شفقت اور محبت ہمیں آج بھی یاد ہے۔ ہم نے ان کو وہاں کی ساری تفصیل سنائی جس پر ان کا کہنا تھا کہ یہ سب اللہ کی دین ہے۔

ہم زندگی بھر اس کہانی کو بھول نہیں سکتے کہ اللہ پاک نے ہمیں کیسے سہولت کے ساتھ حج نصیب فرمایا جس کا وسیلہ ضیاء صاحب بنے، ہم تو ہر وقت ان کو یاد کرتے ہیں۔

Show More

جواب دیں

Back to top button
Close