بلاگزعوام کی آواز

ریگنگ کے نام پر استحصال، کب ختم ہوگا یہ غیر منصفانہ رویہ؟

حمیراعلیم

انڈیا میں نرسنگ کالج میں ریگنگ کے دوران سینئرز نے جونیئرز پر بدترین تشدد کیا جس پر سینئرز کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے جونیئرز کو بیڈ سے باندھ کر برہنہ کر کے جیومیٹری ڈیوائڈر سے ان کے جسم پر ضربیں لگائیں ۔ان کے نازک اعضاء سے ڈمبل باندھ کر لٹکا دئیے۔ان کے زخموں پر ایسا سلوشن ڈالا جس سے ان کی تکلیف میں اضافہ ہوا اور ان کے چلانے پر وہی سلوشن ان کے منہ میں بھی ڈالا گیا۔

ساری دنیا کے تعلیمی اداروں میں نئے داخل ہونے والے طلبا کے ساتھ سینئرز ریگنگ کرتے ہیں، مگر تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے ہلکا پھلکا مذاق ہی کیا جاتا ہے۔ جہاں بات تشدد تک پہنچ جائے وہ ہراسگی کے زمرے میں آتی ہے۔

مجھے یاد ہے اپنے زمانہ طالبعلمی میں گریجویشن تک تو ہم اس سے بچے رہے۔ مگر ماسٹرز میں سینئرز نے لیکچررز بن کر ہم سے بڑے طریقے سے پیسے نکلوائے اور انہی میں سے ہمیں ٹریٹ دی تھی۔اور اس مذاق میں ہمارے اساتذہ نے ان کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ایسے مذاق کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن جب کسی کی جان پر بن جائے تو اس قسم کی ایکٹیویٹیز پر پابندی لگا دینی چاہئے ۔

چند سال پہلے ایک حساس ادارے کے ٹریننگ انسٹیٹوٹ میں سینئرز نے ایک جونیئر کو اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا کہ اس کا انتقال ہو گیا۔لیکن اس سارے واقعے کو حادثہ کہہ کر دبا دیا گیا۔

نئے آنے والوں کو ہراساں کرنا ان کی تذلیل کرنا ایک قابل مذمت فعل ہے اور کئی ممالک میں ممنوع ہے۔اگرچہ اسے تفریح کے لیے ایک بے ضرر عمل سمجھا جاتا ہے لیکن کچھ طلباء کی ذہنی صحت اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔ خصوصا ان کی جو کسی گاؤں یا چھوٹے شہر سے بڑے شہر کے اچھے تعلیمی اداروں میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آتے ہیں۔جن میں خوداعتمادی کی کمی ہوتی ہے۔اگر انہیں کسی ہراسگی کاسامنا کرنا پڑے یا ان کی کسی کمی کا تمسخر اڑایا جائے تو ان کے لیے کئی  نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں تو بچے تعلیمی ادارہ ہی چھوڑ جاتے ہیں۔

نئے طلباء سے جوتے پالش کروانا، سردی یا گرمی میں کھڑا کر دینا، ان سے کینٹین کا بل دلوانا، ان پر جسمانی تشدد کرنا، کپڑے اتروانا، طالبات کے چہرے پر سگریٹ کے دھوئیں کے مرغول پھینکنا، ان کے بیگ چھین کر سب کے سامنے الٹ  دینا، کلاس میں ان سے الٹے سیدھے سوال پوچھنا، سینئرز کا اپنے لیے کوئی خاص خطاب دے کراسی سے بلانے کی ہدایت کرنا۔

ہاسٹل میں ان کی کسی فطری کمزوری پر مذاق اڑانا، مخصوص نعرے لگانے یا دوسروں کے ساتھ جھگڑے پر مجبور کرنا،عجیب وغریب حرکات کرنے یا لباس پہننے پر مجبور کرنا ، نشہ آور اشیاء استعمال کرنے پر مجبور کرناوغیرہ ریگنگ کے کچھ طریقے ہیں۔

