مہنگائی ہے تو اخراجات کو کیسے بیلنس کر سکتے ہیں؟

نشاء عارف
اگر مہنگائی ہے تو اپنے اخراجات کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے کیونکہ مہنگائی میں کمی کرنا غریب عوام کا کام نہیں ہے نا وہ کم یا ختم کر سکتے ہیں لیکن آمدن کے مطابق اخراجات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ لیکن کیسے ؟ اس حوالے سے ہم نے چند لوگوں سے بات کی ہے وہ کیا کہتے ہیں۔
زینب بی بی جن کی عمر تقریبا 73 سال ہیں وہ بتاتی ہیں کہ نئ نسل فضول خرچ اور مست ہیں، وہ اگر اپنی حیثیت کے مطابق زندگی بسر کریں تو معاشی حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ لیکن نہیں آج کل کے لوگ تو دکھاوا کرنے کے عادی ہوگئے ہیں۔
وہ مزید بتاتی ہیں کہ روزمرہ اخراجات سے لے کر شادی بیاہ کی تقریبات تک سب کچھ بہت ایڈوانس ہو گیا ہے وہ اپنے زمانے کی بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ان کے زمانے میں چھوٹی عید پر نئے کپڑے بنائے جاتے اور بڑی عید پر بھی اسی کو پہنا جاتا۔ اسی طرح شادی بیاہ کی تقریبات بھی بہت سادہ ہوا کرتی تھی، ایک یا دو دن کی تقریب ہوتی اور چاول گوشت بنا کر لوگوں کو کھلایا جاتا تھا۔ لیکن اسکے برعکس امیر لوگوں کی شادی تھوڑی مختلف ہوا کرتی تھی۔ 80 کی دھائی میں امیر اور غریب کے اٹھنے بھیٹنے سے لے کر شادی بیاہ تک میں واضح فرق ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب کسی بھی تقریب میں جاؤ یا کسی کو ویسے ہی دیکھ لو کچھ پتہ نہیں کہ یہ امیر ہے کہ غریب۔
مہنگائی کا مقابلہ کیسے کریں اس سوال کے جواب پر زینب بی بی کہتی ہیں کہ آمدن کے حساب سے اگر کوئی خرچ کریں تو آسانی ہوگی لیکن لباس، رہن سہن، کھانا پینا سب اوقات آمدن سے تجاوز کر گیا ہے۔ مہنگائی بھی ہے اور بہت کمر توڑ مہنگائی ہے لیکن اسکے لیے حل ڈھونڈنا بہت ضروری ہے۔ مہنگائی میں کمی نہیں کرسکتے، لیکن اپنے اخراجات میں کر سکتے ہیں۔ جتنی چادر ہو اتنے ہی پاؤں پھیلانے چاہے۔
دوسری جانب پشاور شہر کے 68 سالہ خان ولی کہتے ہیں کہ سونا اتنا مہنگا ہوگیا ہے کہ مڈل کلاس کے لوگوں کے لیے بھی خواب بنتا جا رہا ہے۔ لیکن ہر کوئی اپنے بیٹے کی تب ہی شادی کرتے ہیں جب تک سونے کے زیورات نا بنائے جائے اور نا ہی لڑکی والے تاریخ دیتے ہے، جب تک جو وعدہ کیا گیا ہے اس حساب سے زیور نا بن جائے ۔ اسی طرح والدین بھی اپنی حیثیت سے زیادہ جہیز دیتے ہیں ۔ قرض لیتے ہیں چاہے سود پر ہی قرض لیا جائے۔
خان ولی بتاتے ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے تو ایسی غربت دیکھی تھی کہ دو جوڑے ہوتے تھے، چپل جب پھٹ جاتے تو ان کو موچی سے دوبارہ مرمت کروانا پڑتا تھا اور پھر وہی مرمت شدہ چپل کئی مہینوں تک استعمال کیا جاتا تھا ۔ کھانا پینا بھی بہت سادہ ہوا کرتا تھا۔ ان کے خیال میں اب تو لوگ امیر ہیں۔ لوگ مہنگائی رونا دھونا بند کر دیں، کیونکہ بازار جاؤ تو رش، شادی بیاہ یا کوئی بھی تقریب جاتا ہوں تو لوگوں نے اخراجات کے لحاظ سے تباہی مچائی ہوتی ہے۔
