بچوں کے حقوق، 181 ممالک میں پاکستان کا 154واں نمبر

اقراء جاوید

ہر بچہ یا بچی کم عمری میں جب اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے محنت مزدوری کرتا یا کرتی ہے (تو یہ عمل) چائلڈ لیبر کہلاتا ہے پوری دنیا میں جس میں نہ صرف غربت بلکہ غفلت، بیروزگاری، تعلیم کی کمی، آبادی میں بے تحاشہ اضافے اور خوراک، زلزلہ اور نقل مکانی وغیرہ وغیرہ جیسی ماحولیاتی تباہ کاریوں کی وجہ سے بہت اضافہ ہوا ہے۔

یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 158 ملین بچے مزدوری سے وابستہ ہیں جن میں یومیہ دیہاڑی، گھریلو اور غیرگھریلو کام اور مفت محنت مزدوری شامل ہیں۔ چائلد لیبر میں وہ بچے بچیاں شامل ہیں جو بچپن سے یا تو گھروں سے دور اور یا گلیوں کوچوں میں محنت مزدوری کرتے ہیں جس کی وجہ سے ایسے بچے جن پر گھروں میں تشدد کیا جاتا ہے وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگ اٹھتے ہیں۔ مختلف مافیاز یا عسکری تنظیمیں ان بچوں سے جبری کام لیتی ہیں۔ ب

چوں کے حقوق کے حوالے سے دنیا کے 181 ممالک میں پاکستان کا نمبر 154واں ہے۔ ایک اور نجی سروے کے مطابق پاکستان میں سٹریٹ چلڈرن کی تعداد 15 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یونیسیف کی ایک رپورٹ (2017) کے مطابق پانچ سے سات سال کی عمر کے 16 فیصد بچے محنت مزدوری کرتے ہیں جن کا ہر طرح کا استحصال کیا جاتا ہے۔

 عوامل جو چائلڈ لیبر کا باعث بنتے  ہیں

مالی طور پر انتہائی کمزور طبقات یا زیادہ آبادی والے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچے روزی روٹی کمانے پر مجبور ہوتے ہیں یا اکثر و بیشتر ان کا تعلق ان گھرانوں سے ہوتا ہے جو گلیوں یا کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں پر رہتے اور وہاں سوتے ہیں۔ خوراک و دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے وہ انتہائی غیردوستانہ اور سخت ماحول میں انتہائی کم اجرت پر محنت مزدوری کرتے ہیں۔

قابل تشویش امر یہ ہے کہ اپنی بھوک مٹانے کے لئے وہ کوڑے کے ڈھیر سے بعض اوقات مضر صحت اور نقابل خوراک اشیاء کھاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ طرح طرح کی خطرناک بیماریوں کی زد میں رہتے ہیں۔

مزیدبرآں یتیم بچوں کو جبراً گھر سے باہر محنت مزدوری پر بھیجا جاتا ہے کیونکہ انہیں خود ہی اپنی بقاء کی جنگ لڑنا ہوتی ہے۔ وہ جوتے پالش کرنے، گاڑیاں دھونے، سڑکوں اور گلیوں میں چییں بیچنے، مستری خانوں میں، سٹیشنوں/اڈوں میں، بازاروں میں، کوڑا کرکٹ کے مقامات پر، بھٹہ خشتوں میں، کھیوں میں، چھوٹے کارخانوں میں، گھریلوں کاموں میں ، قالین بانی کی صنعت میں کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کا کام ان سے لیا جاتا ہے اور ان سب کاموں کی انہیں انتہائی معمولی اجرت دی جاتی ہے۔

پریشان کن امر یہ بھی ہے کہ پسمااندہ و غریب گھرانے بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے اپنے بچے بیچتے ہیں۔ نتیجتاً مافیاز یا گینگز ان بچوں سے بھیک منگواتے ہیں یا جسم فروشی و غلامی جیسے دیگر غلط کام کرواتے ہیں اور بعض اوقات غیرریاستی عناصر انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ بچے جو کام کرتے اور گلیوں میں رہتے ہیں وہ عسکریت پسند تنظیموں کا شکار ہو جاتے ہیں جو انہیں خودکش بمبار بنا دیتے ہیں۔ وہ منشیات فروشی اور اغواکاری میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔

اس  کے علاوہ یہ پوری صورتحال لڑکیوں کے لئے زیادہ پیچیدہ اور سنگین ہے جنہیں گھروں پر کل وقتی خادماؤں کے طور پر رکھا جاتا ہے جہاں آجر (ملازمت دینے والا) انہیں اپنی ذاتی جاگیر سمجھتا ہے، ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اکثر و بیشتر انہیں جسمانی و ذہنی طور  پر ہراساں کرتا ہے اکثر جس کا نتیجہ بچی کی موت کی صورت میں نکلتا ہے۔

