جنازہ ہے تو کیا ہوا؟، تم نئی نویلی دلہن ہوں، سج دھج کر جاؤ انکے گھر
پشتون روایات اور تبدیلی کی ضرورت: ایک ذاتی تجربہ

ایزل خان
میرا تعلق پشتون برادری سے ہیں، جو تاریخ سے مالا مال اور وسیع ثقافتی تنوع کی حامل ہے۔ دیگر نسلی گروہوں کی طرح، پشتون معاشرے میں بھی ہر علاقے کے لوگ اپنے منفرد رسم و رواج اور زندگی کا طرز رکھتے ہیں، جو ان کے جداگانہ ہونے کی دلیل ہیں۔
پشتون برادری کی بات کی جائے تو یہ بھی کئی روایات اور رسم و رواج کی حامل ہے جو نسلوں سے چلی آ رہی ہیں، اور یہ لوگ اپنے ابتدائی قول و فعل کے مطابق اپنی ثقافت کو نہایت پیار اور شفقت سے محفوظ رکھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ رسمیں مذہبی تعلیمات کے خلاف ہیں اور ان کو مذہب کی روح سے متصادم سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً، بعض پشتون خاندانوں میں خاندانی تنازعات کو انتقام اور خون خرابے کے ذریعے حل کرنے کی روایت عام ہے، جو اسلام میں منع کی گئی ہے کیونکہ اسلام معافی اور صلح کی تعلیم دیتا ہے۔
اسی طرح، بعض مقامات پر خواتین کی تعلیم کو محدود کرنے یا ان کے حقوق کو دبانے جیسی روایات بھی دیکھی جا سکتی ہیں، جو اسلام کی روح کے خلاف ہیں جو علم کی فراہمی اور خواتین کے حقوق کو تحفظ دیتی ہے۔ ان روایات کا ثقافتی پس منظر مضبوط ہو سکتا ہے، لیکن اسلام کی حقیقی تعلیمات کے مطابق ہر فرد کے حقوق اور انصاف کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
شاید آپ کو میرے ساتھ یہ اتفاق کرنا پڑے کہ جب میں مختلف علاقوں میں غیر مانوس رسمیں دیکھتی ہوں تو یہ کچھ لمحوں کے لیے واقعی مجھےحیران کر دیتی ہیں۔ میں سوچتی ہوں،”یہ رسم و روایات کس طرح وجود میں آئیں ہیں؟ کس نے یہ شروع کیا؟ یہ کب اور کیسے ختم ہونگی؟” خاص کر موجودہ اکیسویں صدی میں، جب تعلیم اور علم کی موجودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، پھر بھی ایسے معاملات کو دیکھ کر انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے۔ اس کے باوجود، آج کے نوجوان، خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں، ان نقصان دہ اور غیر ضروری رسومات کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔
میری اپیل ان تمام لڑکیوں اور نوجوانوں سے ہے جو سمجھتے ہیں کہ تعلیم محض کتابوں سے علم حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ شعور اور علم کو معاشرے میں پھیلانے کا بھی ذریعہ ہے۔ لہذا، ضروری ہے کہ ہم ان رسم و رواج، روایات، اور قدیم طریقوں سے پیچھا چھڑائیں جو اب اہمیت نہیں رکھتے، تاکہ ایک صاف ستھرے اور علم سے بھرپور مستقبل کی تعمیر کی جا سکے۔
یہاں میں آپ کو ایک اپنی ذاتی کہانی اور تجربہ بتاؤں گی کہ جب میری شادی ہوئی تو یہاں کے لوگوں کو میں نے بہت زیادہ روایات میں ڈوبا ہوا دیکھا۔ ہر انسان کی سوچ کچھ نہ کچھ کرنے تک محدود ہوتی ہے جس سے کوئی کہے گا کہ ہائے کیا اچھی روایات پر چل رہے ہیں۔
اس دلدل میں، آپ یہ نہیں دیکھتے کہ میں صرف لوگوں کو خوش کرنے اور متاثر کرنے کے لیے انسانی اخلاقیات اور مذہب سے کس حد تک پیچھے جا رہا ہوں۔ یہ سب میرے لیے بہت حیران کن تھا، میں اس طرح اس دلدل میں کبھی نہیں رہنا چاہتی تھی۔ میں نے یہاں ایک بات نوٹ کی ہے کہ جب خاندان میں کوئی فوت ہو جاتا تو خاندان کی دیگر خواتین، جن میں سے زیادہ تر، نئے کپڑے خریدتی ہیں، جیسے کوئی شادی کی تیاری کرتا ہے۔ اس لیے کہ میت کے گھر بے شمار لوگ آتے ہیں اگر میرے کپڑے بالکل نئے یا ایک جیسے رنگ کے نہ ہو تو لوگ باتیں کرنے لگتے ہیں۔