2023 میں پنجاب یونیورسٹی میں سینئرز نے جونیئرز کو لڑکیوں کی موجودگی میں لباس اتارنے پر مجبور کیا۔ ایک طالبعلم جو نفسیاتی مسائل کی وجہ سے پہلے ہی اینٹی ڈپریسنٹس لے رہا تھا اس قدر ڈسٹرب ہوا کہ کمرے میں بند ہو گیا اور لوگوں سے ملنا جلنا ہی چھوڑ دیا۔اس کے گھر والوں کو ڈر تھا کہ کہیں وہ خود کو نقصان نہ پہنچا لے۔

جب طلباء نے ریگنگ کی شکایت انتظامیہ سے کی تو ان کا کہنا تھا اگر سینئرز کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا تو جونیئرز کے لیے مشکلات ہوں گی۔انہیں اگلے چند سال ادارے میں گزارنا ہیں اس لیے بہتری اسی میں ہے کہ وہ خاموشی سے یہ سب سہتے رہیں۔

کچھ کے نزدیک شاید ان واقعات کو رپورٹ کرنا یا کسی کو اس بارے میں بتانا ایک کمزوری ہے۔ اس لیے وہ کسی سے اس کا ذکر ہی نہیں کرتے مگر ساری زندگی اس کے نتائج بھگتتے ہیں۔کچھ لوگ تو اس قدر خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ تعلیمی ادارے سےنکل کر بھی ہجوم میں جاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔

کوئی اونچی آواز میں ان سے مخاطب ہو تو شدید خوفزدہ ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں بلی کرنے والے یاد آ جاتے ہیں۔ متشدد لوگوں کو تشدد اور لڑائی جھگڑا کرنے میں مزا آتا ہے اور انھیں یہ سب ’کُول‘ لگتا ہے۔ وہ اسے تشدد نہیں بلکہ تفریح سمجھتے ہیں۔ ریگنگ صرف سول اداروں کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملٹری کے ادارے بھی اس کا سدباب نہیں کر پاتے۔اکثر ڈراپ آوٹ کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے۔ کچھ طلباء جو مستقل اس کاشکار ہوتے ہیں اپنے جونیئرز سے بدلہ لینے کے لیے نت نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں۔

کچھ ممالک میں ریگنگ کے لیے سخت اصول ہیں وہاں اینٹی ریگنگ کمیٹیز بنائی جاتی ہیں اور اگر کوئی طالب علم اس عمل میں ملوث پایا جائے تو اسے ادارے سے نکال دیا جاتا ہے، متاثرہ طالب علم اینٹی ریگنگ کمیٹی یا انتظامیہ کو شکایت درج کروا سکتا ہے یا پولیس میں رپورٹ کر سکتا ہے۔

مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا کوئی اینٹی ریگنگ قانون نہیں ہے ماسوائے اس کے کہ ہراسگی کے قانون کے تحت ایسے طلباء پر مقدمہ چلایا جائے۔ مگر ہ۔ارے عدالتی نظام کو دیکھتے ہوئےآج تک شاید ہی ایسا کوئی مقدمہ کیا گیا ہو۔

اس لیے سینئرز اپنی برتری ریگنگ کے ذریعے جتانا اپنا حق سمجھتے ہیں۔اور جونیئرز اپنا تعلیمی کیریر بنانے کے لیے اسے سہنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔

حکومت اور تعلیمی اداروں کو ریگنگ کے خاتمے کے لیے ایسا  قانون بنانا چاہئے جیسا کہ سری لنکا اور جموں کشمیر میں ہے۔ ریگنگ کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے تاکہ طلباء خوشگوار ماحول میں تعلیم مکمل کر سکیں۔

کیونکہ اب تو ملک کی بڑی یونیورسٹیز میں بھی اس روایت کو اس قدر مسخ کر دیا گیا ہے کہ ہاسٹل اور کیڈٹ کالجز تک میں طلباء کو ریپ کیا جا رہا ہے۔ جن بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا ذہنی یا جسمانی تشدد ہوتا ہے وہی بڑے ہو کر مجرم بنتے ہیں۔اگر معاشرے میں پر امن شہری چاہیے تو اپنے تعلیمی اداروں کو پرامن بنانا ہو گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button