TAD دستاویزات کے بغیر گاڑیوں کو افغانستان جانے کی اجازت نہیں، کسٹم حکام
طورخم بارڈر پر بغیر TAD دستاویزات افغان پناہ گزینوں کو مشکلات، واپسی کے عمل میں رکاوٹیں بڑھنے لگیں

ازلان آفریدی
پاک افغان طورخم بارڈر پر افغانستان واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کے قافلوں کے ہمراہ پنجاب و دیگر اضلاع سے آنے والی گاڑیوں کو ٹیڈ (Temporary Admission Documents – TAD) دستاویزات نہ ہونے کی صورت میں سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس کے باعث متاثرہ خاندانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
کسٹمز حکام کے مطابق TAD پالیسی گزشتہ سال سے نافذالعمل ہے اور اس کے بغیر کسی بھی گاڑی کو افغان سرزمین میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پناہ گزین خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کرائے پر ایسی گاڑیاں حاصل کیں جن میں ان کا گھریلو سامان موجود ہے، لیکن TAD دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں سرحد پر گاڑیاں خالی کرنا پڑ رہی ہیں، جس سے نہ صرف وقت اور پیسہ ضائع ہو رہا ہے بلکہ خواتین اور بچوں کو بھی غیر ضروری اذیت برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔
چنیوٹ سے آئے ایک افغان پناہ گزین گل آغا نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان اور سامان سمیت 18 گھنٹے کا سفر طے کرکے طورخم پہنچے، لیکن ٹرک کے پاس TAD نہ ہونے کی وجہ سے ان کا سامان دوسرے ٹرک میں منتقل کرنا پڑا، جس پر انہیں دوگنا کرایہ ادا کرنا پڑا۔
کسٹمز ذرائع نے کہا ہے کہ بغیر TAD کسی بھی گاڑی کو افغانستان جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس لیے وطن واپسی کے خواہشمند پناہ گزینوں کو ایسی گاڑیوں کا انتخاب کرنا چاہیئے جن کے پاس مذکورہ دستاویزات مکمل ہوں۔
ادھر افغان مہاجرین کی واپسی کی سرکاری ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد خیبرپختونخوا میں افغان باشندوں نے اپنے کاروبار سمیٹنا شروع کر دیے ہیں۔ پشاور کے مختلف تجارتی مراکز میں افغانیوں کی دکانیں، دفاتر اور کاروباری سرگرمیاں بند ہو چکی ہیں۔
نادرا کے تحت جاری قومی تجدید و تصدیق مہم کے دوران درجنوں افغان باشندوں کے شناختی کارڈ منسوخ کیے جا چکے ہیں، جبکہ 11 اپریل کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی متوقع ہے۔
واضح رہے کہ عیدالفطر کے باعث افغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن میں عارضی توسیع کی گئی تھی، تاہم حکام کے مطابق اب اس میں مزید اضافہ نہیں ہوگا اور بغیر قانونی حیثیت کے مقیم افراد کے خلاف گرفتاریوں کا عمل جلد شروع کر دیا جائے گا۔