شادی کی تقریبات اب ہفتوں تک چلتی ہیں، عجیب و غریب رسم و رواج نمودار ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے سیلبرٹی اور سٹارز کی شادی و تقریبات چل رہی ہوتی ہیں جن کی دیکھا دیکھی عام لوگ بھی وہی کر رہے ہیں ۔ دوسروں کو کاپی کر کے وہی رسومات ہمارے معاشرے میں بھی جنم لے رہی ہیں، جو یہاں کی ثقافت تھی وہ بھی دوسروں کے ساتھ مکس ہوگئی ہے۔
ارم جو پشاور یونیورسٹی سے اکنامکس میں ایم ایس کر رہی ہیں بتاتی ہیں کہ پاکستان جیسا غریب اور قرض دار ملک، جس میں مہنگائی سے پریشان لوگوں کو اول آمدن بڑھانا ضروری ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ وہ اپنے اخراجات کو با آسانی کنٹرول بھی کر سکتے ہیں کیونکہ جب آمدن اور اخراجات بیلنس نا ہو تو حالات مزید خراب ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے تو ان کو برابر کریں، جتنا کماتے ہو اتنا ہی خرچ کیا کریں۔ پھر سیونگ بہت ضروری چیز ہے، کسی بھی ناگہانی حادثہ کے لیے اپنی آمدنی سے رقم بچانا بہت ضروری ہے۔
ارم بتاتی ہیں کہ غربت بہت زیادہ ہے اور ساتھ میں بے روزگاری الگ مسئلہ ہے لیکن اسکے باوجود ہمارے ملک اور معاشرے کے لوگ بہت فضول خرچ بھی ہوگئے ہیں ہر تقریب پر بے جا خرچہ کیا جاتا ہے جس کی وہ استطاعت نہیں رکھتے۔
سونے چاندی اور غیر ضروری رسم و رواج کے بغیر بھی شادی ہو جاتی ہیں اس کو اپنے دماغ پر حاوی کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ارم خواتین کو بتانا چاہتی ہے کہ وہ اس مہنگائی میں اپنے اخراجات کم کرکہ مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں اور غیر ضروری فرمائش سے اجتناب کریں ۔
اخراجات کو کن طریقوں سے کم کیا جا سکتا ہے، ارم بتاتی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر خواتین ہی امور خانہ داری سنبھالتی ہیں، وہ اپنے مہینے کی آمدن کا تخمینہ لگائے کہ ان کے شوہر، والد ،بھائی یا کمانے والا پورے مہینے میں کتنا کماتا ہے، اس حساب سے پہلے راشن کی خریداری سے لے کر استعمال تک ٹھیک طریقے سے پلانگ کریں ، بے جا بجلی و گیس کے استعمال سے گریز کریں تاکہ بل کا جو بجٹ ہے اسکے مطابق بھر سکیں۔ فضول خرچی سے اجتناب کریں ، شادی بیاہ و دیگر تقریبات میں غیر ضروری رسم و رواج کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان تمام غیر ضروری اخراجات، انواع و اقسام پکو ان کے بغیر بھی تقریبات ہو جاتے ہیں ۔ لوگ کھانا کم کھاتے اور زیادہ ضائع کرتے ہیں اور پیسوں کی بھی بربادی ہے۔ ان رسم رواج نے پاکستان جیسے غریب ملک میں ہر کام کو مشکل ترین بنا دیا ہے۔
اگر زندگی ان چند اصولوں پر گزاری جائے تو اپنی مشکلات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