2019 میں 16 سالہ گھریلو خادمہ عظمٰی، جو آٹھ ماہ سے کام کر رہی تھی، کھانا کھانے پر اپنی مالکن کے ہاتھوں بے رحمی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دی گئی۔ ایک اور دس سالہ لڑکی طیبہ ایک راجہ خرم علی نامی سیسشن جج کے گھر سے زخمی حالت میں برآمد ہوئی۔ یہ ہمارے تعلیم یافتہ لوگوں کا افسوسناک رویہ ہے۔

چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے فوری اقدامات

بچے کسی قوم کے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں، اگر یہ باقی رہتے ہیں تو قوم بھی آگے کی طرف جائے گی۔ چائلڈ لیبر کی اس لعنت کے خاتمے کے لئے ہمیں سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ کچھ ایسے اقدامات ہیں جو اس حوالے سے ممد ثابت ہو سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان بڑھتی ہوئی آبادی والا ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ ہمارے شہری لے پالک بچوں کی عزت نفس کو ممجروح کرتے ہیں۔ یہ پہلو کمزور یا کسی بھی طرح کا پس منظر نہ رکھنے والے بچوں کو نظرانداز کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان بچوں پر توجہ دی جائے۔ اگر  آپ مالی طور سے مستحکم ہیں تو ان بچوں کی ضروریات پر سرمایہ کاری کر کے پاکستان کے مستقبل کو مہیمیز دیں۔

پاکستان کی 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، ہر سال تقریباً چار لاکھ پینتالیس ہزار نوجوان گریجویٹ ہو جاتے ہیں جو نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے نظریے ”ایچ وَن ٹیچ وَن” (یعنی ہر ایک، ایک (بچے) کو پڑھائے) کو اپنا کر اس کام میں رضاکارانہ طور پر اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ہر ایک پڑھائی لکھائی کی مہمات کا آغاز کرے۔

سیاسی جماعتیں یوتھ ونگز کی شرکت کو ترجیح دیتی ہیں، یہ ونگز چائلڈ لیبر رائٹس  اور ان کی خصوصی تعلیم کے حواالے سے خصوصی قوانین کے نفاذ میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں جس سے مفت اور معیااری تعلیم کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان لڑکے لڑکیاں مشاورتی پروگرام شروع  کر سکتے ہیں جن میں یہ بچے بچیاں (چائلڈ لیبر والے) اپنے خدشات و تحفظات شریک کر سکتے ہیں۔ اس کے خاتمے کے لئے وہ والدین کے ساتھ کونسلنگ کا بھی آغاز کر سکتے ہیں۔

سول سوسائٹی ورکشاپس/آگاہی پروگرام کا انعقاد کر سکتی ہے اور اس حوالے سے ایک بیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔ کام کی جگہ پر ہراسانی، جسمانی و ذہنی استحصال کو سجھتے/جانتے ہوئے وہ گینگز یا مافیاز  جو انہیں جسم فروشی جیسے انتہائی سنگین جرائم کے لئے ہائر کرتے ہیں، کی شناخت کروا سکتے ہیں کیونکہ وہ ایک آسان ہدف ہوتے ہیں۔ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ اس لئے ایسے بچے جو اپنے لئے یا اپنے خاندان کے لئے روزی روٹی کا بندوبست کرتے ہیں ان کسے سکولوں میں داخلے کی حوصلہ افائی ہو نی چاہئے، سکولوں کے اوقات کار ایسے ہوں کہ ایسے بچوں کی بڑی تعداد کی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے، تکنیکی تعلیم اور تکنیکی اوزار کی فراہمی بھی ضروری ہے اور پھر اپنے کاروبار کے لئے ایسے بچوں کے ساتھ مالی امداد بھی ضرور ہونی چاہئے۔

میڈیا پاکستان میں اب ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ ان کی نو آبادکاری کے لئے جو حکومت اور بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں پر قوانین کے نفاذ کے لئے دباؤ ڈال سکتا ہے۔

ہر ایک کو قانون کی پابندی کرنی چاہئے اور کسی کو قانون کی خلاف ورزی پر مجبور یا آمادہ نہیں کرنا چاہئے۔ بااثر لوگوں کی مدد لے کر صنعتکاروں کو ان بچوں کے لئے پناہ گاہوں، تعلیمی اداروں اور صحت کی سہولیات کی فراہمی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر نوجوان کافی متحرک ہیں۔ سٹیزن جرنلزم کی مدد سے غیر محفوظ یا متاثر بچوں کی نگرانی کے لئے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے اور قوم کو بتایا جا سکتا ہے کہ چائلڈ لیبر ہے کیا اور اس میں کمی کس طرح لائی جا سکتی ہے۔

نوٹ: مضمون نگار اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام، یو این ڈی پی، کے یوتھ امپاورمنٹ پروگرام کی یوتھ امبیسیڈر ہیں۔ (سفیر برائے نوجوانان)

Show More

جواب دیں

Back to top button
Close