بلاگزعوام کی آواز

جہاں قانون، صفائی اور تعلیم اولین ترجیح! پاکستان کے ماڈل دیہاتوں کی حیران کن کہانی

حمیرا علیم

دنیا میں کئی علاقے ایسے ہیں جنہیں وہاں کے رہائشیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مثالی مقام بنا دیا ہے۔خوش قسمتی سے پاکستان میں بھی چند گاؤں کا شمار انہی میں ہوتا ہے۔ جہاں عوام نے گورنمنٹ کی بے توجہی بری کارکردگی کا رونا رونے کی بجائے خود وسائل پیدا کیے اور منظم طریقے سے کام کر کے اپنے گاؤں کو ترقی یافتہ بنا لیا۔ یہ سب لوگ باقی پاکستانیوں کے لیے ایک مثال ہیں۔

1: ٹنڈو سومرو کے چاروں طرف دس فٹ بلند دیوار موجود ہے، جو ایک کروڑ 40 لاکھ روپے کی لاگت سے 18 ماہ کے عرصے میں تعمیر کی گئی، جہاں دو سکیورٹی چیک پوسٹس ہیں۔ جدھر سے کسی کو بھی شناخت کے بغیر گاؤں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

گاؤں میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد رہتے ہیں اور یہاں زیر زمین نکاسی آب کا بہترین نظام موجود ہے۔ ڈرینج کی نالیوں کو لوہے کی جالیوں سے کور کیا گیا ہے تاکہ کوئی راہ گیر یا جانور اس میں گر کر زخمی نہ ہوں۔ ان انتظامات کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ لوگ اپنی حیثیت کے مطابق آمدن سے ایک حصہ جمع کرواتے ہیں۔ جس میں بڑے زمین دار کے ذمے بڑی رقم دینا لازمی ہے۔ بنیادی مسائل اور ان کے حل کے لیے سالانہ بجٹ تیار کیا جاتا ہے۔ جس میں گاؤں کا ہر فرد بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالتا ہے۔

گاؤں میں موجود عاصم ایگری کلچر فارم کا شمار پاکستان کے بڑے ایگریکلچر فارمز میں ہوتا ہے۔ زیادہ پیداوار حاصل کرنے والے کسان کو ’مین آف دی ایئر‘  ایوارڈ دیاجاتا ہے۔  گاؤں میں کبھی ڈکیتی یا بڑی چوری کی واردات نہیں ہوئی ۔جگہ جگہ کوڑے دان لگائے گئے ہیں۔ بجلی کے کھمبوں پر لکڑی کے باکس بنائے گئے ہیں تاکہ بارش کے دنوں میں لوگوں اور مویشیوں کو کرنٹ لگنے سے بچایا جا سکے۔اس گاؤں میں بچوں کے لیے سکول، کمپیوٹر لیب، پانی کے فلٹر پلانٹ، ہسپتال، لائبریری بھی موجود ہے۔

2: پنجاب کا رسول پور 3 ہزار کے قریب نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں شرح خواندگی 100 فیصد اور جرائم کی شرح صفر ہے جب کہ پورا گاؤں نان اسموکنگ زون ہے۔ 2 ہائی اسکول اور ایک پرائمری اسکول ہیں اگر کوئی بچہ ہائی اسکول کی تعلیم مکمل نہیں کرتا تو یہاں کے بزرگ اسے معاشرے کا حصّہ ہی نہیں سمجھتے۔ تمام خواتین پڑھی لکھی ہیں یہی  وجہ ہے کہ تمام بچے جیسے ہی 4 سے 5 سال کے ہوتے ہیں تعلیم شروع کردیتے ہیں۔

رسول پور ڈیولپمنٹ سوسائٹی  ایسے افراد کے لیے عطیات جمع کرتی ہے جو تعلیم کا خرچہ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔ یہ بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ کوئی بھی اسکول چھوڑ کر نہ جائے۔ یہاں کے پولیس اسٹیشن میں ایک صدی کے دوران کوئی کیس رجسٹرڈ نہیں ہوا جو ثابت کرتا ہے کہ یہاں کے لوگوں ہر ایک کے حقوق کے حوالے سے کتنے ذمہ دار ہیں۔گاوں کے مکین کبھی بھی اپنی حد سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کرتے۔