یا اگر کوئی لڑکی نئی نئی شادی شدہ ہو یا لڑکا نیا شادی شدہ ہو اور دو، تین ماہ یا ایک سال کے اندر گھر یا خاندان کا کوئی فرد فوت ہو جائے تو اہل خانہ یا لڑکی میت والے گھر جاتی ہے۔ تو گھر کی تمام عورتیں دلہن سے کہتی ہیں کہ اپنے آپ کو سجاؤ، اپنے زیورات پہناؤ، خوبصورت کپڑے پہنو، اگر تم سادہ اور بغیر زیور پہننے میت کے گھر جاؤگے تو سب باتیں کریں گے کہ یہ سسرال کے گھر میں خوش نہیں ہے۔
میری شادی کے تقریباً ایک ماہ بعد، میرے شوہر کی خالہ کی انتقال ہو گیا، جب ہم سب ایک فیمیلی کے طور پر وہاں جانے کی تیاری کی تو میں تیار ہو گئی۔ لیکن میں نے سادہ لباس اور حجاب پہنا ہوا تھا، میری نند میرے کمرے میں آئی اور مجھ سے کہا کہ اتنے سادہ حلیے میں میت کے گھر میں نہ جانا، کیونکہ وہاں لوگ باتیں کرے گے۔ میں نے حیرانی سے اس سے پوچھا کہ لوگ کیوں باتیں کرتے ہیں؟ اس نے کہا، "اپنے زیورات پہن لو، اپنا میک اپ کرو، اور اپنے کپڑے بدلو۔” میں اس پر ہنسی اور کہا، "تم مجھ سے مذاق کر رہی ہو، ہم شادی میں نہیں جا رہے، ہم جنازے میں جا رہے ہیں، اس نے کہا، "میں جانتی ہوں کہ ہم جنازے میں جا رہے ہیں۔ یہاں لوگ دلہن کے زیورات نہ پہننے یا خوش نا ہونے کی بات کر رہے ہیں۔”
میرے لیے یہ بات بالکل حیران کن تھی کہ اس دور میں بھی ہمارے ذہن اتنے پسماندہ ہیں۔ حتیٰ کہ جنازوں میں بھی، ہم اپنی سجاوٹ، نئے کپڑوں اور اور کلرز میچ کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں۔جب ہم وہاں پہنچے تو میری نند کی بات سچ تھی۔ لاش گھر میں پڑی ہے اور پورا خاندان سوگوار ہے۔ تمام خواتین ایک دوسرے سے میرے بارے میں پوچھ رہی تھیں کہ کیا اب اس لڑکی کی شادی ہو گئی ہے؟وغیرہ وغیرہ میت کے جنازے پر اسکی بیٹیاں رو رہی تھیں اور تمام عورتوں میں سے کوئی بھی اسے تسلی دینے نہیں آئی۔ ان کی ایک بیٹی بیہوش ہوگئی۔
میں نے اس کی بیٹیوں کو تسلی دی، میں نے بے ہوش لڑکی کو جگایا، تمام خواتین حیرت سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ اگرچہ میں نے لوگوں کی توجہ مبذول کرنے کے لیے ایسا نہیں کیا، لیکن انسانی ہمدردی اور جذبات نے مجھے مجبور کیا۔ بعد میں، میری ساس، نند اور دیگر خواتین نے مجھے بتایا کہ تمام خواتین آپ کی تعریف کر رہی تھی کہ وہ کتنی با احساس ہیں۔
میں ہمیشہ غیر ضروری رسم و رواج کے خلاف رہی ہوں اور میں ہمیشہ اپنے آپ سے اور اپنے خاندان سے شروع کرتے ہوئے اسے تبدیل کرنے اور ختم کرنے کی کوشش کرتی آرہی ہوں۔ یہ آسان نہیں تھا، اور میں نے کئی بار اس کے بارے میں ملی جلی باتیں سنی ہیں، لیکن میں ثابت قدم رہی کیونکہ میں جانتی ہوں کہ تبدیلی میں وقت لگتا ہے۔
صرف ایک بار میں نے اپنے گھر والوں کی طرف سے یہ ایک رسم، جس میں خود کو سجانے کی درخواست پر رضامندی ظاہر کی اور وہ بھی اس لیے کہ میری شادی کا اتنا عرصہ نہیں ہوا تھا،ہم ایک دوسرے کی عادتوں کو اتنا نہیں سمجھتے تھے۔
اس کے بعد، میں نے آج تک دوبارہ ایسا نہیں کیا، اور کچھ حد تک، میں نے اپنے سسرال کی فیمیلی میں بھی اس رواج کو کم کیا ہے۔ ذہنوں میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کریں، چاہے وہ آپ کے بزرگ ہوں یا آپ کے نوجوان، اگر کوئی چیز یا کام اسلام، اخلاقیات، یا انسانیت کے خلاف ہو تو روایت کے نام پر اس کی مخالفت کریں اور عوام میں بیداری پھیلائیں۔