3: عالم پور گوندلاں کے ہر گھر کا کم و بیش ایک باشندہ دہری شہریت رکھتا ہے۔ گاؤں کے بانی عالم نے 70ء کی دہائی میں کوشش کر کے گاﺅں کے لوگوں کو یورپین ممالک خصوصاً ناروے بھیجنا شروع کیا۔ آج اس گاﺅں میں 200 گھر موجود ہیں اور ہر گھر کا کوئی نہ کوئی باسی دہری شہریت رکھتا ہے۔

4: صادق آباد کے گاﺅں بستی تبو کے رہائشی اپنے تمام مسائل اپنی مدد آپ کے تحت حل کرتے ہیں اور اس کے لیے حکومت سے کوئی مدد نہیں مانگتے۔ گاﺅں کا زیر زمین سیوریج سسٹم بہت منفرد ہے۔ استعمال شدہ پانی سیوریج کے ذریعے کھیتوں تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ جس سے زراعت کو بے حد ترقی مل رہی ہے۔ یہاں16 سے 49 سال کے لوگوں کو ماحولیات اور ڈیری فارمنگ کے حوالے سے خصوصی تعلیم دی جاتی ہے۔

5: فتو دیدو سندھ کے شہر بدین میں واقع ہے۔ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سب سڑکیں پکی کر لی ہیں۔ زیر زمین سیوریج سسٹم بھی بنا لیا ہے۔ اس گاﺅں کی ایک کمیٹی ہے۔ گاﺅں کا ہر معاملہ اس کمیٹی میں اٹھایا جاتا ہے۔ جو بھی سڑک پر کوڑا کرکٹ پھینکتا پایا جائے اسے کمیٹی کے حوالے کیا جاتا ہے جو اسے جرمانہ کرتی ہے۔ یہاں کا ہر گھر اپنے گاﺅں کو صاف رکھنے کے لیے کچھ رقم کمیٹی کو دیتا ہے۔

6: مظفر گڑھ کے قریب واقع گاﺅں احسان پور 166 گھروں پر مشتمل آبادی ہے اور مکمل طور پر سولر انرجی پر انحصار کرتی ہے۔ اس گاﺅں میں بجلی نہیں تھی اور کبھی حکومت نے اس طرف توجہ بھی نہیں دی۔ اہل دیہہ نے 20 ایکڑ پر اپنا ایک سولر پاور پلانٹ لگا لیا۔

7: ضلع اٹک کا ایک گاﺅں ڈھوک اتو بھی مکمل طور پر سولر انرجی استعمال کر رہا ہے۔

8: تحصیل کھاریاں کے دیہات پاکستان بھر میں امیر ترین دیہات ہیں۔ یہاں کے لوگوں کی اکثریت بیرون ملک مقیم ہے۔ یہاں بیرون ملک جانے کی شرح اس قدر زیادہ ہے کہ لوگ کھاریاں کو ”چھوٹا ناروے“ کہتے ہیں کیونکہ یہاں کے زیادہ تر لوگ ناروے میں رہتے ہیں۔

9: قصور ڈسٹرکٹ کا روشن بھیلہ گاؤں جو کہ کسی شہر سے کم نہیں۔ اس گاؤں کی کشادہ سڑکیں خوبصورت گراونڈز اور پبلک پارک کو دیکھ کر کسی بڑے شہر کے پارک کا گمان ہوتا ہے۔

10: پاہڑیانوالی اس وقت پنجاب کا سب سے خوبصورت گاؤں ہے۔ سڑک کے دونوں جانب کِنو اور بانس کے باغات ہیں۔ اس گاؤں کا کل رقبہ 1400 ایکڑ پر مشمل ہے ۔جن میں سے تقریباً 800 ایکڑ رقبے پر کِنو کے باغات لگائے گئے ہیں۔ اسی طرح گاؤں میں کِنو کو  پراسس کرنے کے لیے فیکٹریز بھی لگائی گئی ہیں جہاں سے کِنو سے بننے والی مصنوعات بیرون ممالک سمیت ملک بھر میں بھیجی جاتی ہیں۔

چک نمبر 19 کی آبادی چھ ہزار نفوس کے قریب ہے۔ یہاں دو سرکاری سکول بھی موجود ہیں ۔جبکہ ایک مسجد اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کی گئی ہے۔ گاؤں میں جگہ جگہ بڑے بڑے رنگ برنگ ڈرم بطور ڈسٹ بِن رکھے گئے ہیں تاکہ گلی میں کچرا نہ پھینکا جائے جب کہ خاکروب بھی اپنا کام کرتے ہیں جنہیں گاؤں کے لوگ ہی تنخواہ دیتے ہیں۔ ہر ماہ کے آخر میں ہر گھر سے ایک مخصوص رقم جمع کی جاتی ہے۔ جو گاؤں کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے خرچ کی جاتی ہے۔

گاؤں میں پرندے کم ہو رہے تھے تو رہائشیوں نے گھونسلے بنائے جن میں آج بے شمار پرندے موجود ہیں۔ گاؤں میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں جب کہ جگہ جگہ واٹر فلٹریشن پلانٹس بھی لگائے گئے ہیں۔

سڑکیں اگرچہ حکومت نے تعمیر کی ہیں لیکن اس کی خوبصورتی بڑھانے میں مقامی لوگوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی لوگوں نے دو سڑکیں خود تعمیر کی ہیں۔ گاؤں کے مختلف حصوں میں پارکس بنائے گئے ہیں جہاں بزرگوں کے آرام کے لیے بینچ رکھے گئے ہیں جب کہ خوبصورت روشنیاں بھی لگائی گئی ہیں۔ اسی طرح قبرستان میں بھی شجر کاری کی گئی

مقامی لوگ بھی اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ گاؤں کو ایک ایسے انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہاں مویشی آزادی کے ساتھ پھر رہے ہوتے ہیں لیکن گاؤں کی صفائی ستھرائی پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیوں کہ  لوگ ہمہ وقت صفائی میں مصروف ہوتے ہیں۔

11: ماموں کانجن گاؤں کی آبادی دس ہزار سے زائد ہے۔ یہاں صرف ایک مرکزی مسجد ہے اس مسجد میں تمام لوگ نماز جمعہ اور عید کی نمازیں پڑھتے ہیں۔ آذان صرف مرکزی مسجد میں دی جاتی ہے جو کہ تمام مساجد کے لاؤڈ اسپیکر پر سنی جاتی ہے۔ گاؤں 493 گ ب میں سگریٹ نوشی پر پابندی عائد ہے۔ گزشتہ 7 سے 8 برس سے کسی دکان پر سگریٹ تک فروخت نہیں ہوئی۔ شادی بیاہ پر بینڈ باجے بچانے اور آتش بازی پر بھی پابندی ہے اور علاقے کی صفائی کا ذمہ خود گاؤں والوں نے اٹھا رکھا۔

گاؤں کے تمام لوگ امام مسجد کی بات مانتے ہیں اور انہی کے حکم پر گاؤں میں سگریٹ نوشی پر پابندی ہے۔ تاہم گاؤں کے تمام بڑے بوڑھوں کو اپنے گھروں کے اندر صرف حقہ پینے کی اجازت ہے۔ یہاں نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ویلفیئر سوسائٹی بنا رکھی ہے اور صفائی ستھرائی کا کام ان کے ذمہ ہے۔

اگر چند گاؤں کے لوگ اپنی محنت، ایمانداری اور باہمی تعاون سے اپنے علاقے کو مثالی بنا سکتے ہیں تو باقی پاکستانی بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے اجتماعی شعور، دیانت دار قیادت، اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ صفائی، قانون کی پاسداری، تعلیم اور اخوت جیسے اصولوں پر عمل کر کے ہر محلہ، ہر گلی اور ہر شہر خوبصورت اور منظم بنایا جا سکتا ہے۔ اصل مسئلہ نیت، عزم اور مسلسل محنت کا ہے، اگر ہر شہری اپنی جگہ ایمانداری سے کام کرے تو پورا ملک ترقی یافتہ اور مثالی بن سکتا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button